کیا ہم حادثات کی کمائی کھانے والی قوم ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس نے چین میں سر اٹھایا تو ہم نے خوب تمسخر اڑایا۔ خوب چٹکلے بھی کسے کہ گویا یہ کبھی ہمارے طرف آئے گا ہی نہیں۔ شغل بیکاری میں ہم نے خوب نقلیں اتاریں۔ کسی سیانے نے اس وقت قدرے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے قومی رویے کی طرف اشارہ کیا۔ کہنے والے نہ کہا کہ اگر یہ وائرس ہمارے دیس میں آیا تو سب سے پہلے ہمارے ہاں حفاظتی ماسک کی قیمت آسمان کی طرف اڑان بھرے گی لیکن اس سے بھی پہلے یہ ماسک مافیاز کے ہاتھ لگیں گے جہاں سے قوم ان کے رحم و کرم پر ہو گی۔

پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس کراچی سے رپورٹ ہوا ملک کی بڑی مارکیٹ ہونے کے ناتے سب سے پہلے ماسک مافیا بھی وہیں سے سرگرم ہوا۔ اک شہری کی جانب سے ویڈیو میں بتایا گیا کہ ایک سو ستر روپے میں عام حالات میں فروخت ہونے ماسک کاڈبہ اچانک سترہ سو روپے کا ہو گیا ہے۔ یہ سب تو ہونا ہی تھا چونکہ اک سیانے نے اس کی پیش گوئی پہلے سے ہی کر رکھی تھی۔

کراچی کے بعد کرونا کا دوسرا کیس اسلام آباد سے سامنے آیا تو گویا اسلام آباد کے میڈیکل سٹورزاور بڑی بڑی فارمیسیز کو سانپ سونگ گیا۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ مارکیٹ میں ماسک کی قلت ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ خریدنے والوں نے احتیاطاً ماسک زیادہ خرید لیے اب مال کم اور خریدار زیادہ ہیں تو ایسے میں ماسک کی قلت تو ہونا بنتی تھی۔

یہ اسلام آباد میں کورونا وائرس کا کیس رپورٹ ہونے کے بعد کا مرحلہ تھا۔ اچانک مارکیٹ میں ایسے نقاب پوش ماسک ڈیلرز کی اطلاع گردش کرنے لگی جن کے من مانے ریٹس تھے ان آدم خوروں کا یہ کہنا تھا کہ ہمارے پاس مال وافر مقدار میں موجود ہے اگر کوئی خریدار ہو تو وہ ان سے رابطہ کرے یہ سبھی ماسک فروش وہ تھے جنہوں نے ذخیرہ اندوزی کر رکھی تھی اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر کچھ سامان پہلے سے محفوٖظ کر لیا تھا اور اب مہنگے داموں فروخت کر رہے تھے۔ اک دو صاحبان نے ہمیں بھی یہ اعزاز اپنے نام کرنے کی دعوت دی۔ ہمارا مردہ ضمیر تھوڑا سا ہل گیا کہ نہیں حادثے کی کمائی کھانے سے بہتر ہے بھوکے رہو۔

اسلام آباد سمیت ملک بھر میں جب سے کورونا کے گنے چنے کیسز سامنے ٓئے تو اک جانب ہم میں ک کچھ مافیا لوگوں کا رویہ یہ تھاکہ انہوں نے اس ساری صورتحال سے نوٹ بنانے کی کشش کی اور ایسا ہوا بھی۔ وہیں ملک بھر کے مختلف رفاہی اداروں نے دو قدم آگے بڑھاتے ہوئے عوامی مقامات پرماسک بانٹنا شروع کیے۔ انجمن ہلال احمر پاکستان کے رضاکاروں نے اس معاملے میں پہل کی اور کئی ضرورت مندوں تک ماسک پہچائے۔ اک آدھ روز میں حکومتی اداروں کی بھی سمجھ میں بات آنے لگی کہ ملک میں ماسک مافیا کا راج ہے ایسے میں عوام سے اپیل کی گئی کہ مہنگے ماسک بیچنے والوں کے خلاف شکایات کی جائیں۔ اس عمل سے ریاست کی مضبوطی اور اس میں قانون کی بالادستی کا بول بالا اک بار بھر سے نظرآنے لگا۔ دلچسب بات پھر یہی تھی کہ ہم بغیر ڈنڈے کے سنبھلنے والے نہیں تھے۔

دو سے تین روز تک ماسک گوہر نایاب رہے اور کرونا کا خوف بھی خوب رہا لیکن پھر رفتہ رفتہ سوشل میڈیا پر کئی ایسی تصاویر سیکھنے کو ملیں جن میں یہ دیکھا گیا کہ عام دکانداروں اور کچھ شہریوں نے رضاکارانہ طور پر ماسک مفت فراہم کرنے کے بورڈ لگا رکھے تھے۔ جس سے یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اس قوم میں سارے ہی حادثات کی کمائی کھانے والے نہیں ہیں۔ کچھ بھلے لوگ بھی موجود ہیں جن کے دم سے دیس کی رونقیں قائم ہیں۔

کورونا وائرس چین سے شرو ہوا اور دنیا کے کئی مماک تک پہنچا۔ چین مین جب اس کے پھیلاؤ میں تیزی آئی تھی تو دس روز کے اندر وہاں ہسپتال بنانے سمیت کئی اہم اور انوکھے اقدامات دیکھنے کو ملے۔ جس میں عوام کا رضاکارانہ اک دوسرے کی مدد اور فلاح کے اقدامات دیکھے گئے۔ کورونا وائرس کی پاکستان آمد اور اعصابی جنگ سمیت سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی ہڑبڑاہٹ میں جو بات سیکھنے کو ملی وہ یہ ہے کہ ہمارے یہا ں کچھ ایسے سیاہ پوش بھی ہیں جو حادثات کی کمائی کھانے سے باز نہیں آتے۔

ان کے خیال سے انسانی المیہ ہو کیسا ہی کیوں نہ ہو اگر ان کا نوٹ کئیں سے بن رہا ہے تو انہوں نے بنانا ہے۔ اور یہی لوگ حاثات کی پیداوار بھی ہیں اور حادثات کی کمائی کھانا بھی انہن کا پیشہ ہے۔ اس ہڑابڑی میں جہاں میڈٰیکل سائنس ماتھا پیٹ رہی ہے کہ اس اس وائرس سے بچاؤ کی ویکسین ابھی تیاری کے مراحل میں ہے وہی ہمارے دیس کے کچھ خیر خواہوں نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے پیاز بھی مہنگا کروانے کی ٹھیک ٹھاک سازش کی لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا۔ عوامی تبصروں تجزیوں سے یہ دلچسب حقیقت بھی ہم پر عیاں ہوئی کہ کورونا وائرس سے جان چھڑانے والے بہترین طبیب بھی ہمارے ہاں موجود ہیں۔ ان میں پیاز کی صلاح دینے والے الگ ہیں اور کورونا کا شرطیہ علاج کرنے والے بابا اسد بنگالی کا تو الگ ہی مقام ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *