مکھی محل۔ عہد رفتہ کی ایک زندہ تصویر

حیدرآباد صوبہ سندھ کا ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے۔ یہاں موجود پکا قلعہ اس شہر کی شان مانا جاتا ہے۔ اسی قدیم قلعہ کے ساتھ ہوم اسٹیڈ ہال کے سامنے واقع ”مکھی محل“ یا ”مکھی ہاؤس“ قدیم فن تعمیرات کا اعلیٰ نمونہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ عظیم الشان محل 1920 میں مکھی فیملی کے جیٹھا نند رائے نے اپنی رہائش کے مقصد سے تعمیر کروایا۔

Read more

بھائی صاحب! آپ اتنے متعصب کیوں ہیں؟

لاک ڈاؤن شروع ہونے سے کچھ دن پہلے کی بات ہے۔ میں کراچی سے گاؤں کے لیے نکل رہا تھا تو سوچا کیوں نہ میلے کپڑے ڈرائے کلین کے لیے دیتا چلوں۔ ایک ہاتھ میں میلے کپڑوں کی گٹھری اور کندھے میں سفری بیگ اٹھائے ڈرائے کلین شاپ پر پہنچا تو بڈھا دکاندار پوچھنے لگا ”سندھ جا رہے ہو؟“ میں نے ناگواری کے تاثرات کے ساتھ جواب دیا ”آپ کے خیال میں کراچی جاپان میں ہے؟“ تو طرح طرح کی وضاحتیں دینے لگا کہ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ کراچی سندھ میں نہیں ہے۔

Read more

قرنطینہ کے دنوں میں مطالعہ

میں اپبے چھوٹے سے قصبہ نما شہر میں ہوں جو ریت کے ایک اونچے ٹیلے پر واقع ہے۔ آدھا شہر ٹیلے کی ڈھلان پر اور آدھا ٹیلے کی اونچائی پر ہونے کی باعث یہ اوپر والی بزار اور نیچے والی بزار میں بٹا ہوا ہے۔ نیچے والی بزار کو تھر بزار بھی کہتے ہیں۔ کبھی اس بزار میں ہماری پرچون کی دکان ہوا کرتی تھی۔ بابا کے انتقال کے بعد میں ایک برس تک  اس دکان پر کام کرتا رہا جو کہ میرے مزاج کے برعکس ایک مشکل کام تھا۔ مگر بابا کی دیرینہ خواہش تھی کہ میں ان کے ساتھ دکان پر کام میں ان کا ہاتھ بٹاٶں۔

Read more

جسم عورت کا مرضی ہماری

سندھی زبان کی ایک کہاوت ہے کہ ”شکم سیری بنیا برداشت کر سکتا ہے یا بھینس“ اور اس کہاوت کا لب لباب یہی ہوگا کہ دولت۔ طاقت اور شہرت کا نشہ ہضم کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ خلیل الرحمان قمر کے ساتھ بھی ایسا کچھ مسئلہ نظر آتا ہے۔ اس بندے سے…

Read more

تھر کی ثقافت کا خاتمہ

اُس دن ہم مٹھی کے قریب واقع چھوٹے سے شہر ”چیلہار میں سندھ کی تاریخ۔ تمدن۔ روایات و ثقافت پر بحث کر رہے تھے۔ تھر کے لوک ادب پر ریسرچ کرنے والے نوجوان محقق و شاعر بھارو مل امرانی ہمارے میزبان تھے۔ محکمہ ثقافت سندھ کی جانب سے حال ہی میں بھارو مل امرانی کی…

Read more

سسی پنوں کی داستان اور بھنبھور

سندھ میں محاورتاً کہا جاتا ہے کہ فلاں بندہ اپنے ”گھر تڑ“ والا ہے۔ یہاں تڑ سے مراد پانی ہے۔ دنیا کی سبھی قدیم civilizations دریاؤں کے کناروں پر پروان چڑھیں۔ شہر ندیوں پر آباد ہوئے اور ندیوں کے سیلاب اور کبھی رخ بدلنے کی وجہ سے برباد ہوتے رہے۔ موہنجو دڑو کے حوالے سے…

Read more