عین آخری لمحوں میں امریکہ طالبان معاہدے میں ڈیڈلاک کیوں پیدا ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ اور افعان طالبان کے مابین 20 سالہ جنگ کے بعد 29 فروری کی شام قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جس وقت دستخط ہو رہے تھے، کابل میں انڈین وزیر خارجہ جے شنکر اور افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی سر جوڑے بیٹھے تھے اور بعد از معاہدہ کے افغان سیاسی منظر نامے کے ممکنہ خدوخال کا نہایت سنجیدگی سے جائزہ لے رہے تھے۔ بھارتی ودیش منتری ہفتہ کے روز تاریخی دوحہ اکارڈ پر دستخطوں کی تقریب سے کچھ گھنٹے پہلے ہی اسی طرح ہنگامی دورے پر افغان دارالحکومت پہنچے تھے جس طرح امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو آخری لمحات میں ہنگامی طور پر دوحہ پہنچے تھے،

کیوں کہ طالبان ”وزیر خارجہ“ ملا غنی برادر نے دستخطوں کی تقریب سے کچھ گھنٹے قبل اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ۔

ذرائع کے مطابق جب ملا غنی برادر کو پتہ چلا کہ دوسرے فریق یعنی امریکہ کی طرف سے خصوصی امریکی مندوب، افغان نژاد ذلمے خلیل زاد دستخط کریں گے اور دستخطوں کی تقریب میں وہی سب سے ”بڑے“ امریکی موجود ہوں گے تو انہوں نے طالبان کی طرف سے احتجاجاً دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا ”ذلمے خلیل زاد میرے status کے نہیں، کم از کم امریکی وزیر خارجہ یہاں موجود ہوں گے تو ہم سائن کریں گے“ اس پر ذلمے خلیل زاد نے فوری states ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کیا اور پھر سیکرٹری آف سٹیٹ یعنی امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو دوحہ کے لئے دوڑنا پڑا۔

واضح رہے کہ طالبان کے نمائندہ مذاکراتی وفد کے قائد ملا غنی برادر کو افغان طالبان کے وزیر خارجہ کی حیثیت حاصل ہے، افغان طالبان میں وہی قدرے تعلیم یافتہ شمار ہوتے ہیں جو انگریزی وغیرہ بولنا بھی آتا ہے۔

ادھر بھارتی اسٹیبلشمنٹ دوحہ معاہدہ سبوتاژ کرنے کی غرض سے متحرک ہوگئی ہے اور 29 فروری ہی کی سہ پہر انڈین وزیر خارجہ جے شنکر افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی سے ملاقات کے لئے ہنگامی طور پر کابل پہنچے جبکہ کابل روانگی سے قبل ان کی سابق ”را“ چیف وکرم سود سے طویل ملاقات ہوئی

ذرائع کے مطابق ”را“ کو پالیسی سازی اور حکمت ہائے عملی ترتیب دینے میں مدد پر مامور تھنک ٹینک ”آبزرویش ریسرچ فاؤنڈیشن“ میں اھم ذمہ داریوں پر تعینات وکرم سود نے اس تفصیلی بریفنگ میں بھارتی وزیر خارجہ کو نہ صرف ”بعد از دوحہ اکارڈ“ کے افغان منظر نامے کے حوالے سے تجاویز اور سفارشات پیش کیں کہ افغانستان کی امکانی صورتحال میں انڈیا کی کیا پالیسی اور حکمت عملی ہونی چاہیے بلکہ لندن میں حالیہ دنوں میں پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ اپنی ایک گھنٹہ طویل خفیہ ملاقات کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی خارجہ پالیسی ساز حلقے خطے کی امکانی صورتحال، بالخصُوص اگلے ہفتے اوسلو میں ہونے والے ”انٹرا افغان ڈائیلاگ“ کے حوالے سے جنگی بنیادوں پر اپنی حکمت عملی ترتیب دینے کے لئے متحرک ہو چکے ہیں۔ و

اضح رہے وزیر خارجہ جے شنکر سابق انڈین سیکرٹری خارجہ ہیں جن کے والد بھی ایک ممتاز ڈپلومیٹ تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) میں شامل ہوگئے تھے اور وزیراعظم نریندرا مودی نے انہیں خصوصی طور پر اپنے آبائی ضلع گجرات سے راجیہ سبھا یعنی بھارتی senate کا رکن منتخب کروایا، اس لئے کہ وہ وزیراعظم مودی کے ”ہندتوا“ نظریہ کے بہت بڑے حامی بتائے جاتے ہیں جو دیش میں ہندو غلبے اور دیش میں مسلمانوں کے علاوہ ”پاکستان کو کچل کے رکھ دو“ جیسی انتہا پسند سوچ کے پرچارک مانے جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *