ایک کارخانہ ہزار لنگرخانوں سے بہتر ہے
جنرل ایوب جب اقتدار میں آئے تو ڈیم بنائے۔ ذوالفقار بھٹو جب اقتدار میں آئے تو ایٹم بم بنانے کی منظوری دی۔ جنرل ضیاءالحق جب اقتدار میں آئے تو طالبان بنائے۔ نواز شریف جب اقتدار میں آئے تو سڑکیں اور موٹر ویز بنائے۔ اب عمران خان کا دور ہے جو سمجھتے ہیں سڑکیں بنانے سے قوم نہیں بنتیں۔ موٹرویز بنانے سے ملک ترقی نہیں کرتا۔ فیکٹریاں بنانا حکومت کا کام نہیں ہے۔ حکومت کا کام مرغیاں دینا، بھینسیں بانٹنا، شیلٹر ہاؤس بنانا اور لنگرخانے بنانا ہے۔
شاید عمران خان کی نظر میں لنگر خانے بنانے سے قوم بنتی ہے۔ جبکہ فیکٹریاں لگانے، سڑکیں اور موٹرویز بنانے سے قومیں بگڑ جاتی ہیں۔ ایک جملہ کہیں لکھا ہوا تھا جو انتہائی پیارا لگا اسی جملے کو آرٹیکل کا عنوان رکھا ہے کہ ”ایک کارخانہ ہزار لنگرخانوں سے بہتر ہے“۔ اس جملے کی اگر وضاحت کی جائے تو انسان کارخانے اور لنگرخانے کی اہمیت اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ اس جملے پر کچھ وضاحت دینے سے پہلے ریاست، حکومت اور شہریوں کے باہمی تعلق کو سمجھنا اشد ضروری ہے۔
کہتے ہیں ریاست ماں کی طرح ہے اور شہری بچوں کی طرح ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ریاست ماں کی طرح ہے اور شہری اس ماں کے بچے ہیں۔ مگر کامیاب خاندانوں کے لئے ماں اور اس کے بچوں کے لئے ایک باپ بھی ضروری ہوتا ہے۔ خاندان کی تکمیل ماں، باپ اور بچوں سے ہوتی ہے۔ جہاں ریاست کو ماں اور شہریوں کو بچوں کا درجہ دیا گیا ہے وہاں حکومت کو ان بچوں کے لئے باپ کا درجہ دینا ہوگا۔ ریاست کو ماں کا درجہ اس لیے دیا گیا ہے کیوں کہ ماں تمام بچوں کو ایک نظر سے دیکھتی ہے۔
اور ہر طرح کے حالات میں اپنے بچوں کا تحفظ کرتی ہے۔ ماں خود مشکلات میں رہ کر بھی اپنے بچوں کی خوشیوں کا سوچتی رہتی ہے۔ ماں کی نظر میں کوئی بچہ زیادہ یا کم اہمیت کا حامل نہیں ہوتا تمام بچے ماں کی نظر میں یکساں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ شہریوں کو بچوں کا درجہ اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ لاکھ بھی اپنی ماں سے ناراض ہوں مگر ماں کو نقصان پہنچانے کا نہیں سوچ سکتے۔ وہ اپنی ماں کا دل سے احترام کرتے ہیں۔ صرف احترام ہی نہیں بلکہ اپنی ماں سے بے پناہ محبت بھی کرتے ہیں۔
ماں کے لئے سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ حکومت کو باپ کا درجہ شاید آپ نے پہلے کہیں نہ پڑھا ہو نہ کسی نے حکومت کو باپ کا درجہ دیا گیا ہو مگر میری نظر میں حکومت باپ کا درجہ رکھتی ہے۔ کیونکہ یہ حکومت ہی ہے جو شہریوں کے لئے اسباب پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ شہریوں کے ذریعہ معاش بہتر بنانے کا سوچتی اور اس پر عمل کرتی ہے۔ اگر اقتدار میں موجود اچھے، اہل، محنتی اور مخلص لوگ ہوں تو شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
اگر کبھی مشکلات کا سامنا کرنا بھی پڑ جائے تو حکومت باپ کی طرح کوئی نہ کوئی حل نکال لیتی ہے۔ حکومت ایک باپ کی طرح ہمیشہ شہریوں کی بھلائی، ان کی تعلیم و تربیت، ان کی بنیادی ضروریات اور ان کی حفاظت کے لئے فکرمند ہوا کرتی ہے۔ ایک باپ بھی اپنے بچوں کے لئے ایسا ہی ہوتا ہے کہ اس کے بچے پریشان نہ ہوں۔ انہیں بھوکا نہ سونا پڑے، انہیں جہالت میں زندگی نہ گزارنی پڑے، ان کی تربیت میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ مگر اس سے بڑھ کر ایک مخلص اور سمجھدار باپ کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس کے بچے ہر اعتبار سے اس قابل ہوجائیں کہ وہ اپنے پاوں پر کھڑے ہوجائیں۔
انہیں کسی کے آگے بھیک نہ مانگنی پڑے۔ اس فکر کے لئے سمجھدار اور مخلص باپ ہمیشہ کچھ ایسا کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کے بچے اپنے محلے، شہر، صوبے، ملک حتی کہ پوری دنیا میں اپنے باپ کا نام روشن کرتے ہیں۔ تو آئیے دیکھتے ہیں کہ ایسے باپ میں کیا خوبیاں ہوتی ہیں کہ جن کی وجہ سے اس کے بچے اس قابل ہوجاتے ہیں جو پوری دنیا میں اپنے باپ کا نام روشن کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
ہر باپ جو اپنی اولاد سے مخلص ہوتا ہے اور اپنی اولاد کے لئے فکرمند ہوتا ہے وہ ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہے کہ اس کے بچے سستی کا شکار نہ ہوں۔ اور اس قدر محنتی ہوں کہ وہ دوسروں کو کھلانے پلانے والے ہوں نہ کہ دوسروں کے ٹکڑوں کی طرف دیکھنے والے ہوں۔ یہی صورتحال حکومت کی بھی ہے جو کوشش کرتی ہے کہ شہری اپنے ملک کے لئے بھی بہت کچھ کریں اور پوری دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کرنے کا سبب بنیں۔ اس لئے حکومت ایسے اقدامات اٹھاتی ہے جس سے شہریوں کو آگے بڑھنے کے مواقع میسر آتے ہیں۔
شہری محنت کرکے آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ یہی خوبی ایک مخلص اور سمجھدار باپ میں ہوتی ہے۔ مگر عمران خان کی حکومت وہ نالائق باپ ثابت ہورہی ہے جو شہریوں کے لئے مواقع پیدا کرنے کے بجائے انہیں سستی اور کاہلی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ چلیں تسلیم کرلیتے ہیں کہ سڑکیں بنانے سے قومیں نہیں بنتیں، لیپ ٹاپ دینے سے علم نہیں آتا، موٹرویز بنانے سے ترقی نہیں ہوتی تو پھر کیا لنگر خانے بنانے سے قوم بنتی ہے۔ مرغیاں اور انڈے دینے سے ترقی ہوتی ہے۔
بھینسیں بانٹنے سے لوگوں کی زندگیاں بدل جاتی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عمران خان لنگرخانے بنا کر لوگوں کو سستی کی طرف لے جارہے ہیں۔ جو لوگ اپنی محنت مزدوری سے کما کر کھانے کو ترجیح دیتے ہیں وہ لنگرخانوں میں مفت کی روٹیاں کھا کر کاہلی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ بقول عمران خان فیکٹریاں لگانا حکومت کا کام نہیں ہے تو پھر لنگرخانے بنانا اور فلاحی تنظیم بن کر مرغیاں اور انڈے دینا بھی حکومت کا کام نہیں ہے۔
یہ کام تو فلاحی تنظیموں کے ہوتے ہیں۔ فلاحی تنظیمیں غریبوں میں ضرورت زندگی کی اشیاء تقسیم کرتی رہتی ہیں۔ حکومت کا کام فلاحی تنظیم بن کر لنگرخانے کھولنا نہیں ہے۔ حکومت کو ایسے کام کرنے چاہیے جس سے شہریوں میں مقابلے کا رجحان بڑھے، شہری اپنی محنت مزدوری سے کمانے کو ترجیح دیں۔ خود بھی محنت سے کما کر کھائیں اور اپنے بچوں کو بھی محنت سے کما کر کھانے کا درس دیں۔ ایسے لنگر خانے ہر شہر میں بنائے گئے تو ہر شہر کے بہت سے غریب لوگ جو پہلے محنت مزدوری کرکے کچھ کما لیتے تھے وہ اپنے بچوں کے ساتھ محنت مزدوری کے بجائے لنگرخانوں کا رخ کریں گے۔
عمران خان مجموعی طور قوم کو بھکاری بنا رہے ہیں۔ قوم کو دینے والا ہاتھ کے بجائے لینے والے ہاتھ کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ محنت کے بجائے سستی اور کاہلی کی طرف لے جارہے ہیں۔ حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے بجائے فلاحی تنظیم کا کردار ادا کر رہی ہے۔ سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ ہماری آدھی آبادی غربت کا شکار ہے عمران خان کب تک آدھی آبادی کو کنگرخانوں سے کھلاتے پلاتے رہیں گے۔ کتنے لوگوں کو عمران خان بھینسیں دے سکتے ہیں۔
اور صرف بھینسیں دینا بھی کافی نہیں ہوتا ان بھینسوں کے لئے چارہ بھی ضروری ہوتا ہے۔ کیا غریب لوگ بھینس کو چارہ خریدنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ کچھ ہی ہفتوں بعد لوگ بھینس بیچ کر کھا جائیں گے۔ عمران خان صاحب لنگرخانے بنانے، مرغیاں اور بھینسیں دینے سے قومیں نہیں بنتیں۔ نہ ہی حکومت کا کام لنگرخانے بنانا ہے۔ لنگرخانوں کے لئے دربار بہت ہیں پھر نئے لنگرخانے بنانے کی کیا ضرورت ہے انہی درباروں کو فنڈ کریں اور شہریوں کو مفت کی روٹیاں پھاڑنے کا موقع ہیں۔
عمران خان کہتے ہیں کارخانے بنانا حکومت کا کام نہیں ہے۔ ٹھیک ہے مگر یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ شہریوں کے لئے کاروبار کے مواقع پیدا کرے۔ شہریوں کو محنت سے آگے بڑھنے کی جستجو دلانے والے کام کرنے چاہیے۔ ایک بھکاری کے بچے بھی بھکاری ہی بنتے ہیں۔ باپ نالائق اور سست ہو تو بچے بھی نالائق اور سست ہی بن جاتے ہیں۔ ہمارے حکمران بھکاری پن کو پسند کرتے ہیں اس لئے پوری قوم کو بھکاری بنانے کی طرف لے جارہے ہیں۔ اس لئے تو کسی نے خوب کہا ہے کہ ایک کارخانہ ہزار لنگرخانوں سے بہتر ہے۔


