قرنطینہ کے دنوں میں مطالعہ

میں اپبے چھوٹے سے قصبہ نما شہر میں ہوں جو ریت کے ایک اونچے ٹیلے پر واقع ہے۔ آدھا شہر ٹیلے کی ڈھلان پر اور آدھا ٹیلے کی اونچائی پر ہونے کی باعث یہ اوپر والی بزار اور نیچے والی بزار میں بٹا ہوا ہے۔ نیچے والی بزار کو تھر بزار بھی کہتے ہیں۔ کبھی اس بزار میں ہماری پرچون کی دکان ہوا کرتی تھی۔ بابا کے انتقال کے بعد میں ایک برس تک  اس دکان پر کام کرتا رہا جو کہ میرے مزاج کے برعکس ایک مشکل کام تھا۔ مگر بابا کی دیرینہ خواہش تھی کہ میں ان کے ساتھ دکان پر کام میں ان کا ہاتھ بٹاٶں۔

Read more

جسم عورت کا مرضی ہماری

سندھی زبان کی ایک کہاوت ہے کہ ”شکم سیری بنیا برداشت کر سکتا ہے یا بھینس“ اور اس کہاوت کا لب لباب یہی ہوگا کہ دولت۔ طاقت اور شہرت کا نشہ ہضم کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ خلیل الرحمان قمر کے ساتھ بھی ایسا کچھ مسئلہ نظر آتا ہے۔ اس بندے سے…

Read more

تھر کی ثقافت کا خاتمہ

اُس دن ہم مٹھی کے قریب واقع چھوٹے سے شہر ”چیلہار میں سندھ کی تاریخ۔ تمدن۔ روایات و ثقافت پر بحث کر رہے تھے۔ تھر کے لوک ادب پر ریسرچ کرنے والے نوجوان محقق و شاعر بھارو مل امرانی ہمارے میزبان تھے۔ محکمہ ثقافت سندھ کی جانب سے حال ہی میں بھارو مل امرانی کی…

Read more

سسی پنوں کی داستان اور بھنبھور

سندھ میں محاورتاً کہا جاتا ہے کہ فلاں بندہ اپنے ”گھر تڑ“ والا ہے۔ یہاں تڑ سے مراد پانی ہے۔ دنیا کی سبھی قدیم civilizations دریاؤں کے کناروں پر پروان چڑھیں۔ شہر ندیوں پر آباد ہوئے اور ندیوں کے سیلاب اور کبھی رخ بدلنے کی وجہ سے برباد ہوتے رہے۔ موہنجو دڑو کے حوالے سے…

Read more