عورت مارچ اور فارن فنڈنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیسے جیسے آٹھ مارچ کا دن قریب آ رہا ہے، بہت سے حلقوں میں پچھلے سال کا عورت مارچ زیر بحث ہے۔ اسی سلسلے میں کل رات ایک ٹاک شو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ شرکاء میں شامل ایک حضرت حال ہی میں ایک اردو ڈرامہ سیریل میں “دو ٹکے” کے ایک ڈاییلاگ کی شہرت رکھتے ہیں۔ ٹاک شو میں موضوع زیر بحث تھا کہ کیا اس سال عورت مارچ ہونا چاہییے؟ اگر ہاں تو کیا اس کو “ریگولیٹ” کرنے کی ضرورت ہے؟ کیونکہ یہ مارچ ہماری عظیم مشرقی اقدار کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے!

دو سے اڑھائی ہزار پرامن اور بے ضرر مگر “پرجوش” خواتین کے اجتماع سے ایسا کیا خوف کہ مارچ “ریگولیٹ” کرنے کی بات ہو رہی ہے؟ نہ چاہتے ہوئے بھی ہنسی آ گئی۔ اور فیض آباد دھرنے کا وہ منظر یاد آگیا جب ایک مولوی اور اس کے پیروکار کئی روز تک ریاست کا مذاق اڑاتے رہے اور حکومت وقت کے ساتھ ساتھ افواج پاکستان اور عدلیہ کے سربراہان کو “تخلیقی” القابات سے نوازتے رہے مگر کسی نے ایسے اجتماعات کو “ریگولیٹ” کرنے کی بات نہیں کی !

دوسری جانب ایک مذہبی جماعت کے سربراہ عورت مارچ سے سب سے زیادہ خوفزدہ نظر آئے اور اپنے کارکنان کو عورت مارچ روکنے کے لیے طاقت کے استعمال کا مشورہ بھی دے ڈالا۔ مولانا صاحب نے اپنے کارکنان سے خطاب کے دوران فرمایا ہے کہ “وطن عزیز میں انسانی حقوق کے نام پر قرآن وسنت کو روندنے اور اپنی تہذیب و روایات کو پامال کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دے سکتے”۔

ہمارا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم خواتین کے حقوق کو اسلامی فکر کے تحت دیکھتے ہیں، لیکن ہم عورت کے ساتھ سلوک اپنی اقدار، کلچر اور روایات کے تحت کرتے ہیں جو اکثرو بیشتر اسلامی فکر سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔

ہم بیک وقت مختلف تضادات کا شکار ہیں اور نظریہ ضرورت کے تحت مذہب کا سہارا لیتے ہیں اور جب ضرورت محسوس ہو اپنی معاشرت اور مشرقی روایات کو مذہب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

گفتگو کے دوران ایک اندیشہ یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ عورت مارچ کے لیے ضرور فارن فنڈنگ میسر ہو گی۔ اور اس الزام کے دفاع میں ٹاک شو میں موجود خاتون اس الزام کی نفی کرتی نظر آییں۔ ہمارے ملک کی بد قسمتی یہ ہے کہ ہم یہ جانتے ہوئے بھی کہ فارن فنڈنگ ہی کی بدولت چلنے والا یہ ملک ہر لحاظ سے بیرونی مالی معاونت کا محتاج ہے، فارن فنڈنگ کو غداری کا الزام بنا کر کسی بھی تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس حوالے سے ہم سب کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ پاکستان کے کے تمام اہم حکومتی ادارے اور وزارتیں مثلاً وزارت صحت، تعلیم، پلاننگ ،اور سماجی بہبود وغیرہ فارن فنڈنگ/ایڈ کے مرہون منت ہیں اور مغرب سےملنے والی یہ مالی اور تکنیکی معاونت قومی ترقی کی اہم ضرورت ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ فارن فنڈنگ کو ایک الزام کیوں تصور کیا جاتا ہے؟ کیا یہ منافقت نہیں؟ موجودہ معیشت کی صورت حال تو یہ ہے کہ ہم آلو پیاز اور ٹماٹر کی قیمت بھی آیی ایم ایف کی مرضی سے “ریگولیٹ” کرتے ہیں تو پھر عورت مارچ کو “ریگولیٹ” کرنا ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ کیوں ہے؟

خدارا عورت کو اس کی زندگی جینے دیں اور ان کو با اختیار بناییں تاکہ آنے والا وقت ہمیں ایک باشعور قوم کے نام سے یاد رکھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *