امریکی ”شکست“ اور ”ہماری“ جیت
افغانی بڑے ”نمک حرام“ ہیں۔ لیکن امریکہ کو شکست دینے کے بعد ہمیں اپنے اپنے سے لگتے ہیں۔ جنگ امریکہ کی اکانومی، جمہوریت نظام حکومت اور فوجیں بھیجنا اور نکالنا صدارتی انتخابات کا ایجنڈا ہوتا ہے۔ ایک امریکی صدر کسی ملک کو امریکہ کا دشمن بنا کر سیدھا کرنے کے لئے وہاں فوج بھیجتا ہے۔ جنگ شروع ہوتے ہی کارخانے چلنے لگتے ہیں۔ روزگار مل جاتے ہیں۔ کنٹریکٹ دلا دیے جاتے ہیں۔ اور یوں وہ الیکشن جیت جاتا ہے۔
دوسرا آکر جنگ کو ختم کرنے اور اپنی فوج کو وہاں سے بحفاظت نکال لانے کے لئے کمپئین شروع کردیتا ہے۔ یوں فوج واپس بلا کر الیکشن جیت جاتا ہے۔ سادگی اور خوش فہمی میں افغانوں اور امریکیوں میں کوئی فرق نہیں، سوائے اس کے، کہ امریکی اپنی جان کی قدر کرتے ہیں اور افغانی نہ اپنی جان کی پرواہ کرتے ہیں نہ کسی اور کی۔ ایک بات اور بھی ان میں مشترک ہے۔ دونوں کو امن کی نہیں فتح کی خواہش ہوتی ہے۔ دنیا کہتی ہے۔ ایک دفعہ زندگی ملتی ہے۔ احتیاط کریں۔ افغان (پشتون) کہتے ہیں۔ موت نے ایک بار انا ہے۔ اسے زندگی سے کوئی پیار ہی نہیں۔ یا شاید اسے پیار کی زندگی کبھی ملی ہی نہیں۔ اس طرح کی فتح افغانوں اور ان کو لڑا کر تجوریاں بھرنے والوں کو روس کے خلاف بھی ملی تھی۔ جب روس نہیں رہا تو پھر آپس میں لڑے کہ لڑنے کے علاوہ کچھ آتا نہیں تھا۔ روس نے ہسپتال بنائے تھے۔ پل اور سڑکیں بنائی تھیں۔ ائیرپورٹ جدید طیارے میزائل تعلیمی نظام چھوڑا تھا۔
انہوں نے اپنی لڑائی میں کابل قندھار اور مزارشریف جیسے تاریخی شہروں کے ساتھ ساتھ وہ سب کچھ بھی تباہ کردیا۔ آغاجان، نبی محمدی کا فیلڈ کمانڈر تھا۔ سیکنڑوں جوانوں کو لیڈ کرتا تھا۔ جہاد کے بعد ایک دن میزان چوک کوئٹہ میں اسے پلیٹ فارم پر چادر پھیلائے دیکھا۔ حالت پوچھی۔ تو چادر ہٹا کر گھٹنوں کے قریب کٹی ہوئی اپنی دونوں ٹانگیں دکھائیں۔ میں ششدر کھڑا رہ گیا۔ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والا اغا جان زندگی سے ڈر رہا تھا۔ کسی نے اس کی پھیلائی ہوئی چادر میں سکہ پھینکا۔ اس نے اٹھا کر مجھے دکھایا۔ اور سوال کیا۔ جنت کہاں ہے؟
نظیف جبل السراج کے قریب قلعہ موسی کا باشندہ تھا۔ پرانا مجاہد تھا۔ لیکن طالبان کے نزدیک گردن زدنی کافر تھا۔ مردان میں قہوہ بیچ کر اپنے بچے پال رہا تھا۔ کابل میں طالبان کی شکست کے بعد ایک دن اسے قہوے کی تھرموس کے سامنے روتے ہوئے دیکھا۔ میں رونے کی وجہ پوچھی۔ تو کہنے لگا کہ جس حاجی صاحب سے قہوہ کی پتی خریدتا ہوں۔ اس نے گالیاں دے کر بے عزتی کردی۔ میں نے پوچھا کیوں؟ اس نے بتایا کہ حاجی صاحب نے مجھے، کابل میں سینما دوبارہ کھل جانے پر، بے غیرت اور کافر کہہ کر گالیاں دیں۔ کابل ہمارا دارالحکومت ہے۔ اس چھوٹے سے شہر میں چار سینمائیں ہیں۔ لیکن آپ لوگ بے غیرت ہو نہ کافر۔ داڑھی پر بہنے والے آنسو پونچھتے ہوئے بتایا کہ میں زمیندار ہوں۔ میرے اپنے بادام اور انگور کے باغات تھے۔ میرے ڈیرے میں گھریلو بنے ہوئے مربوں کے چاٹئی (بڑے مٹکے) سال بھر، بھرے ہوئے پڑے ہوتے۔ ذبح شدہ بکرا یا دنبہ لٹکا ہوتا۔ میرا گھر پہاڑ کے اوپر تھا۔ نیچے دریا کے ساتھ ساتھ پیدل سفر کرنے کا راستہ تھا۔ کھانے کے وقت میں زبردستی مسافروں کو اوپر بلا کر کھانا کھلاتا۔ پھر قہوہ پلا کر رخصت کرتا۔
میں نے روس کے نکل جانے کے بعد مسلمان کے خلاف بندوق نہیں اٹھائی۔ دو پاکستانیوں کو ایک لوکل کمانڈر کی جیل سے فرار کروانے میں مدد دی۔ پہلے اس کمانڈر کی ڈر کی وجہ سے کابل منتقل ہوا۔ پھر طالبان کی وجہ سے یہاں آگیا۔ لیکن بڑی لعنت یہ ہے۔ کہ آپ ہمیں کافر اور بے غیرت کہ دیں۔ اور اس بڑھ کر یہ کہ میں اپنے ملک میں مسافروں کو زبردستی اپنے ڈیرے پر کھانا کھلایا کرتا تھا۔ لیکن اب قہوہ پلا کر اس کے پیسے لیتا ہوں۔ کیا جہاد کا پھل یہی ہے؟
روس کے بعد اب امریکہ کو ”شکست“ ہوئی۔
طالبان کو کہا گیا تھا۔ اسامہ حوالے کر دو۔ اور القاعدہ کو ملک سے نکالو، بات ختم۔ انہوں نے اسامہ کو حوالہ کرنے اور القاعدہ سے تعلق توڑنے سے انکار کیا۔ برسوں سو جوتے اور سو پیاز کھانے کے بعد اب القاعدہ کے ساتھ تعلق سے انکار کیا۔ اچھا نہ ہوتا کہ سفارت کاری کی نزاکتوں کو سمجھتے اور اپنے استادوں کی نہ مانتے۔ اسی وقت القاعدہ کے ساتھ تعلق سے انکاری ہوجاتے۔ تو لاکھوں افغان مرتے نہ میدان جنگ میں اتنے سال ضائع ہوتے۔
اسامہ تو حوالہ ہوگیا انہوں نے نہیں کیا تو کیا ہوا؟ گونتا نامو اور باگرام کے انسانیت سوز اذیت خانوں میں پختونوں کے ساتھ ان کی ”جذبہ ایمانی“ اور ”مومنانہ فراست“ کی وجہ سے کیا ہوا؟ شادیوں کے جنج ہوں یا جنازے ڈرون کر دیے گئے۔ اگر یہی اٹھارہ سال بعد کرنا تھا۔ تو اس وقت کیوں نہیں کیا جب سب کچھ ان کے اختیار میں تھا؟ کہتے ہیں جو مکّہ لڑائی کے بعد یاد اجائے، وہ اپنے منہ پر مارنے کے قابل ہے۔
جو ”مجاہدین“ سمجھتے ہیں۔ ہماری جیت ہوئی ہے۔ ان کو مزید پروپیگنڈے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ایک مسلمان کو دس کافروں کے برابر بتایا گیا ہے۔ اگر جیت ہوئی ہوتی تو چوبیس سو امریکی مرے ہیں۔ اپ کے دو سو چالیس ساتھی مرنے چاہیے تھے۔ یہاں تو شمارہ الٹا ہے۔ ایک طرف لاکھوں بے کس، لاچار، کم علم، بے سہارا مسلمان ہیں۔ دوسری طرف دنیا جہاں کی ٹیکنالوجی اور بارود۔ ہر آفت اس سرزمین پر نازل کی گئی۔ ہر اسلحہ یہاں ٹرائی کیا گیا۔
انسانوں کو مارنے کی لائیو سٹریمنگ دنیا بھر کو، ڈرون کیمروں کے ذریعے دکھائی گئی۔ اور اپنی ٹیکنالوجیز کی مارکیٹنگ کی گئی۔ زندہ انسان بلاتفریق گنی پگز کی طرح استعمال کیے گئے۔ طالبان پروٹو ٹائپ تھے۔ تخلیق کرنے کے بعد ان سے اپنے بھائیوں کو، ان کیمرہ ذبح کرنے، باردوی جیکٹیں پہنا کر مسلمانوں کے درمیان اڑانے کے بعد، اور ان کی کمی بیشیاں جانچنے کے بعد، ان کا اپ گریڈ ورژن داعش میدان میں اتارا گیا۔ اب ان کو پہلے مطلوبہ علاقے میں اتار کر مخالفین کو تہس نہس کیا جاتا ہے۔ پھر حالات مناسب پاکر خود امن کے نام پر قبضہ کرتے ہیں۔ شام کی مسلمان بچیاں بلجئیم ہالینڈ رومانیہ اور یونان کی گلیوں میں سرشام کس لئے کھڑی ہوتی ہیں؟ پشتون کے بارے میں انگریز تصدیق کرتے تھے۔ کہ یہ خیرات نہیں مانگتا۔ پشاور قندھار جلال آباد کے تندوروں کے سامنے پشتون عورتیں دامن پھیلا کر روٹیاں مانگتی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ مومن کی فراست سے ڈرو۔ کہاں ہے فراست؟ یا شاید مومن نہیں ہے؟ کب تک پرائی لڑائیاں لڑتے رہو گے؟ کیا اپ نے نہیں پڑھا کہ ایک شہید دس بندوں کی شفاعت کا باعث ہوگا؟ اپکے تو ایک ایک گھر میں دس دس شہید ہوئے ہیں۔ اپ تو اس دنیا میں جنتی ہیں۔ کافی ہو گیا۔ خود بھی جئیے، دوسروں کو بھی جینے دے۔
معاہدہ امریکہ کو اختیار دیتا ہے کہ وہ طالبان پر نظر رکھے، کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہیں یا نہیں؟ ساتھ ساتھ یہی معاہدہ طالبان کو پابند بناتا ہے، کہ وہ تشدد کی کارروائیاں نہیں کریں گے۔ اور دوسرے سٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کریں گے۔ مطمئن ہونے کی صورت میں پھر امریکہ افغانستان سے چودہ مہینے بعد اپنی فوج نکالے گا۔ امریکہ نے طالبان کو تسلیم نہیں کیا طالبان نے امریکہ کو تسلیم کرلیا ہے۔ کیونکہ امریکہ افغانستان میں رہے گا طالبان امریکہ میں نہیں؟
بس اتنا کریں کہ روس کی طرح امریکہ نے بھی افغانستان میں نظام حکومت، سڑکیں، پل، ہسپتال، کالجز، ائیرپورٹس، جہاز، ٹینک، میزائل، ڈاکٹرز، انجنئرز اور پروفیسر چھوڑے ہیں۔ آپس کی لڑائی میں اس کو پہلے کی طرح تباہ نہیں کرنا۔ برطانیہ کے جانے کے بعد ان کی بنائی ہوئی سڑکیں، نہریں، ریلوے نظام، عدالتیں، یونیورسٹیز طرح قائم ہیں۔ پاکستانی اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ امن مبارک ہو۔


