ایک اداس بستی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسی کی دہائی میں رشیا چڑھ دوڑا، نوے کی دھائی میں وہ آپس میں لڑ پڑے، سن 2000 سے اب تک امریکہ نے اسے تختہ مشق بنائے رکھا۔ اس سر زمین پر پچھلے چالیس سالوں سے پیاس نے حلق خشک کیا افلاس کی دھما چوکڑی رہی سکول برباد ہو گئے بچپن بارود کی بُوسونگھتے ہوئے گزرا جوانیاں خوف ہراس میں ایسے گزریں کہ بڑھاپا بیس سال قبل آ گیا۔ صحت کی سہولیات اور روزگار کی عدم دستیابی کو اپنی قسمت ہی سمجھ لیا۔ شہر بھی ویران رہے گاؤں بھی اجاڑ۔

دشوار گزار رستوں اور ٹوٹی ہوئی سڑکوں نے سفر سے نفرت پیدا کر دی۔ کسی ایک بیانیے کے ساتھ چلتے تو دوسرے کی نفرت کے بھینٹ چڑھتے۔ سوچ کی آزادی تھی نہ سوال کی گنجائش۔ ان کو غلط کہتے تو لوگ کافر کہتے ان کو غلط کہتے تو دہشت گرد۔ کفر و دہشت گردی کے بیچ مکمل سکوت نے زندگی کی ہما ہمی سے دل اچاٹ کر دیا۔ اسی خوف نے سوچ کا گلا گھونٹ دیا جس کے نتیجے میں ایک لاتعلق نسل اور ادب و فنون لطیفہ سے بیزار قوم کا چہرہ سامنے آیا۔

نقل مکانی نے ان کی قبائلی روایات ور تہذیب تمدن تک کو تا راج کیا۔ شاید آج ان کے بزرگوں کو سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ اس نقل مکانی نے ان کو اپنی خاندانی و قبائلی روایات پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیا۔ ایک شجاع قوم خوف ہراس کی وجہ سے لاتعلق و خاموش ہو گئی۔ ان کی عائلی روایات کی ترکیب کو بھی متاثر کیا۔ وہ بھرم اور احترام کو اپنا طرہ سمجھتے تھے پیکار کے بے رحم محرکات نے اس کو اتنی دفعہ توڑا کہ وہ رونا چاہتے ہیں مگر رو بھی نہیں سکتے۔

آج بیس سال بعد افغانستان میں امن معاہدہ ہوا ہے۔ ان کے بزرگوں کی آنکھوں میں پھر خواب ہیں ہم اپنا حلق تو تر کر نہیں سکے اپنے بچوں کی پیاس ضرور مٹائیں گے۔ ہم بھی ترقی کریں گے۔ ہماری بھوک بھی دور ہوگی۔ ہم بھی کھیلوں میں آگے جائیں گے۔ ہم بھی کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتیں گے۔ ہمارا بھی قومی ترانہ چلایاجائے گا جس کو سن کرہماری بھی دھڑکنیں بے ربط دھک دھک کریں گی۔ ہمارے بھی مشاعرے ہوں گے محفلیں سجیں گی سوچ آزاد ہو گی۔

سوال بے جرات ہوں گے فن اور تخلیق خوف کے دھند سے نکل کر پورے آب و تاب سے سامنے آئیں گے۔ خدا کرے افغانی بزرگوں کے خواب پورے ہوں افغانستان امن گہوارہ بنے، نئی نسل تعلیم کی طرف جائے ترقی کرے اپنی پیاس اور بھوک سے نجات پائے اور خدا کرے رستے اتنے آسان ہو جائیں کہ انہیں سفر سے نفرت کے بجائے محبت ہو اور وہ اپنے ملک کا کونا کونا دیکھیں اور آنیوالی نسلوں کو ورثے میں بارود کی بد بو کی بجائے، سیاحت، ادب، فنون لطیفہ اور روایات کی پر فضا وادی منتقل کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply