سیاحت کے شرعی مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"mustansar

گزشتہ دور حکومت میں مولانا عطا الرحمان صاحب کے وزیر سیاحت بننے پر مستنصر حسین تارڑ صاحب کی تحریر۔

پاکستان میں سیاحت کے محکمے کے ساتھ وہی سلوک ہوتا چلا آیا ہے جو غریب کی جورو کے ساتھ ہوتا ہے مجھے ٹھیک طر ح سے علم نہیں کہ غریب کی جورو کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے لیکن یہ علم ہے کہ اس کے ساتھ یعنی غریب کی جورو سا تھ وہی سلوک ہوتا ہو گا جو پاکستان میں سیاحت کے محکمے کے ساتھ ہوتا ہے اور اب تو جناب کمال ہی ہو گیا ہے یعنی مولانا فضل الرحمن کے برادر عزیز اور ظاہر ہے وہ بھی ایک مولانا ہیں سیاحت کے محکمے کے وزیر ہو گئے ہیں۔ یہ تقریباً ایسے ہے جیسے ایک فیشن شو میں سب سے خوبصورت ماڈل کے چناؤ کے لیے یا مقابلہ حسن میں سب سے متناسب بد ن دوشیزہ کی پرکھ کے لیے کسی مولانا کو جج بنا دیا جائے۔ لیکن نہیں یہ مثال بھی کچھ مناسب نہیں ہے کہ آخر یہ حضرات بھی سینے میں دل رکھتے ہیں اور حسن کی پرکھ رکھتے ہیں۔ اگرچہ اس کے ا ظہار کے لئے پہلے سبحان اللہ کہتے ہیں اور پھر ایک ٹھنڈی آہ بھر کر انشاء اللہ کہتے ہیں۔

چونکہ سیاحت وغیرہ سے اس ناچیز کو بھی تھوڑی بہت دلچسپی ہے اس لئے میں اخبار میں کسی اور وزیر کا بیان پڑھوں یا نہ پڑھوں، وزیر سیاحت کا بیان نہایت ذوق و شوق سے پڑھتا ہوں۔ سب سے پہلا بیان جو مولانا صاحب نے وزارت سے ہم آغوش ہوتے ہی دیا وہ یہ تھا کہ محکمہ سیاحت کے ہوٹلوں میں اب شراب پیش کرنے پر پابندی ہو گی۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے محکمہ سیاحت نے ملک کے مختلف حصوں میں موٹلز تعمیر کر رکھے ہیں جو پی ٹی ڈی سی ہوٹل کہلاتے ہیں اب تو مجھے کسی ایسے موٹل میں قیام کرتے ہوئے بہت عرصہ ہو گیا ہے لیکن بھلے دنوں میں خاص طور پر شمال کی سیاحت کے دوران ا ن موٹلوں میں ہم فروکش ہوا کرتے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ ان کا معیار اور سروس نہایت اعلیٰ درجے کے ہوتے تھے سرکاری ہونے کے باوجود نہایت صاف ستھرے ہوتے تھے اور اکثر منیجر حضرات ان کا انتظام نہایت عمدہ طریقے سے چلاتے تھے ایک بار شمال کی جانب جاتے ہوئے جب ہم بشام کے ہوٹل کے اندر داخل پو رہے تھے تو میرے کوہ نورد ساتھی میاں فرزند علی نے کہا تھا کہ تارڑ صاحب اس ہوٹل کے منیجر کیا وہی ہیں۔ ۔ ۔ میں نے پوچھا کہ میاں صاحب کونسے وہی اب انہیں نام بھول رہا تھا تو کہنے لگے وہی جن کے نام کا مطلب ہے بہت سارے ببر شیر۔۔ ۔ میاں صاحب درست کہہ رہے تھے کہ اس موٹل کے منیجر کا نام واقعی شیرستان تھا بہر طور مجھے وزیر صاحب کا یہ بیان پڑھ کر ذرا حیرانی ہوئی کہ آئندہ ان موٹلوں میں شراب پیش نہیں کی جائے گی کیونکہ برس ہا برس میں بشام، گلگت، ہنزہ، برسین، سکردو اور خپلو وغیرہ کے موٹلوں میں قیام کرتا رہا لیکن حرام ہے کہ وہاں کسی بھی دور حکومت میں کسی نے شراب پیش کی ہو۔ کم از کم مجھے تو پیش نہیں کی گئی تو پھر مولانا صاحب کیسے جان گئے کہ وہاں شراب پیش ہو رہی ہے جسے اب ان کے دور وزارت میں پیش نہیں کیا جائے گا۔ کل کلاں وہ یہ بیان دینے پر بھی قادر ہیں کہ آئندہ محکمہ سیاحت کے موٹلوں میں مجرا پیش نہیں کیا جائے گا۔

ابھی اس تقریر دل پذیر کو زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ انہوں نے ایک اور بیان داغ دیا کہ۔ ۔ ۔ اب سیاحت اسلامی طرز کی ہو گی یا شائد سیاحت کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالا جائے گا کچھ اس نوعیت کا ارشاد تھا یعنی یہ جو پچھلے ساٹھ برس سے اس ملک میں سیاحت ہو رہی تھی وہ ساری کی ساری غیر اسلامی تھی یوں میں نے پاکستانی شمال میں جتنی بھی سیاحت کی ہے وہ بھی غیر اسلامی ہے اور اس کے نتیجے میں جو درجن بھر سفر نامے شمال کے تحریر کئے ہیں ان کا ایمان بھی مشکوک ہے ویسے مولانا سیاحت اگر پسند فرمائیں تو میں اعزازی طور پر ان کا مشیر بن کر انہیں اس سلسلے میں نہایت ہی مفید مشورے دے سکتا ہوں چلئے یہ ہماری قسمت میں کہاں کہ ہم وزیر با تدبیر کے مشیر مقرر کر دئے جائیں اس لئے چند مشورے مفت میں پیش کئے دیتا ہوں۔

ویسے پہلا مشورہ تو یہی ہو سکتا ہے کہ مولانا آپ کہاں اور سیاحت کا غیر اسلامی محکمہ کہاں آپ فوری طور پر اس سے علیحدگی اختیار کر کے فل ٹائم اللہ اللہ کیجئے لیکن یہ مشورہ مانا نہیں جائے گا اس لئے اسے واپس لیتا ہوں۔ دوسرا مشورہ یہ ہے کہ فوری طور پر نانگا پربت کا نام بدلنے کا اعلان کر دیجئے مجھے امید ہے کہ آپ جانتے ہوں گے کہ نانگا پربت پاکستان میں ہے اور ’’ کلر ماؤنٹین‘‘ کہلاتی ہے۔ نانگا کا مطلب ہے ننگا اور پربت کے معنی ہیں پہاڑ یعنی ننگا پہاڑ اسے پلیز کپڑے پہنا دیجئے کیونکہ اس پہاڑ کا نام عریانی اور فحاشی پھیلاتا ہے۔ اس کا نیا نام پردہ پوش پہاڑ بھی ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں میں نہایت سنجیدگی سے آپ سے ایک مسئلہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں آپ یہ بھی تو جانتے ہوں گے کہ سکھ مذہب کے تمام تر مقدس مقام پاکستان میں پائے جاتے ہیں اور سال میں کئی بار سکھ حضرات ہزاروں کی تعداد میں پاکستان آتے ہیں اور ان مقامات میں عبادت کرتے ہیں۔ گرنتھ صاحب کا پاٹھ کرتے ہیں اور یوں حکومت کو کروڑوں روپوں کی آمدنی ہوتی ہے جس میں سے آپ کو بھی تنخواہ دی جاتی ہے اور مراعات عطا ہوتی ہیں۔ ہندو لوگ بھی پاکستان کے مختلف حصوں میں آ کر اپنے مندروں میں پوجا کرتے ہیں بت پرستی کرتے ہیں اور ان کی آمد سے بھی ہم بہت سارا زر مبادلہ کماتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کفار کو اپنی سرزمین پر عبادت اور بت پرستی کی اجازت دے کر جو کمائی حاصل ہوتی ہے کیا وہ شرعی طور پر جائز ہے؟ اگر شراب کی فروخت سے جو کمائی ہوتی ہے وہ حلال نہیں تو پھر گردواروں اور مندروں میں کی جانے والی عبادات اور بت پرستی سے حاصل ہونے والی کمائی کیسے حلال ہو سکتی ہے اور اسی کمائی سے محکمہ سیاحت چل رہا ہے اور فی الحال آپ بھی چل رہے ہیں مجھے اس مسئلے کا شرعی جواز درکار ہے۔

مولانا سیاحت صاحب میرے پاس اس نوعیت کے اور بھی مشورے اور مسئلے ہیں جو میں بہ شرط زندگی آپ کی خدمت میں پیش کرتا رہوں گا آپ ان مشوروں پر دھیان دیں یا نہ دیں مسئلوں کے جواب دیں یا نہ دیں میں اسے پیش کرتا رہوں گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مستنصر حسین تارڑ

بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز

mustansar-hussain-tarar has 160 posts and counting.See all posts by mustansar-hussain-tarar