پانی کی قلت اور چوٹیاری رزوائر

جہاں حد نظر پانی ہی پانی نظر آتا تھا اب وہاں خاک اڑتے دکھائی دیتی ہے۔ ملک میں جاری پانی کی قلت نے اس مقام کو تو ایسے گھیر لیا کہ اب مچھیرے جنگ سے لکڑیاں کاٹ کر بیچنے جاتے ہیں تاکہ گھر کے راشن کا انتظام ہو سکے۔ اور یہاں موجود اسپیڈ بوٹس ناکارہ کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ پکنک پوائنٹ پر موجود جھونپڑا ہوٹل ویران پڑے ہیں اور کبھی کبھار کوئی بھولا بھٹکا سیاح اگر یہاں آ جائے تو

Read more

صحرائے تھر میں جانوروں کی ”لکھ“ کے نشان سے پہچان

میرا گاؤں ریت کے ایک بلند ٹیلے پر واقع ہے۔ جہاں سے صحرائے اچھڑو تھر شروع ہوتا ہے۔ کوئی پچاس ساٹھ برس ہوئے ہوں گے ہمارا خاندان کھیتی باڑی کی غرض سے تھر میں موجود اپنا آبائی گاؤں چھوڑ کر یہاں آن بسا۔ اور آج بھی ہمارے کئی قریبی رشتے دار ”تڑ آت“ نامی اسی گاؤں میں رہ رہے ہیں۔ اچھڑو تھر میں آباد لوگوں کے گزر و معاش کا واحد ذریعہ مال مویشی ہے۔ وہ مختلف ڈھور ڈھنگر پالتے

Read more

سندھ کا قدیم روایتی کھیل ”چیکلو“ کیا ہے؟

سندھ میں بچوں کے جو کھیل نایاب ہوتے جا رہے ہیں ”چیکلو“ بھی ان میں سے ایک ہے۔ ”چیکلو“ جسے لاڑ یعنی بدین اور ٹھٹہ اضلاع میں ”چیچڑو“ اور ”چینگھو“ بھی کہتے ہیں۔ وادی سندھ کے خصوصاً دیہاتی بچوں کا من پسند کھیل رہا ہے۔

”چیکلو“ مال مویشیوں کے باڑے میں اور گاؤں کے بیچ لگا ہوا ملتا ہے۔ جس پر صبح و شام بچوں کا ہجوم نظر آئے گا۔
”چیکلو“ نامی یہ سادہ سا جھولا انڈس ویلی سویلائزیشن کی قدیمی ایجاد ہے۔
کچھ ماہر لسانیات کا ماننا ہے کہ لفظ سرکل اور سائیکل اسی چیکلو سے ماخوذ ہیں۔

Read more

مکھی محل۔ عہد رفتہ کی ایک زندہ تصویر

حیدرآباد صوبہ سندھ کا ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے۔ یہاں موجود پکا قلعہ اس شہر کی شان مانا جاتا ہے۔ اسی قدیم قلعہ کے ساتھ ہوم اسٹیڈ ہال کے سامنے واقع ”مکھی محل“ یا ”مکھی ہاؤس“ قدیم فن تعمیرات کا اعلیٰ نمونہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ عظیم الشان محل 1920 میں مکھی فیملی کے جیٹھا نند رائے نے اپنی رہائش کے مقصد سے تعمیر کروایا۔

Read more

بھائی صاحب! آپ اتنے متعصب کیوں ہیں؟

لاک ڈاؤن شروع ہونے سے کچھ دن پہلے کی بات ہے۔ میں کراچی سے گاؤں کے لیے نکل رہا تھا تو سوچا کیوں نہ میلے کپڑے ڈرائے کلین کے لیے دیتا چلوں۔ ایک ہاتھ میں میلے کپڑوں کی گٹھری اور کندھے میں سفری بیگ اٹھائے ڈرائے کلین شاپ پر پہنچا تو بڈھا دکاندار پوچھنے لگا ”سندھ جا رہے ہو؟“ میں نے ناگواری کے تاثرات کے ساتھ جواب دیا ”آپ کے خیال میں کراچی جاپان میں ہے؟“ تو طرح طرح کی وضاحتیں دینے لگا کہ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ کراچی سندھ میں نہیں ہے۔

Read more

قرنطینہ کے دنوں میں مطالعہ

میں اپبے چھوٹے سے قصبہ نما شہر میں ہوں جو ریت کے ایک اونچے ٹیلے پر واقع ہے۔ آدھا شہر ٹیلے کی ڈھلان پر اور آدھا ٹیلے کی اونچائی پر ہونے کی باعث یہ اوپر والی بزار اور نیچے والی بزار میں بٹا ہوا ہے۔ نیچے والی بزار کو تھر بزار بھی کہتے ہیں۔ کبھی اس بزار میں ہماری پرچون کی دکان ہوا کرتی تھی۔ بابا کے انتقال کے بعد میں ایک برس تک  اس دکان پر کام کرتا رہا جو کہ میرے مزاج کے برعکس ایک مشکل کام تھا۔ مگر بابا کی دیرینہ خواہش تھی کہ میں ان کے ساتھ دکان پر کام میں ان کا ہاتھ بٹاٶں۔

Read more

جسم عورت کا مرضی ہماری

سندھی زبان کی ایک کہاوت ہے کہ ”شکم سیری بنیا برداشت کر سکتا ہے یا بھینس“ اور اس کہاوت کا لب لباب یہی ہوگا کہ دولت۔ طاقت اور شہرت کا نشہ ہضم کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ خلیل الرحمان قمر کے ساتھ بھی ایسا کچھ مسئلہ نظر آتا ہے۔ اس بندے سے عزت و شہرت ہضم نہیں ہو پا رہی۔ آپ اس بندے کے مختلف انٹرویوز دیکھیں بہت ہی گھمنڈی۔ متکبر۔ خود پسند اور نرگسیت کا شکار

Read more

تھر کی ثقافت کا خاتمہ

اُس دن ہم مٹھی کے قریب واقع چھوٹے سے شہر ”چیلہار میں سندھ کی تاریخ۔ تمدن۔ روایات و ثقافت پر بحث کر رہے تھے۔ تھر کے لوک ادب پر ریسرچ کرنے والے نوجوان محقق و شاعر بھارو مل امرانی ہمارے میزبان تھے۔ محکمہ ثقافت سندھ کی جانب سے حال ہی میں بھارو مل امرانی کی تھر کے لوک ادب پر چار کتابیں شایع ہو چکی ہیں۔ رات کا کھانہ بھارو مل امرانی نے اپنے گھر پر بنوایا تھا۔ اور وہ

Read more

سسی پنوں کی داستان اور بھنبھور

سندھ میں محاورتاً کہا جاتا ہے کہ فلاں بندہ اپنے ”گھر تڑ“ والا ہے۔ یہاں تڑ سے مراد پانی ہے۔ دنیا کی سبھی قدیم civilizations دریاؤں کے کناروں پر پروان چڑھیں۔ شہر ندیوں پر آباد ہوئے اور ندیوں کے سیلاب اور کبھی رخ بدلنے کی وجہ سے برباد ہوتے رہے۔ موہنجو دڑو کے حوالے سے بھی یہی کہا جاتا ہے کہ غالباً دریائے سندھ میں طوفان کی وجہ سے لوگ نقل مکانے کرکے کسی محفوظ جگہ جاکر آباد ہوئے ہوں

Read more