بہاول پور جیپ ریلی اور چولستان کی تہذیب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحرائے چولستان کے تہذیب و تمدن کی تاریخ ہزارہا سال پر محیط ہے۔ ایک وقت تھاکہ یہاں دریائے ہاکڑہ پوری آب و تاب کے ساتھ بہتا تھا، ہر سو ہریالی تھی یہ خطہ ہزاروں سال سے امن و آشتی کا گہوارہ رہا ہے۔ وقت کی ستم ظریفی کہیے یا دریائے ہاکڑہ کی بے اعتناعی آج چولستان میں جانوروں کو تو دور کی بات ہے انسانوں کو بھی پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔

پندرہ سال پہلے نا جانے کس افلاطون کو یہ تدبیر سوجھی کہ لاکھوں سال پرانی سسکتی دم توڑتی غیروں سے خفا اور اپنوں کی بے اعتناعی پر نوحہ خواں چولستانی تہذیب کی کچھ دادرسی کی جائے۔ چولستانی تہذیب و ثقافت کے رنگوں کو دنیا پر آشکار کیا جائے اور چولستانیوں کو درپیش مسائل کو ملکی سطح پر اجاگر کیا جائے۔ یوں اس مقصد کی تکمیل کے لئے چولستان جیپ ریلی کا آغاز ہوا اور اس کا انتظام ٹی ڈی سی پی کے سپرد ہوا، مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ جیپیں چولستان کے ریگستان میں دوڑتی ہیں مگر ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ کے بیوروکریٹ ریلی سے متعلق سارے فیصلے لاہور میں بیٹھ کر کرتے ہیں۔

اس دفعہ تو انہوں نے حد ہی کر دی جیپ ریلی کی مرکزی افتتاحی تقریب بھی لاہور میں منعقد کی گئی جس میں بہاول پور سے کسی کو بھی مدعو نہیں کیا گیا۔ ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ کا تو بس نہیں چلتا وگرنہ وہ شاید لاہور کے پاس کوئی مصنوعی صحرا بنا کر ریلی وہیں منتقل کر دیتے۔ غیروں سے تو خیر کیا گلہ کریں ہمارے چیف منسٹر پنجاب جو کہ جنوبی پنجاب کے فرزند ہونے کے بھی دعویدار ہیں وہ بھی ریلی کی افتتاحی تقریب میں شمولیت کے اعلان کے باوجود تشریف نہیں لائے۔

ویسے تو بہاول پور وزیر اعلیٰ پنجاب کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں رہا مگر امید تھی کہ شاید فوٹو سیشن کی غرض سے ہی تشریف لے آئیں، چلیں وزیر اعلیٰ کو بھی چھوڑیں بہاول پور کے مقامی سیاستدانوں کی دلچسپی بھی صرف جیپ ریلی کے مقام پر بڑے بڑے بینر آویزاں کروانے تک محدود تھی جن میں ان کی طرف سے ریلی کے شرکاءکو خوش آمدیدکہا گیا تھا۔

چولستان جیپ ریلی ایک ایسا ایونٹ ہے جہاں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں لوگ ملک کے مختلف حصوں سے آتے ہیں۔ ہر سال موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی چولستان جیپ ریلی کی تیاریاں بھی شروع ہو جاتی ہیں۔ شوقین افراد کئی ماہ پہلے ہی ریلی کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔ ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام اس سال بھی تیرہ فروری سے سولہ فروری تک ریلی کا انعقاد کیا گیا اس موقع پر چولستان میں خیموں کا پورا شہر بسایا جاتا ہے۔ اس سال ٹریک کی لمبائی پانچ سو کلومیٹر تھی اور یہ ٹریک بہاول پور ڈویژن کے تینوں اضلاع بہاول پور، بہاول نگر اور رحیم یار خان کی حدود سے گزرتا ہے۔ اس سال بھی ریلی کے موقع پر چار لاکھ سے زائد لوگوں نے صحرائے چولستان کا رُخ کیا۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ جیپ ریلی بلا شبہ اشرافیہ کا کھیل ہے کوئی عام آدمی تو اس میں حصہ لینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا کیو نکہ ریس میں دوڑنے والی گاڑی پر ستر، اسی لاکھ سے لے کر دو کروڑ سے زائد کا خرچہ آتا ہے۔ عام لوگ تو پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ریلی کے مقام تک جا ہی نہیں سکتے۔

چولستان جیپ ریلی پر مقامی لوگوں کی طرف سے مختلف اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں مگر ارباب اختیار کے کان پر کبھی جوں تک نہیں رینگی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ چولستان جیپ ریلی کا مقصد چولستانی تہذیب و ثقافت کی ترویج اور مقامی لوگوں کے مسائل کو ملکی سطح پر اجاگر کرنا ہے، مگر یہ پروپیگنڈہ صرف جھوٹ کا ایک پلندہ ہے۔ ریلی کے موقع پر ہماری مذہبی اور اخلاقی روایات کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں، شراب و شباب کی محفلیں، جوا بازی اور بنت حواءکا قدرتی لباس میں رقص جیسے مکروہ کارناموں سے ناجانے کون سی چولستانی تہذیب کی خدمت ہورہی ہے۔

چولستان جیپ ریلی کے حوالے سے ہونے والی تقریبات میں بھی مقامی فنکاروں کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے اس سال ڈائریکٹر آرٹس کونسل رانا اعجاز محمود اور کمشنر بہاول پور آصف اقبال کا کردار لائق تحسین ہے کہ انہوں نے اس دفعہ ریلی سے متعلق پروگرامز میں مقامی فنکاروں کو بھی پر فارم کرنے کا موقع دیا۔ کمشنر بہاول پور نے ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ کے عہدیداروں کو تنبیہ کی کہ اس ایونٹ سے متعلق تقریبات پر مقامی فن کاروں کا حق ہے مگر چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے مصداق ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ میں مرکزی میوزیکل ایونٹ میں ابرارلحق کو مدعو کر ہی لیا۔

مقامی لوگوں کا شبہ ہے کہ ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ کے بیوروکریٹ اس جیپ ریلی سے خوب کمیشن کماتے ہیں جس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ ریلی کے انتظامات کے ٹھیکے بھی ہمیشہ کی طرح لاہور کی فرموں کو نوازے گئے۔ بنیادی طور پر چولستان جیپ ریلی اشرافیہ کی تفریح اور عیاشی کا بہانہ ہے جہاں انہیں کوئی روک ٹوک نہ ہویا پھر ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ کے بیوروکریٹس کی روزی روٹی کا انتظام کمیشن کی صورت میں ہو جاتا ہے۔

مقامی دانشوروں کا کہنا ہے پچھلے پچاس سالوں میں تخت لاہور نے چولستانی تہذیب اور چولستانیوں کی بھلائی کے لیے جو بھی منصوبہ بنایا وہ ان کی بد نیتی کی وجہ سے چولستانیوں کے لیے وبال جان بن گیا۔ آپ چولستان میں زرعی اراضی کی الاٹ منٹ کو ہی اٹھا کر دیکھ لیں وہاں بھی لاہور کے قبضہ گروپ قابض ہیں دوسری طرف سردیوں کے آغاز میں سائبیریا سے مہمان پرندوں کی کثیر تعداد میں چولستان آمد ہوتی ہے۔ صدیوں سے مقامی لوگ ان پرندوں کا بڑی خوشدلی سے استقبال کرتے تھے مگر اب صحرا کا ایک وسیع حصہ عرب شہزادوں کو ان معصوم پرندوں کے قتل عام کے لیے سونپ دیا گیا ہے اس حوالے سے چولستانیوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے یہ پرندے صدیوں سے ہمارے مہمان ہیں ان کے بڑوں کے ساتھ ہمارے بزرگوں کے صدیوں پرانے تعلقات ہیں۔ چولستان کے رہنے والوں میں یہ ایک احساس بے بسی بھی پایا جاتا ہے کہ وہ چولستانی روایات کے مطابق اپنے ان مہمانوں کی حفاظت بھی نہیں کر پاتے۔

چولستان وسیع راجھستان کا حصہ ہے اور یہ چولستان سندھ کے تھر، لیہ خوشاب کے تھل اور ہندوستان کے راجھستان کی مشترکہ روایات کا امین ہے۔ یہاں کے روہیلے، راجپوت اور دیگر جنگجو نسلوں نے اپنی بہادری، جواں مردی اور غیرت و حمیت کی وہ لازوال داستانیں مرتب کی ہیں جو ہماری ہزاروں سالہ تہذیب کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ یہ دھرتی غیرت و ناموس کی آماجگاہ ہے مگر جیپ ریلی کے بہانے یہاں گزشتہ پندرہ سال سے ناچ گانوں، جسم فروشی اور شراب و کباب کی محفلیں سجا کر چولستان کی غیرت مند دھرتی کو داغدار کیا جا رہا ہے۔

وطن عزیز کی اساس بھی دو قومی نظریہ اور اسلامی تشخص ہے۔ اس پاک سرزمین پر آج چولستان جیپ ریلی کی آڑ میں ان لہو و لعب کی محفلوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے، اس بے ہودگی کی نہ تو چولستانی اقدار اجازت دیتی ہے اور نہ ہی ہمارا مذہب۔ یہ فحاشی اور عریانی کسی طور بھی چولستانی یا پاکستانی تہذیب سے میل نہیں کھاتی۔ چولستانی تہذیب کی ترویج کے نام پر اہل مغرب کی بدبودار اور فحش تہذیب ہم پر مسلط کی جا رہی ہے۔ یہ قبیح اور مکروہ دھندہ فی الفور بند ہونا چاہیے۔ مولانا ظفر علی خان نے تئیس مارچ انیس سو چالیس کو قرارداد پاکستان کے موقع پر ایک قطعہ پڑھا تھا جس کا آخری مصرع آج کی اس صورتحال کے عین مطابق ہے۔

تہذیب نو کے منہ پر وہ تھپڑ رسید کر

جو اس حرام زادی کا حلیہ بگاڑ دے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *