ہائے وعدوں کے ستم

ناشتے کی میز پر بابا جان بیٹھے انتظار کر رہے تھے سب جمع ہوئے اور بابا جی کہنے لگے کہ آج شہر میں جلسہ ہے الیکشن کا وقت قریب ہے میں نے کہا بابا وہ مشہور مقولہ ہے جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں اور جو برستے ہیں وہ گرجتے نہیں ہمارے سیاست دان بھی تو ایسے ہی کرتے ہیں جب الیکشن کا وقت قریب ہوتا ہے تب وہ سارے وعدے کرتے ہیں سڑکوں کا گیس کا ہسپتال کا سکول

Read more

جاگ پاکستانی کہ روشن صبح لانی ہے

بچوں کے باجا بجانے کے شور سے میری آنکھ کھل گئی میں کمرے سے باہر آئی تو سامنے دیوار پر لگے کیلنڈر سے معلوم ہوا کہ آج تو 14 اگست ہے پاکستان کو آزادی حاصل کیے ہوئے 76 سال ہو گئے ہیں یوں کہہ لیجیئے کہ پاکستان 76 سال کا ہو گیا ہے بابا نے اخبار پکڑاتے ہوئے کہا کہ آزادی مبارک میں نے کہا بابا آزادی کو 76 برس بیت چکے ہیں مگر آج بھی ہم ترقی کی دوڑ

Read more

تیرا پاکستان اور میرا پاکستان

آج گھر کے اطراف میں بہت شور تھا کہیں سلنسر کی آواز تھی کہیں پٹاخے پھٹ رہے تھے ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی چیخ چیخ کر سوئی ہوئی قوم کو جگانے کی کوشش کر رہا ہو بہت مسکراتے چہرے تھے کہیں گیت گائے جا رہے تھے کہیں نغمے سنائے جا رہے تھے کہیں خوشیوں سے ہاتھ ہلائے جا رہے تھے ایسے لگ رہا تھا جیسے ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہوں کہ ہم قابل تو نہ تھے مگر

Read more

مفت مشورے دینے والے کرم فرما

میری فیس بک پوسٹس کو اکثر پرسنل لے لیا جاتا ہے ، اس لیے میں لکھنا چھوڑ دیتی ہوں یا لکھی ہوئی چیزیں ڈیلیٹ کروا دی جاتی ہیں۔ کروڑ بار وضاحت دے چکی کہ میری پوسٹس صرف میری ہیں۔ مجھے نہ تو کسی سے مقابلے کا شوق ہے اور نہ ہی تقابل کا کیونکہ مجھے علم ہے میری اور بہت سے لوگوں کے قسمت حالات شکل اور نظریات میں بہت فرق ہے۔ لیکن میری باتوں کو پرسنل لینے کا غالباً شوق ہے یا کوئی اکساتا ہے کہ یہ تمہارے لیے لکھ رہی عمارہ۔ قسم سے عمارہ اتنی ویلی نہیں کسی کے لیے لکھے ، دوسرا عمارہ بہت خود پسند و خود غرض ہے وہ کسی کے لیے نہیں اپنی ذات کے لیے لکھتی ہے۔

Read more

میں اپنی بیٹی کو کس نام سے پکاروں ؟!

میری بیٹی کا نام حیاء بتول ہے۔ ہم اسے حرا کہہ کر پکارتے ہیں۔اس کا نام میری ایک کزن کے نام پر رکھا گیا۔ میری کزن حرا عباس جس کا ابھی چار دن پہلے چھبیس سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ حرا عباس میڈیکل فائنل ائیر کی طالبہ تھیں۔ اس امتحان کو پاس کرنے کے بعد رواں سال اس کی شادی بھی ہونے والی تھی۔ ہاتھوں پر مہندی لگانے اور جسم پر سرخ جوڑا پہننے کی عمر میں اس نے

Read more

تیور: فلم ریویو

فلم کا آغاز ایک مڈل کلاس خوش باش گھرانے سے ہوتا ہے۔ ایک پنشنر باپ اور اس کی دو بیٹیاں۔ اور ان کا ایک چچا زاد جس سے کزن میرج کے خلاف بحث کرتی اس کی اولین محبت ہے۔ دوسری جانب معاشرے کا تاریک لیکن حقیقی رخ دیکھاتے کچھ نا سور جنھیں نا والدین ”تربیت“ دے سکے نا معاشرہ۔ اور وہ ”سرپرستی“ (اور یہی وہ وجہ تھی جس پر علی سجاد کو صعوبتیں سہنی پڑیں ) کے زعم میں ظلم

Read more