تھر کی ثقافت کا خاتمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اُس دن ہم مٹھی کے قریب واقع چھوٹے سے شہر ”چیلہار میں سندھ کی تاریخ۔ تمدن۔ روایات و ثقافت پر بحث کر رہے تھے۔ تھر کے لوک ادب پر ریسرچ کرنے والے نوجوان محقق و شاعر بھارو مل امرانی ہمارے میزبان تھے۔ محکمہ ثقافت سندھ کی جانب سے حال ہی میں بھارو مل امرانی کی تھر کے لوک ادب پر چار کتابیں شایع ہو چکی ہیں۔

رات کا کھانہ بھارو مل امرانی نے اپنے گھر پر بنوایا تھا۔ اور وہ خالص تھر کا روایتی ثقافتی کھانا تھا۔ جس میں گوار کی خشک پھلی فرائی کی ہوئی تھی۔ کَچریاں تھیں۔ پاپڑ اور خشک مَریڑے کی سبزی اور خشک کھمبی شامل تھی۔ بھارو مل نے ہمیں بتایا یہ سب چیزیں وہ بارش کے دنوں خشک کرکے گھروں میں سکھا کر رکھتے ہیں جو سال بھر استعمال ہوتی ہیں۔

بھارو مل کے ساتھ تھر کے اِس سفر میں ہمارا دوسرا پڑاٶ ”سُورییے جو تَڑُ“ تھا۔ جو ریت کے ایک بہت ہی اونچے ٹیلے کے دامن میں میگھواڑ کمیونٹی کے لوگوں کا بڑی آبادی والا گاٶں ہے۔ یہاں ہم نے دیکھنا تھا کہ چرخے پر بھیڑ کی اُون سے دھاگہ کیسے بنتا ہے۔ چرخہ کو مقامی لوگ ارٹُ اور بھیرم بھی کہتے ہیں اور سندھی میں اس کا نام ائٹ ہے۔

سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام میں ارٹ پر دھاگہ بُننے کے حوالے سے ایک پورا سُر ”کاپائتی“ موجود ہے۔ ”کاپائتی“ کا مطلب وہ عورت ہے جو چرخے پر اُون یا کپاس سے دھاگہ بُننے کا کام کرتی ہو۔

اس گاٶں میں ہمارے میزبانوں نے بھی دوپہر کے کھانے میں وہی لذیذ روایتی ڈشز بنائی تھیں۔ ”سُورییے جو تڑ“ سے بھارو مل امرانی ہمیں اسلام کوٹ کے قریب ایک اور گاٶں ”ٹابھو میگھواڑ“ لے گئے۔ جہاں آج بھی 150 سے زائد گھروں میں چرخے پر اُون سے دھاگہ بنایا جاتا ہے اور اسی گاٶں میں اس دھاگے سے کھڈیوں میں تھر کی روایتی گرم شالیں اور کھَتھے بنائے جاتے ہیں۔ یہ سفر کچھ اس وجہ سے بھی دلچسپ اور یادگار تھا کہ وہ پُونم کی رات تھی۔ ریت کے سفید ٹیلوں پر جیسے سونے کی تہہ چڑھ گئی تھے۔ دورانِ سفر ہم بھارو مل امرانی کی اپنی اور تھر کی لوک شاعری سے بھی محظوظ ہوتے رہے۔

ہمارے رفیقِ سفر تھر کے ہی باسی تھے اور متفکر تھے کہ مستقبل قریب میں صحرائے تھر کا یہ حسن۔ رویات اور ثقافت معدوم ہو چکی ہوگی۔ ایک دوست نے اِس دور کو The end of culture قرار دیتے ہوئے اپنی بات کچھ یوں آگے بڑھائی کہ ”تھر کول پراجیکٹ کی وجہ سے ہماری زمیں پیروں تلے سُکڑتی جا رہی ہے۔ اور ترقی کے نام پر یہ ثقافت کا تنزل ہماری نسلوں سے صدیوں پُرانی شناخت کہیں چھین نہ لے“

مگر شاملِ سفر ایک اور دوست اس بات سے اختلاف کرتے گویا ہوئے ”اس ترقی کو ہم کلچر کے پھیلاٶ کا ذریعہ بناکر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ جس طرح دنیا کی اور ترقی یافتہ ممالک نے اپنی تہذیب و ثقافت اور فن کو محفوظ کیا ہوا ہے۔ مگر کلچر ہمارے اربابِ اختیار کے لئے ہمیشہ ایک غیر سنجیدہ سبجیکٹ رہا ہے“

تھرپارکر کی تاریخ پر رائے چند ہریجن کی کتاب ”تاریخِ ریگستان“ منگھا رام اوجھا کی کتاب ”پُرانو پارکر“ اور کرنل جیمس ٹاڈ کی کتاب ”تاریخِ راجھستان“ (دو والیومز) بنیادی کتب مانی جاتی ہیں۔ رائے چند ہریجن جو کہ ایک پرائمری ماسٹر تھے اور چیلہار شہر سے ان کا تعلق تھا۔

تھرپارکر اور راجھستان ثقافتی اعتبار سے الگ نہیں۔ تقسیمِ ہند سے پہلے یہ ایک ہی خطہ رہا۔ یہاں کے گیت۔ رسم رواج۔ زبان۔ ملبوسات۔ اقدار اور زندگی جینے کے انداز میں کوئی فرق نہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ تھرپارکر اپنے کلچر کے اعتبار سے راجھستان سے زیادہ ثروت مند ہے۔

تھرپارکر کا ذکر ”ماروی“ کے ذکر کے بغیر ادھورا رہتا ہے۔ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام میں ماروی وطن سے محبت کی علامت ہے۔ وادیِ سندھ میں یہ نام بہت ہی مقدس مانا جاتا ہے اور لوگ اپنی بیٹی کا نام ماروی رکھ کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ شہید رانی بینظیر بھٹو کو بھی اسی نسبت سے ”مَلیر جی ماروی“ بلایا گیا۔ اور ملیر تھر کے ایک علاقے کا نام ہے جس کا ”عمر ماروی“ کی داستان سے تعلق ہے۔ تھرپارکر میں ماروی کا وہ گاٶں آج بھی ”بھالوا“ کے نام سے موجود ہے جہاں موجود کنویں سے پانی نکالتے ہوئے حاکمِ وقت عمر سومرو نے ماروی کو اغوا کیا تھا۔

اور بھی متعدد آثارِ قدیمہ اس خطے کی تاریخی پہچان بنے ہوئے ہیں جن میں ”گوڑے کے مندر“ ”بھوڈیسر کی قدیم مسجد“ ننگر پارکر میں ”جین مت“ کے ہزاروں برس پرانے مندر شامل ہیں۔ اور ”کارونجھر پہاڑ“ جنگجو کردار ”روپلو کولہی“ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

تھرپارکر کے اس سفر کے دوران چیلہار کے مضافات میں واقع ایک گاٶں میں واقع سُر و تار کے محلے میں ہماری ملاقات نابینا گویے بُڈھو فقیر سے بھی ہوئی جس کے گلے سے جیسے کوئی زخمی کویل گاتی ہے۔

بُڈھو فقیر سر کا خزانہ سینے میں چھپائے ہوئے بھی کسمپرسی کی زندگی جی رہا ہے۔ بھارو مل امرانی نے ہمیں بتایا کہ بُڈھو فقیر ہر روز علی الصبح باجا اٹھاکر اپنے چھوٹے کی انگلی پکڑے ہوئے اڑوس پڑوس کے گاٶں گوٹھوں میں جاکر ”شُبھ راج“ کی صدا لگاتا ہے اور اسے سامنے سے ”پَدھارو“ کہہ کر اندر بلایا جاتا ہے اور گانے کے بدلے میں اسے جو بخشش ملتی ہے اس سے بُڈھو فقیر کے گھر کا چولھا جلتا ہے۔

جب بارشیں ہوتی ہیں چیلہار کے قریب ”رانا سَر کی تَرائی“ اس کا مسکن ہوتی ہے۔ یہاں ترائی سے مراد بارش کے جمع شدہ پانی کا تالاب ہے اور سندھی زبان میں بارش کے پانی کو ”پَلرُ“ بھی کہا جاتا ہے۔

دورانِ سفر کئی ایسے افراد سے ہماری ملاقات ہوئی جنہیں اپنی روایات و ثقافت سے بی تحاشا محبت تھی اور وہ یہ سوچ کر فکرمند تھے کہ تھرکول کے نام پر ترقی و خوشحالی کا خواب جو دکھایا جا رہا وہ کہیں ان کی شناخت کو ہی نہ مٹادے۔

میرے خیال میں تھرکول پراجیکٹ سے متعلقہ انتظامیہ اور سندھ گورنمنٹ کو تھر کے لوگوں کے ان خدشات کے پیشِ نظر بھی کچھ اقدام کرنے چاہیئیں۔ اور وہ اقدام تھر کی ثقافت کو بچانے اور پروان چڑھانے کے حوالے سے ہونے چاہیئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply