چونیاں میں ٹیوب ویل پر نہانے کے ’جرم‘ میں مسیحی نوجوان کو متعصب ہجوم نے قتل کر دیا
قصور کے علاقے چونیاں میں ٹیوب ویل پر نہانے کے ’جرم‘ میں ایک مسیحی نوجوان کو بہیمانہ تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔
پاکستان ٹوڈے کے مطابق 22سالہ سلیم مسیح نامی مزدور بیگوانہ گاﺅں میں کھیتوں میں کام کر رہا تھا۔ کام سے فارغ ہونے کے بعد وہ وہیں ٹیوب ویل پر نہانے لگا جس پر زمیندار مشتعل ہو گئے کہ سلیم مسیح نے ٹیوب ویل کے حوض میں نہا کر ’پانی گندہ‘ کر دیا ہے۔ ان لوگوں نے سلیم کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ اسے انتہائی زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں گزشتہ روز وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔
سلیم کے باپ غفور مسیح کا کہنا تھا کہ ”میرے بیٹے نے کام سے فارغ ہو کر نہانا شروع کیا تو شیر ڈوگر، اقبال، الطاف، جبار اور حاجی محمد نے اسے پیٹنا شروع کر دیا۔ وہ اسے مذہب کی بنیاد پر گالیاں دے رہے تھے اور تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے۔ وہ اسے گھسیٹتے ہوئے اپنے مویشیوں کے باڑے میں لے گئے اور وہاں زنجیر کے ساتھ اس کے ہاتھ پاﺅں باندھ دیئے اور ڈنڈوں سے اسے مارنا شروع کر دیا۔ انہوں نے لوہے کا ایک راڈ سلیم کے پورے جسم پر رولر کی طرح پھیرا۔
میرے بیٹے کو محبوس کرنے کے چار گھنٹے بعد پولیس والوں نے ہمیں اس کے متعلق بتایا اور ہم وہاں پہنچے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو سلیم بے ہوش زمین پر پڑا تھا اور اس کا چہرہ اور پورا جسم خون سے تربتر تھا۔ بہت وقت تک ہم شیر ڈوگر اور دوسروں کی منت سماجت کرتے رہے جس کے بعد انہوں نے ہمیں سلیم کو ہسپتال لے جانے کی اجازت دی۔ اس دوران پولیس والے وہاں خاموش تماشائی بن کر کھڑے رہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے کچھ دیر کے لیے ملزمان کو گرفتار کیا اور پھر ان کی ضمانت کرانے میں مدد کی اور وہ رہا ہو گئے۔

