ایک ظالم بادشاہ کی عبرتناک شکست اور گدھے کی ولولہ انگیز تقریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیارے بچو۔ بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ملک نیمروز پر ایک نہایت ظالم بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اسے خون بہانے کا بہت شوق تھا۔ اڑوس پڑوس کی ریاستوں پر لشکرکشی کرتا رہتا تھا اور مفتوحہ شہروں میں کھوپڑیوں کے مینار بناتا تھا۔ جن دنوں تفریح کا موڈ ہوتا تو چھٹی لے کر کسی جنگل میں شکار کھیلنے نکل جاتا۔

ایک مرتبہ اس رعایا نے فریاد کی کہ قریبی جنگل میں ایک آدم خور شیر آ گیا ہے جو ان کے ڈھور ڈنگر مارنے کے بعد اب انسانوں پر بھی حملے کرنے لگا ہے۔ یہ سنتے ہی اس ظالم بادشاہ نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ جنگل کا رخ کیا۔ اعلان تو اس نے شیر مارنے کا کیا تھا مگر ہاتھی گھوڑا بکرا خرگوش جو بھی سامنے آیا، اس نے مار ڈالا۔ دس ہرن کھاتا اور سو ہرنوں کو محض خون بہانے کے شوق میں ہلاک کر ڈالتا۔

بلی کو بھی بھاگنے کا راستہ نہیں ملتا ہے تو وہ حملہ کر دیتی ہے۔ بارہ سنگھے اور ہرن بھی گھیرے جاتے تو جتنا بن پڑتا اتنی مزاحمت کرتے۔ یوں شکار کرتے ہوئے کئی شاہی شکاری زخمی بھی ہوئے اور مارے بھی گئے۔ پھر بادشاہ کا شکار سے دل بھر گیا اور جنگل میں اس کی دلچسپی نا رہی تو اس اعلان کیا کہ اس نے آدم خور شیروں کو مار ڈالا ہے اور اس کی فتح مکمل ہوئی ہے۔ اس نے کیمپ اکھاڑا اور جنگل سے واپس چلا گیا۔

جنگل کے جانور کونے کھدروں سے نکلے اور مل بیٹھے۔ دیکھا کہ جو جنگل اس ظالم بادشاہ کے آنے سے پہلے پھلوں سے لدا ہوا تھا اب راکھ کا ڈھیر بن چکا تھا۔ حساب لگایا کہ کون زندہ بچا، کون کھیت رہا اور کون جان بچا کر جنگل سے بھاگ نکلنے پر مجبور ہوا۔

پتہ چلا کہ تمام خرگوش جنگل چھوڑ کر ارد گرد کے دوسرے جنگلوں میں بھاگ چکے ہیں اور پردیس میں بے یار و مددگار پناہ گزین کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کیلوں کے جھنڈ میں راج کرنے والے گوریلے اس جھنڈ کے آگ میں جل کر خاک ہونے کے بعد مانگ تانگ کر بینگن پر گزارا کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ شکاریوں کے تیروں نے کئی بندروں کی دم چھید ڈالی ہے اور وہ ڈال ڈال لٹکنے سے معذور ہوئے ہیں۔ کئی بھینسے اپنی ٹانگیں تڑوا کر عمر بھر کے لئے لنگڑے ہو چکے ہیں۔ ہرنوں کی پوری نسل ہی ختم ہو چکی ہے۔ کئی طوطوں نے بھوک سے مجبور ہو کر اپنی زبان بیچ ڈالی ہے۔

ایسے میں ایک گوشے سے ایک گدھا اٹھا اور اس نے جنگل واسیوں سے خطاب کیا۔ ”جنگل واسیو میں اس عظیم الشان فتح پر تمہیں مبارکباد دیتا ہوں۔ تم بہت بہادری سے لڑے مانا کہ ظالم بادشاہ کے ایک ایک شکاری نے درجن درجن جانوروں کو قتل کیا، مگر کیا یہ ہماری فتح نہیں ہے کہ ہم نے ہر پچاس جانوروں کے بدلے ایک شکاری کو بھی ہلاک کیا؟ مانا کہ ہوا سے اچانک نمودار ہو کر ہمیں مار ڈالنے والے تیر بہت خوفناک تھے، مگر کیا ہماری چنگھاڑوں سے شکاریوں کا دل نہیں دہل گیا؟ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جنگل کے صرف اسی حصے پر ان شکاریوں کا کنٹرول تھا جس میں وہ اپنا کیمپ لگائے بیٹھے تھے اور باقی سارا جنگل ہمارے قبضے میں تھا۔

کیا وہ خوفزدہ ہو کر اپنا بوریا بسترا لپیٹ کر جنگل سے رخصت ہونے پر مجبور نہیں ہوئے؟ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ واپسی کے وقت وہ کس طرح خوش تھے کہ اس بھیانک جنگل سے ان کی جان چھٹی؟ ان کے چھکڑے اور گاڑیاں ہمارے بھائیوں کی کھالوں اور گوشت سے لدے ہوئے تھے مگر جس طرح وہ جاتے ہوئے پلٹ پلٹ کر جنگل کو دیکھ رہے تھے، اس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ ڈر گئے ہیں۔

جشن مناؤ جنگل واسیوں کہ ہم نے مار مار کر حملہ آوروں کا بھرکس نکال دیا ہے۔ ہمارے گھونسلے جل چکے ہیں، ہمارے درخت اب باقی نہیں رہے، ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے اور ان کے توشہ خانے ہماری جانوں اور کھالوں سے بھرے ہوئے ہیں، مگر یہ تو دیکھو وہ کس طرح شکار ختم کر کے اپنے گھروں کو واپس ہوئے ہیں۔ ہمارے جنگل پر کوئی بادشاہ قبضہ نہیں کر سکتا۔ میں اس عظیم فتح پر تمام جنگل واسیوں کو سلام پیش کرتا ہوں“۔

پورا جنگل یہ ولولہ انگیز تقریر سن کر فتح کے نعروں سے گونج اٹھا۔ جانور اپنے مرنے والے ساتھیوں کو بھول گئے، جلے ہوئے اور خوراک سے خالی جنگل کا انہیں غم نا رہا، وہ اپنی اس عالی شان فتح پر نازاں تھے۔ سیانے سچ ہی کہہ گئے ہیں کہ ظالم بادشاہ کبھی بھی ہمیشہ کے لئے جنگل میں نہیں رہتا، وہ اپنے شہر واپس پلٹ جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1317 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply