میں اپنی بیٹی کو کس نام سے پکاروں ؟!
میری بیٹی کا نام حیاء بتول ہے۔ ہم اسے حرا کہہ کر پکارتے ہیں۔اس کا نام میری ایک کزن کے نام پر رکھا گیا۔ میری کزن حرا عباس جس کا ابھی چار دن پہلے چھبیس سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ حرا عباس میڈیکل فائنل ائیر کی طالبہ تھیں۔ اس امتحان کو پاس کرنے کے بعد رواں سال اس کی شادی بھی ہونے والی تھی۔ ہاتھوں پر مہندی لگانے اور جسم پر سرخ جوڑا پہننے کی عمر میں اس نے سفید کفن پہنا اور کورے ہاتھوں کے ساتھ چلی گئی۔
اسے کچھ بھی نہیں ہوا۔ آٹھ دس دن پہلے پیٹ درد کی شکایت کی۔ پتا چلا پیٹ میں پانی ہے۔ آپریٹ کیا۔ پھرکہا جگر خراب، معدہ خراب۔ پھر ٹیسٹ کیے تو کہا انتڑیوں کی ٹی بی لاسٹ سٹیج پر ہے۔ پتا نہیں بیماری آخری سٹیج پر کیسے پہنچی ہوگی۔ اس نے تو کبھی شکایت ہی نہیں کی تھی۔ ہنستی مسکراتی۔ ہر مہمان سے چائے پانی پوچھتی، خاندان کے ہر فرد سے حال احوال پوچھتی، اخلاق برتتی، خواہ گھر میں دیگر افراد اس فرد کو بلانا بھی پسند نا کرتے ہوں۔ اسے بچوں سے بہت محبت تھی۔
میری بیٹی بیس دن کی تھی کہ اسے چیسٹ انفیکشن ہو گیا۔ ہم لاعلم تھے وہ روئے جائے۔ کہ حرا عباس آئی کہتی لاؤ بچی مجھے دو۔ اس کی گود میں جاتے ہی میری بیٹی فوری سو گئی۔
میرے شوہر نے کہا حرا آپی۔ آپ کی گود میں آتے ہی سکون سے سو گئی یہ تو اتنے دن سے روتی رہتی ہے بس۔ اس کا نام اب حرا ہی رکھ دینا ہے تاکہ امن سے رہے۔ آپ کو اعتراض تو نہیں۔
حراعباس مسکرائی اور کہا۔ رکھ لیں میرا نام۔ لیکن اسے ہسپتال چیک کروائیں مجھے یہ بیمار لگ رہی ہے۔
ہم ہسپتال لے گئے جہاں سے پورے بیس دن زندگی موت سے لڑ کر میری بیٹی واپس آئی۔
جب ایک بار ڈاکٹر نے کہا آپ کی بچی مر چکی ہے تو میں پاگلوں کی طرح چیخیں مار کر رونے لگی اور کہا کہ ابھی تو نام بھی نہیں رکھا تھا۔ میری حیاء بتول، میری حرا واپس آجا۔ تو سچ مچ حرا نے آنکھیں کھول دیں۔
عین اس وقت جب ڈاکٹر ڈرپ وغیرہ نکال رہے تھے۔ اس نے الٹی کی اور ہوش میں آگئی۔ اس دن سے میں نے اپنی بیٹی کو حرا ہی کہا۔
ابھی حال میں ہی ب فارم بنایا اس پر حیاء بتول نام لکھا۔ سکول میں بھی سب نے حیاء ہی پکارا۔ تو میری بیٹی کی گر کر بازو کی ہڈی دو جگہ سے ٹوٹ گئی۔ ماں کا دل ہے ناں، فوری وہم ہوا تو دوبارہ حرا کہہ کر پکارنے لگی۔
تین چار دن پہلے میری بہن کا فون آیاکہ حرا عباس بہت بیمار ہے۔ کہا ارے کچھ نہیں مذاق کر رہی ہوگی۔ میری بہن کا لہجہ روہانسا ہو گیا کہتی باجی وہ سچ میں سیریس ہے۔ پیٹ کاٹا ہوا ہے اس کا پانچ سات نالیاں لگی ہوئیں ہیں۔ ۔ میرے دل کو دھچکا سا لگا کہ اتنی جوان بچی کو اللہ خیر کرے۔ اتنا سیریس کیا ہو گیا۔ کہا صبح ہسپتال جاؤنگی۔
صبح نو بجے بہن کا فون پھر آیا۔ کہ حرا عباس کا انتقال ہو گیا۔
میں سن ہو چکی تھی۔ راستہ کیسے کاٹا خبر نہیں۔ غائب الذہنی کے عالم میں پھرتی رہی۔ میت کو غسل دینے میں مدد کی اپنے ہاتھوں سے اس کے کٹے جسم کو ڈھانپا۔ ڈاکٹروں کی بے حسی پر افسوس ہوا کہ اپریٹ کے بعد جب وہ میت بن چکی تھی تب تو جسم سی دیتے۔
اسے کفن پہنایا۔ خوشبو ڈالی۔ اپنے ہاتھوں کفن پر کلمہ لکھا۔ اور میت تیار کر دی۔ پھر جب کفن کے اوپر سے اس کے بھائیوں نے لال دوپٹہ اوڑھایا تو ضبط ٹوٹ گیا۔ دماغ کی طنابیں جھنجھنا اٹھیں۔ روئی چلائی۔
اس کے بھائی نے سورۃ بقرہ اور میں نے سورۃ الملک و یسن پڑھ کر اس کے ہمراہ کی۔ پھر روئی کہ اس کے ہاتھ شگن رکھنا تھا۔ بے شک قرآن کریم روپے پیسے سے بڑھ کر ہے مگر ایک جوان بچی کے لیے شادی بھی تو حکم خداوندی ہے ناں۔
میں شایداس کی شادی پر نا جاتی لیکن اس کی میت پر خود کو روک نا سکی۔ ایک گرہ سی پڑ گئی ہے کہ میں منحوس ہوں کسی کی شادی یا گھر میری وجہ سے برباد ناہوجائے۔ اسی لیے اپنے ایک قریبی دوست کی شادی پر بھی اس کے اصرار کے باوجود نہیں جا سکی حتی کہ بھابھی نے بھی کہا آپ آئیں۔
دماغ و دل کی کیفیت عجیب ہے۔ بیٹی کو حیاء بتول کہوں تو وہ بیمار ہوتی یا مصیبت میں آتی ہے اور وہ جس کے نام سے میری بیٹی کو نئی زندگی ملی تھی اب وہ تو اس دنیا میں نہیں رہی تو میں اپنی بیٹی کو کیا کہہ کر پکاروں؟!



No Words……what to say….I have a daughter, she is 4 months old and her name is Haya Farooqi