ڈاکٹر لال خان: جدو جہد کبھی قبر میں نہیں اترتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ کالم لکھنے میں کوتا ہی نہیں ہوگی۔ لیکن اتوار کا کالم پھر نہ لکھ سکا۔ میرا یار۔ میرا غمگسار۔ میرا دوست مر گیا تھا۔ لکھنا تو کجا میں سب کچھ ہی بھول گیا تھا۔ غم اتنا شدید تھا کہ ہوش میں آتے آتے بھی چار دن لگے۔ میں تو اس کی جدائی کی خبر سن کر اتنا بد حال ہوا کہ سوائے اپنے کسی اور کے ساتھ تعزیت بھی نہ کر سکا۔ جہاں دکھ ہوں میں وہاں کے در و دیوار سے بھی گریزاں ہوجاتا ہوں۔ لوگ پتہ نہیں ایک دوسرے کا درد کیسے بانٹ لیتے ہیں؟

میں تو ہمیشہ درد کی کیفیت سے گزرنے والوں سے چہرہ ہی چھپا لیتا ہوں۔ رنج و غم صرف اس کا ہوتا ہے جو اس میں مبتلا ہوتا ہے۔ رہی بات جدائیوں اور دوریوں کے صدمات کی تو میرا ایمان ہے کہ ان کی تو کوئی سرحدیں ہی نہیں ہوتیں۔ میں نے زندگی میں جس جس پیارے کو بھی ہمیشہ کے لئے کھویا ہے وہ ایک ایک شخص ہمیشہ کے لئے میرے وجود کا حصہ بنتا گیا ہے۔ اسی لئے میں نے تنہائیوں میں بھی کبھی اکیلا پن محسوس نہیں کیا۔ جب میں ہوتا ہوں اور میرے ساتھ میری تنہائی ہوتی ہے تو میرے سامنے بچھڑ جانے والوں کا میلہ لگ جاتا ہے۔

مجھے یوں محسوس ہوتا ہے گویا میرے سارے ہی بچھڑ جانے والے پیارے ایک ساتھ میرے آنگن میں اتر آئے ہیں۔ پھر میری خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ مجھے بچھڑے ہووں کی میزبانی کرنا بہت ہی اچھا لگتا ہے۔ یہی ہے میری زندگی کا وہ سب سے بڑا مشغلہ جس نے آج تک مجھے پوری توانائیوں کے ساتھ زندہ رکھا ہوا ہے اور انہی یادوں کے سہارے میں نے زندگی کی ساری جنگیں لڑی ہیں اور فتح یاب ہوا ہوں۔

کامریڈ ڈاکٹر لال خان مجھ سے پہلے میرے چھوٹے بھائی ڈاکٹر اختر کے دوست تھے۔ دوست کیا دونوں نشتر میڈیکل کالج میں کلاس فیلو تھے۔ ڈاکٹر اختر ہمیشہ سے غیر سیاسی رہے ہیں اور میرے نزدیک یہی ان کی سب سے بڑی اور کامیاب سیاست ہے۔ میں 1974۔ 75 ء کی بات کر رہا ہوں جب لال خان۔ لال خان نہیں بنا تھا۔ وہ ملتان کے اس مشہور زمانہ میڈیکل کالج میں یثرب تنویر گوندل کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کے مرحوم والد پاک فوج میں کرنل کے عہدے پر فائز تھے اور اپنے اکلوتے بیٹے کو بھی فوج میں دیکھنا چاہتے تھے مگر یثرب تنویر گوندل ڈاکٹر بن کر غریبوں کا مفت علاج کرنے کے خواب دیکھا کرتا تھا۔ بالآخر باپ نے بیٹے کی مان لی۔

یثرب تنویر نے نشتر میڈیکل کالج میں ترقی پسند طلبہ تنظیم کی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ یہ طلبہ تنظیم کوئی سوشلسٹ یا انقلابی نہیں ایک لبرل تنظیم تھی لیکن اس کا دائیں بازو کی مشہور زمانہ طلبہ تنظیم سے اٹ کھڑکا رہتا تھا۔ یثرب تنویر کو مخالف تنظیم کی بعض حرکتوں پر بہت غصہ آتا تھا اور وہ ان حرکات کو غندہ گردی سے تعبیر کرتا اور پھر وہ وقت آیا کہ اکیلے یثرب تنویر نے اس مخالف تنظیم کو آگے لگا لیا اور اس کے چھکے چھڑانے لگا۔

میڈیکل کالج کے طلبہ نے اسے اپنا نجات دہندہ تسلیم کر لیا اور اس طرح وہ ایک لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ اس نے بائیں بازو کی طلبہ سیاست کا راستہ اپنایا اور پھر آگے ہی بھڑتا چلا گیا۔ ہمارے والد کے انتقال کے بعد میرے بھائی اختر نعیم ہاشمی کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں مائیگریشن ہو گئی۔ یثرب تنویر ملتان میں ہی ڈٹا رہا۔ 1977 ء میں مارشل لاء لگ گیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب بھٹو یثرب تنویر کا ہیرو بنا اور اس نے بھٹو کے حق میں ایک مضبوط تحریک کی بنیاد رکھی۔

مخالف طلبہ تنظیم مارشل لاء کی چھتری کے نیچے چلی گئی۔ یثرب تنویر کو بار بار گرفتار کیا گیا۔ اسے ایک سال قید کی سزا بھی بھگتنا پڑی۔ رہا ہو کر واپس آیا تو اس کی جدوجہد اور تیز ہو گئی جس کے نتیجے میں اس کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بنا اور اسے سزائے موت سنادی گئی۔ وہ روپوش تھا اور اب اس کے پاس سوائے ملک سے بھاگ جانے کے کوئی اور راستہ نہیں تھا سو وہ اپنے ایک اور ساتھی کے ہمراہ ہالینڈ فرار ہو گیا۔ ضیاء الحق کا طیارہ کریش ہونے تک وہ ایمسٹرڈم میں ہی رہا۔

مارشل لاء حکومت نے اس کی پاکستانی شہریت بھی منسوخ کر دی تھی۔ یثرب نے ہالینڈ میں قیام کے دوران سوشلزم اور مارکس ازم کا مطالعہ کیا۔ اسے وہاں ٹیڈ گرانٹ اور ایلن وڈ جیسے راہنما مل گئے جنہوں نے یثرب تنویر گوندل کو اتنا زیادہ سرخ کر دیا کہ وہ ڈاکٹری بھول کر کامریڈ بن گیا۔ نام رکھا لال خان ”“۔ عالمی پرولتاری لال خان۔ اس نے جلا وطنی کے دوران معاشیات۔ اقتصادیات اور سرمایہ دارانہ نظام کا سیر حاصل مطالعہ کیا۔

لال خان سے مجھے پہلی بار منو بھائی اور جاوید شاہین نے متعارف کرایا تھا۔ پہلی ہی ملاقات میں دوستی اور تعلق کی وہ بنیاد رکھی گئی کہ وہ چند دنوں میں ہی چٹان کی طرح مضبوط ہو گئی۔ روزانہ ملاقات۔ بلا ناغہ ملاقاتیں۔ آفس سے فارغ ہوتے ہی میں مال روڈ پر رات گئے ان کے گھر پہنچ جاتا جہاں پہلے سے کامریڈز کی ٹیم موجود ہوتی۔ یہ سلسلہ سالہا سال تک جاری رہا۔ اس محفل میں کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا تھا۔ سب ایک ساتھ ایک جیسا کھانا ہی کھایا کرتے تھے۔

پاکستان واپس آ کر ڈاکٹر لال خان نے ماہنامہ ”جدوجہد“ کی بنیاد رکھی اور جدوجہد کے نام سے ہی انقلابی نوجوانوں کا جتھہ تیار کرنا شروع کر دیا۔ پورے پاکستان اور پورے آزاد کشمیر سے کتنی تعداد میں نوجوان جدوجہد تحریک سے جڑے ہوئے تھے اس کا اندازہ مجھے ان کی سالانہ کانگریس میں شریک ہونے کے بعد ہوا۔ ایک بہت بڑے ہال میں ہزاروں کی تعداد میں انتہائی منظم انداز میں نوجوان موجود تھے۔ ان سالانہ کانگرسوں میں دنیا بھر سے نوجوان اور بوڑھے انقلابی بھی اپنے خرچے پر شریک ہوتے ہیں۔

کانگرس سے لال خان کی تقریر کے دوران جب تالیاں بجیں تو ایسا محسوس ہوا گویا ٹراٹسکی اسٹیج پر کھڑا داد وصول کر رہا ہے۔ اپنے نظریہ کے لئے جہد مسلسل کی عملی تصویر لال خان کو ایک سال پہلے کینسر نے آن گھیرا۔ اس نے اس بیماری کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور معمول کے مطابق اپنی سر گرمیاں جاری رکھیں۔ پچھلے چار پانچ سال سے میرا لال خان سے ملنا جلنا بہت کم ہو گیا تھا۔ یہ گردش حالات کا نتیجہ تھا اور کوئی وجہ نہیں تھی۔

لال خان سال میں ایک دو بار ہالینڈ ضرور جایا کرتے تھے شاید یہ ان کی وہاں کی شہریت کا تقاضا تھا۔ وہاں سے وہ ہمیشہ میرے لئے ایک مخصوص پرفیوم لاتے اور بتاتے کہ یہ اس فیکٹری کا پرفیوم ہے جو ڈیڑھ سو سال پہلے بند ہو گئی تھی اور صرف ایک ہی شاپ پر دستیاب ہوتا ہے۔ جب سے میرا لال خان سے ملنا کم ہوا میں نے ان کے لائے ہوئے اس پرفیوم کی آخری شیشی کو استعمال کرنا بند کر دیا اس خدشہ پر کہ کہیں ختم نہ ہو جائے۔ پرفیوم کی یہ آخری شیشی پچھلے چار سالوں سے میری میز پر رکھی ہے۔

جب تک زندہ ہوں لال خان کی یاد دلاتی رہے گی۔ لال خان کوئی روایتی قسم کے سخت گیر انقلابی راہنما نہ تھے۔ بنیادی طور پر وہ ایک شرمیلے آدمی تھے۔ جتنا مطالعہ ان کا سیاست کا تھا اس سے زیادہ وہ ادب و فن۔ شاعری اور فلم کے موضوعات پر بھی احاطہ رکھتے تھے۔ جب بھی برصغیر پاک و ہند کی کسی بھی قد آور ایکٹرس۔ ایکٹر۔ شاعر۔ گلوکار یا موسیقار کا ذکر چھڑتا لال خان اس کی پوری کتاب کھول کر بیٹھ جاتے۔ ان کی محفلوں میں ہم نے کامریڈوں سے گیت بھی بہت سنے۔ میں اسی کالم میں ان کی اہلیہ صدف۔ بیٹی۔ بیٹے اور خاص طور پر ہالینڈ سے آئے ہوئے لال خان کے جگری دوست پال سیٹھ سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ لال خان کس قد کے رہنما تھے۔ کاش آپ نے ان کا چکوال کے گاؤں بھون میں جنازہ دیکھا ہوتا۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *