نو ستارہ خفیہ تنظیم اور تسخیر کرنے والوں کا نامہ اعمال
سیمیوئل امریکہ کے گرین وڈ نامی ایک چھوٹے سے ٹاون میں رہتا تھا، اس کے والدین نے دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں جرمنی سے امریکہ ہجرت کی تھی اور انتہائی کسمپرسی میں زندگی بسر کرتے رہے تھے، سیمیوئل کے تعلیمی اخراجات بہت مشکل سے ادا کیے جاتے، سیمیوئل ذہین تھا، ہائی اسکول میں اس کو اسکالرشپ مل گیا، سیمیوئل نے بہت محنت کی اور ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں داخلہ لینے میں کامیاب ہو گیا، یونیورسٹی میں دن رات پڑھائی کی اور کمپیوٹر سائنس میں ایم فل کر لیا، دوران تعلیم اینا اس کی زندگی میں آئی لیکن سیمیوئل اینا کو زیادہ وقت نہ دے پاتا، اس کا جنون آئی ٹی کی فیلڈ میں کامیابیاں حاصل کرنا تھا، اینا صبر سے اس کا ساتھ دیتی رہی، اور اس کا حوصلہ بھی بڑھاتی رہی۔
ایک دن ملک کے سب سے بڑے سائنسی ادارے ”نو ستارے“ کے چند پروفیسرز یونیورسٹی میں طالب علموں سے ملاقات کرنے آئے، ان کا مقصد تھا کہ ادارے کے لئے ایسے افراد چن لئے جائیں جو کائنات میں موجود علوم کو جاننے کے خواہش مند ہوں، اور سائنس کی دنیا میں نئی تبدیلیاں لآئیں، سیمیوئل بہت پر جوش ہوگیا، وہ بھی پروفیسرز سے ملا، گفتگو کی، پروفیسر داود نے اسے غور سے دیکھا، سنا اور سراہا، سیمیوئل کو بہت خوشی ہوئی، اس نے احتراما پرفیسر داود کے ہاتھ کو بوسہ دیا، بزرگ پروفیسر شفقت سے مسکرا دیا، پھر پروفیسرز دورہ ختم کر کے واپس چلے گئے۔
چند مہینوں کے بعد سیمیوئل کو ادارے ”نو ستارے“ کی طرف سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا، سیمیوئل خوشی سے دیوانہ ہو گیا، اور جانے کی تیاری کرنے لگا۔
جس دن وہ گھر سے نکلا تو اس کی ماں نے خاص کھانے بنائے، اس کی ماں اور اینا دونوں اداس تھیں، لیکن سموئیل نے اپنی خوشی میں ان کی اداسی محسوس تک نہ کی، اور اس کار میں بیٹھ گیا جو اسے لینے آئی تھی، کار نے اس کو ایک ہوٹل میں پہنچا دیا، ہوٹل میں کافی پینے کے بعد اس کو گہری نیند آ گئی، جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو ہوٹل کے کمرے کے بجائے ایک انجانے کمرے میں پایا، وہ بوکھلا کر کھڑا ہو گیا، اور ادھر ادھر دیکھا، جیسے ہی اسے کمرے کا دروازہ نظر آیا وہ دروازے کی طرف بڑھا، اس کے قریب پہنچتے ہی دروازہ کھل گیا، وہ تیزی سے باہر نکلا، سامنے ہی سر سبز لان تھا، جہاں بہت سارے لوگ موجود تھے، لان میں ایک اسٹیج موجود تھا، جس پر موجود روسٹرم پر ”نو ستارے“ کا نشان موجود تھا، سیمیوئل چند لمحوں میں ساری صورتحال سمجھ گیا، اور مطمئن ہو گیا، چند لمحوں کے بعد پروفیسر داود ڈائس پر نظر آئے، سب نے نشستیں سنبھال لیں، پروفیسر داود نے مختصر خطاب کیا اور کہا، آپ سب کو آپ کے پسندیدہ علمی گوشوں میں پہنچا دیا جائے گا، جہاں آپ مزید علم حاصل کر سکیں گے، کتب سے لے کر نئی تحقیق کرنے کے تمام لوازمات آپ کے پاس موجود ہوں گے، ادارہ آپ کی مزید علمی جستجو کے لئے مددگار رہے گا، خوش آمدید۔
خطاب کے اختتام پر سب نے لنچ کیا پھر اپنے اپنے گوشوں میں پہنچ گئے، سیمیوئل چند ساتھیوں کے ساتھ اپنے گوشے میں پہنچا، وہ حیران رہ گئے۔ ان گنت کمپیوٹرائزڈ اسکرینز چاروں طرف لگی ہوئیں تھیں، جن کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک کے مختلف حصوں کے مناظر دکھائے جا رہے تھے، وہاں پہلے سے موجود دو افراد نے سیمیوئل کو اس کی ذمہ داریاں سمجھائیں، تھوڑی دیر کے بعد پروفیسر داود اس گوشے میں آئے، سیمیوئل احتراماً کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا، پروفیسر داود اور سموئیل آمنے سامنے بیٹھ گئے، پروفیسر داود نے کہا، سیمیوئل میں چاہتا ہوں تم دنیا کے ایک ایک فرد کو جان جاو، جو پیدا ہو چکے ہیں، جو مر چکے ہیں ان کو بھی اور جو پیدا ہونے والے ہیں ان کو بھی، تم کو نہ صرف سب کے نام بلکہ ان کے مشاغل وخیالات بھی معلوم ہونے چاہیئں، سیمیوئل بے حد حیران ہوا، وہ کیسے سر، یہ سوچنا تمھارا کام ہے، پروفیسر داود مسکرائے، اور یہاں یہی تمھاری ذمہ داری ہے، تمھارے پاس تین مہینے ہیں، اگر تم کامیاب ہو گئے تو یہ ادارہ تمھارا مستقل ٹھکانہ ہے، ورنہ ہم تمھیں نہیں رکھ سکیں گے، سیمیوئل حیران ہوا، وہ کچھ پوچھنا چاہتا تھا، لیکن پروفیسر نے موقع نہیں دیا، وہ اٹھ کر چلے گئے، سموئیل ہکا بکا سا تھا، وہ سوچنے لگا، آخر یہ کیسے ممکن ہو سکے گا، وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا، کمپیوٹر اسکرین جھلمھلا رہی تھی، سیمیوئل نے سوچا آخر وہ کیسے دوسرے فرد کے خیالات جان سکے گا، اسی کشمکش میں مہینہ گزر گیا، سیمیوئل دن رات پروگرامز اور ایپس میں الجھتا اور سوچتا، آخر یہ سب کیسے ممکن ہو سکے گا، اربوں انسانوں کو ایک جگہ پر کیسے اکٹھا کروں، مختلف انسان مختلف سوچ و دلچسپیوں کے حامل ہیں، کیا ان کو ایک جگہ جمع کرنا آسان ہے، نہیں یہ ناممکن ہے، وہ سوچتا لیکن پھر نا ممکن کو ممکن بنانے میں جت جاتا، بالآخر ایک دن اس نے پروگرام ترتیب دے لیا، سب سے پہلے اس نے اپنی یونیورسٹی کے دوستوں کو اس پروگرام پر پیغامات کے ذریعے دعوت دی، پھر اسکول کے دوستوں کے ای میلز حاصل کیے اور ان کو بھی پروگرام پر دعوت دے ڈالی، پھر استاتذہ کو، پھر اپنے خاندان کے لوگوں کو، اچانک اسے اینا یاد آئی اس نے اینا کا ای میل پروگرام میں شامل کیا، اینا کی اداس آنکھوں والی تصویر اس کی کمپیوٹر اسکرین پر جگمگانے لگی، تھوڑی دیر کے بعد اینا، آن لائن نظر آئی، سیمیوئل نے اس کو ہیلو کہا، وہ خوشی سے چیخی تم کہاں ہو سیمیوئل، تم نے کوئی رابطہ نہیں کیا، اب ہم رابطے میں رہیں گے اینا، سیمیوئل نے اسے تسلی دی۔
ان دونوں نے کافی دیر باتیں کیں، سیمیوئل نے ایپ کو نو ستارے کے سپر کمپیوٹر میں انسٹال کر دیا، سب ایک ساتھ اس کے رابطے میں آگئے، پروفیسر داود اس کی اسکرین پر نظر آئے، سیمیوئل نے ہیلو کہا تو وہ بھی ہیلو کہہ کر مسکرائے اور کہا تم کامیاب ہو گئے، کیا تم نے اینا سے بھی بات کی، سیمیوئل نے حیران ہوتے ہوئے جواب دیا، جی ہم نے کافی دن کے بعد بہت ساری باتیں کیں، پروفیسر داود مسکرائے اور کہا، میں چاہتا ہوں، اگلے مہینے تم واپس جاؤ اور اینا سے شادی کر لو، لیکن سر مجھے یہاں ابھی مزید کام کرنا ہے، ہاں تو کرتے رہنا، تم چند ہفتے کے بعد واپس آ جانا، لیکن سر میرا دل و ذہن یکسو نہیں ہو سکیں گے، پھر مجھے اینا زیادہ یاد آئے گی،
پروفیسر داود اسے غور سے دیکھتے رہے، پھر گویا ہوئے۔ میرے بچے۔ ”کائنات کو تسخیر کرنے سے پہلے خود کو تسخیر کرنا بھی سیکھو“ سیمیوئل چپ رہ گیا، اسکرین تاریک ہو گئی، سموئیل نے کچھ دیر سوچنے کے بعد ادارے کے دوسرے ساتھیوں سے بھی رابطہ کیا، سب نے ہی اس کی کوشش کو سراہا اور ایپ کے ذریعے اپنے مزید ساتھوں سے رابطے میں آ گئے، ایک مہینے کے اندر پورے ملک کے اداروں سے بہت سے افراد سیمیوئل کی ایپ سے منسلک ہو گئے، سیمیوئل نے یہ کامیابی پروفیسر داود کو بتائی، وہ سر ہلانے لگے۔
میں تم سے خوش ہوں سیمیوئل اب باقی کام ادارہ خود کرے گا، تم نے چار مہینے بہت محنت کی ہے اب تم گھر جاو، اور اینا، سے شادی کر کے کچھ دن یہ خوبصورت دنیا دریافت کرو اور پھر تازہ دم ہو کر واپس آو، سیمیوئل نے جوش سے پوچھا کیا میں ہمیشہ کے لئے نو ستارے سے وابستہ ہو گیا ہوں، بالکل میرے بچے اس ادارے کے دروازے تمھارے لئے ہمیشہ کھلے ہیں، یہ لو اپنی تنخواہ اور انعام، انہوں نے ایک لفافہ اس کی جانب بڑھایا، سیمیوئل نے بے تابی سے لفافہ چاک کیا، اس میں بنک کے چیک اور ملازمت پکی ہونے کا سندیسہ تھا، سیمیوئل خوشی سے بے حال ہو گیا، لیکن اس نے خود پر قابو رکھا، اور مودبانہ انداز سے پروفیسر کا، شکریہ ادا کیا، پروفیسر نے کہا، اب تم بے فکر ہو کر جا سکتے ہو۔
سیمیوئل اپنے کمرے میں آیا، وہ جلد از جلد اپنی ماں اور اینا کو یہ خوش خبری سنانا چاہتا تھا، اس نے کافی منگوائی اور آفس سے باہر نکلنے کے لئے ایک ای میل ہیڈ کوارٹر میں بھیجی، کافی پیتے ہی اس کو نیند آنے لگی، جب اس کی آنکھ کھلی تو، وہ اپنے گھر کے کمرے میں تھا اور اس کی ماں اور اینا اس کے قریب بیٹھی اس کو دیکھ رہی تھیں، سیمیوئل ایک دم اٹھ بیٹھا، یہ کیا ہوا، میں تو اپنے آفس میں تھا، اب تم اپنے گھر میں ہو اینا کھلکھلا ئی، سیمیوئل کی ماں مسکرائی، ہم شادی کی تیاریاں شروع کر رہے ہیں۔ سیمیوئل کو ادارے کا یہ طریقہ کار پسند نہیں آیا، لیکن وہ چپ رہا، اور دل کو تسلی دی۔ حفاظتی اقدامات کے لئے یہ ضروری ہے۔
ایک ہفتے کے بعد اینا اور سیمیوئل نے شادی کر لی، سیمیوئل دنیا کے چند خوبصورت مقامات پر اینا کے ساتھ گھومنے گیا اور تصاویر اپنے ایپ پر منتقل کیں، اس نے دیکھا، ایپ پر ہزاروں تصاویر موجود ہیں، اس کا ایپ دنیا کے ہزاروں افراداستعمال کرنا شروع کر چکے تھے، وہ حیران بھی ہوا، اور خوش بھی، اینا نے اسے اس کی کامیابی پر مبارکباد دی، دو مہینے کے بعد سیمیوئل کو ادارے کی جانب سے ٹیلیفون کال کے ذریعے آفس میں واپسی کے احکامات موصول ہوئے، سیمیوئل واپس پہنچا اور پروفیسر داود سے ملا، جنہوں نے اسے شادی کی مبارک باد دی، اور بتایا کہ اس کا ایپ کس قدر کامیابی سے دنیا میں اپنی جگہ بنا چکا ہے، لیکن میں مطمئن نہیں ہوں، سیمیوئل نے چونک کر پروفیسر داود کی طرف دیکھا، کیوں سر۔ کیونکہ ابھی ہماری رسائی لوگوں کے خیالات تک نہیں ہے، لوگوں کی سوچ و خیالات بھی جانچو سیمیوئل یہ بھی تسخیر کائنات کا حصہ ہے،
اوکے سر میں پوری کوشش کرتا ہوں، سیمیوئل اپنے آفس، میں آکر نئی تحقیق میں جت گیا، کئی سال گزر گئے، اس دوران سیمیوئل کا بیٹا پیدا ہوا اور اس کی والدہ کا، انتقال بھی ہوا، لیکن سیمیوئل کو ادارے کی طرف سے جانے کی اجازت نہ ملی، وہ جز بز ہو کر رہ گیا، کائنات تسخیر کرنے کی خواہش اس کے جذبات جوانی، خوشیاں اور غم کھا رہی تھی لیکن اس پر بھی دھن سوار تھی کہ وہ ادارے کے ساتھ اس تسخیر میں شامل رہے، اب وہ دنیا بھر کے لوگوں کے خیالات و افکار بھی جاننے لگا تھا، اس کو اور اس کے ادارے کو معلوم ہو گیا تھا کہ کس خطہ زمین کے لوگ کیسی سوچ رکھتے ہیں وہ اپنے آفس میں بیٹھ کر ان کی سوچ پڑھ سکتے تھے کیونکہ لوگ اپنی سوچ اپنے فون پر موجود ایپ پر لکھ دیتے تھے جو ادارے کے سپر کمپیوٹر میں محفوظ ہوتی جاتی تھی، نہ صرف سوچ بلکہ ان کے پسندیدہ کھانے، کھانے بنانے کی تراکیب، پسندیدہ لباس، جس دکان سے لباس خریدا، اس دکان کا پتہ، ان کے پسندیدہ سیاحتی مقام، ان کے نزدیکی باغ، ان کے آفس اور گھر آنے جانے کے اوقات سب کچھ ان کو معلوم ہو چکا تھا، وہ سب کچھ دیکھتے، سنتے، جانتے اور محفوظ کرتے جارہے تھے، وقت گزرتا رہا، ادارے میں وہ لوگ بھی نظر آنے لگے، جن کی علمیت، افکار و خیالات جان کر ان کو ادارے میں ملازمت دے دی گئی تھی، ان افراد کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے تھا۔
کچھ وقت کے بعد سیمیوئیل سمیت سارے ملازمین کے اہل خانہ کو بھی ادارے سے منسلک رہائشی عمارات میں بلا لیا گیا، وہ سب بہت خوش ہو گئے، اور ہنسی خوشی رہنے لگے۔ اینا اور سیمیوئیل کا بیٹا بھی آ گیا۔ سیمیوئیل خوش و مطمئن ہو کر مزید تندہی سے تسخیر میں مصروف ہو گیا، ادارہ اب بڑے سے شہر کا منظر پیش کرتا تھا، جہاں درس گاہیں، باغ، لائبیریاں، انواع و اقسام کے پھول پودوں، پرندوں اور جانوروں پر مشتمل عجائب گھراور تفریح گاہیں تھیں، سر اٹھانے پر گلابی سا آسمان دکھائی دیتا، لیکن کوئی اسپتال نہ تھا، کیونکہ کوئی فرد بیمار نہ ہوتا تھا، لوگ صحت مند اور جوان رہتے تھے، پروفیسر داود کے ساتھیوں نے بیماریوں کو تسخیر کر لیا تھا، وہ غم اور تکلیف سے نجات پا چکے تھے، لیکن سیمیوئیل کا کام ختم نہیں ہوا تھا، وہ اب بھی اس نئے شہر کے باسیوں کے اوقات کار اور نظریاتی افکار جانچتا رہتا تھا، وقتا فوقتا پروفیسر داود سے اسے ہدایات بھی ملتی رہتیں۔
کچھ عرصے کے بعد لوگوں کے اظہار خیال سے اس نے محسوس کیا کہ لوگ کچھ بے چین سے ہیں، وہ نو ستارے کے شہر سے نکل جانا چاہتے ہیں، اور بیزاریت کا اظہار کرتے رہتے ہیں، چند دن تو وہ دیکھتا رہا، پھر ایک دن جب اس نے ایک سوشل گروپ میں بغاوت کی باتیں سنی تو وہ پریشان ہو کر پروفیسر داود کے پاس بھاگا، پروفیسر داود تازہ دم اور چاق و چوبند دکھائی دیتا تھا، اس کی آنکھیں بہت چمک رہی تھیں، اس نے پروفیسر داود کو ساری روداد بیان کی، پوری بات سن کر پرفیسر داود مسکرایا، اور کہا مجھے سب معلوم ہے، میں ان سب کو دیکھ رہا ہوں، سن رہا ہوں، پڑھ رہا ہوں اور سمجھ بھی رہا ہوں،
یہ کیا چاہتے ہیں آخر، سیمیوئیل نے پوچھا، پروفیسر مسکرایا، جاؤ ان سب سے پوچھو، سیمیوئیل سوشل گروپ میں داخل ہوا اور پوچھا، کیا پریشانی ہے آپ لوگوں کو، آخر کیا چاہتے ہیں آپ سب۔ کئی لوگ چیخے، ہم یہاں سے نکل جانا چاہتے ہیں، آخر کیوں، نہ یہاں غم۔ ہے، نہ بیماری، نہ دشمن، یہاں صرف امن و سلامتی ہے، آخر آپ کیوں جانا چاہتے ہیں، ہم اپنی مرضی کی زندگی جینا چاہتے ہیں، اپنی سوچ، اپنے نظریے اور اپنے خیالات کے ساتھ، پروفیسر داود کی پسند کی زندگی ہم نہیں گزار سکتے۔
سیمیوئیل خاموش ہو گیا، اور پھر پروفیسر داود کے آفس میں پہنچ گیا، پروفیسر مسکرا رہا تھا، سیمیوئل کو کچھ حوصلہ ہوا، آپ یقینا سن چکے ہوں گے وہ کیا چاہتے ہیں۔
ہاں میں نے سب سن لیا ہے، تم کیا کہتے ہو اس معاملے میں، اچھی طرح سوچ کر بتاو، سیمیوئیل چند ثانیے سوچ میں ڈوبا رہا، پھر محتاط لہجے میں بولا، سر میرے خیال سے ان کو جانے دیا جائے، ہم ان کو قید کر کے نہیں رکھ سکتے، نہ ہی کسی کی سوچ و خیالات پر پابندی لگا، سکتے ہیں۔
پروفیسر نے کہا، ٹھیک ہے تم بھی ان کے ساتھ جا، سکتے ہو، سیمیوئیل بوکھلا گیا، اور جلدی سے گویا ہوا، میرا یہ مطلب نہیں تھا، سر، میں اچھی طرح جانتا ہوں، تمھارا کیا مطلب ہے، دیکھو یہ ادارہ، یہ شہر میں نے بنایا ہے، یہاں میری مرضی سے زندگی گزارنا ہو گی، سیمیوئیل چپ چاپ کھڑا رہا، پھر آہستگی سے پوچھا، باہر نکلنے کی خواہش رکھنے والوں سے کیا کہوں،
ان سے کہہ دو اگر وہ جانا چاہتے ہیں تو اپنے نامہ اعمال ساتھ لے کر جائیں۔ پروفیسر نے سرگوشی کی۔ سیمیوئیل پروفیسر کو تکتا رہ گیا۔


