سفر ایران: کنار آب رکناباد و گلگشت مصلّا را

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کتنے ہی برسوں سے ایران جانے کا پروگرام بن رہا تھا، لیکن میرا جانا نہ ہوا۔ پرویز تو کئی بار جا چکے لیکن مجھے تامل رہا۔ ایران سے بہت ساری یادیں وابستہ ہیں۔ اتنا خوبصورت ملک، گرمجوش لوگ، میٹھی زبان اور عظیم تاریخی اور ادبی ورثہ ۔ یہ سب مجھے بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ لیکن ان حسین یادوں میں کچھ تلخیاں بھی شامل ہو گیں۔ ایسا وقت بھی گذرا جب میں انتہائی دل برداشتہ اور مایوس ہوگئی۔ پرویز ناروے جا چکے تھے اور میں تینوں بیٹوں کے ساتھ ایران میں رہ گئی۔ جب جانا چاہا تو اجازت نہیں ملی۔ کن مشکلات سے میں اپنے بچوں کے ساتھ وہاں سے نکلی وہ ایک الگ داستان ہے، پھر کبھی سہی۔ ناروے آئے تیس سال ہو گئے۔ سب بلاتے رہے اور اس بار میں نے سسرال جانے کی ہمت پکڑ ہی لی ۔ پرویز سےشرط میں نے یہ رکھی تھی کہ ہم ہوٹل میں ٹہریں گے اور اصفہان اور شیراز بھی جایں گے۔ حال تو اپنا یہ ہے کہ۔

 اب نہ پاۓ عجز میں زنجیر شوق در بدری

نہ انگلیوں میں سکت بوریا اٹھانے کی

پھر بھی ہم نے ارادہ باندھ لیا۔

17 فروری کے لیئے ہم نے قطر ایر ویز سے ٹکٹس بک کرا لیں۔ ہوٹل کا کمرا بھی ریزرو کرا لیا۔ ہمارے ہم سفروں میں نارویجین کی ایک بڑی تعداد تھی، کچھ انڈین تھے، کچھ عرب ہمارا خیال تھا کہ ناروے میں رہنے والے کچھ ایرانی بھی اس سفر میں ہونگے۔ لیکن ایرانی کوئی دکھائی نہیں دیا۔ یہاں رہنے والے ایرانی زیادہ تر ترکش ایر لاین س ایران کا سفر کرتے ہیں۔ شاید وہی عربی عجمی سنڈرم۔ قطر ایئر لاین کی پرواز ٹھیک وقت پر روانگی ہوئی۔ جہاز کا عملہ نہایت خوش اخلاق اور اسمارٹ اور تعداد میں بھی کافی تھا۔ سب کے سب مسافروں کی خدمت میں مصروف تھے۔ اتنی اچھی اور معیاری سروس کم کم ہی دیکھی۔ کھانا البتہ ہمارے ذوق کے مطابق نہیں تھا۔ پھیکا اور بے مزہ۔ عادت ہے کچھ چٹ پٹا کھانے کی۔ جہاز کے کپتان نے اپنا اور اپنے عملے کا تعارف کروایا اور بتایا کہ خود اس کا تعلق سربیا سے ہے۔ پاکستان میں تو شاید سربیا اور سربوں کو ناپسند کرتے ہیں لیکن عربوں نے اپنے دل بڑے کر لیے ہیں۔ وہ تو اسرایئلیوں سے بھی گلے مل رہے ہیں۔

پرواز ٹھیک وقت پر دوحا پہنچ گئی۔ لینڈنگ کے وقت سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ کھڑکی سے دیکھا تو نیچے پر سکون سمندر دکھائی دیا اور کچھ اونچی اداس سی عمارتیں۔ نہایت افسردہ سا منظر تھا۔ جہاز لینڈ ہوا تو پاس ہی رن وے پر دو اور قطر ایر ویز کے جہاز ایک دوسرے سے خفا خفا سے کھڑے تھے۔ ہم پر بھی اداسی طاری ہونے لگی۔ لیکن ایرپورٹ کے اندر داخل ہوتے ہی فضا بدلی بدلی نظر آئی۔ رنگ برنگے لوگ، بھانت بھانت کی بولیاں، لمبی طویل رایداریاں۔ چاق و چابند گراونڈ عملہ۔ اور سب کے سب غیر عربی۔ آپ دوبئی کو تین سے تقسیم دے دیں تو دوحا نکل آئے گا۔ بالکل وہی اطوار ہیں اور ترقی کی وہی رفتار بھی۔ قطری شہزادے خط وط لکھنے میں سستی کرتے ہوں گے لیکن اپنے ملک کو بنانے میں پوری توجہ دے رہے ہیں۔

قطر نے امیر ہونے کے بعد بڑی تیزی سے مہذب دنیا میں اپنی جگہ بنا لی۔ یہاں عورتوں کو کار چلانے کی اجازت ہے اور وہ اپنا کاروبار بھی آزادی اور خود مختاری سے کر سکتی ہیں۔ چوروں کے ہاتھ نہیں کاٹے جاتے۔ غیر مسلموں کو بھی کافی حد تک مذہبی آزادی ہے۔ مکمل بادشاہت اور غیر جمہوری سسٹم کے باوجود دنیا انہیں مہذب قرار دے رہی ہے۔ یہاں تیل بولتا ہے اور تیل کی زبان دنیا خوب سمجھتی ہے۔ قطر کی کل آبادی 2٫5 میلین ہے جس میں 31 ہزار قطری ہیں اور باقی سب یہاں وہاں اور کہاں کہاں کے۔ اب یہاں 2022 میں فٹ بال کے عالمی مقابلے منقعد ہو رہے ہیں اور تیاریاں زوروں پر ہیں۔ پرواز کے دوران حفاظتی تدابیر اور ہنگامی حالات میں ضروری اقدام کے بارے میں جو بور قسم کی باتیں بتائی جاتی ہیں اور جنہیں لوگ اب غور سے سنتے بھی نہیں۔ قطر ایر لاین نے اپنے فٹ بال ایونٹ کے بس منظر میں ایک دلچسپ اور مزاحیہ سی فلم بنائی اور ہنستے ہنساتے مسافروں کو حفاظتی تدابیر بتا ڈالیں۔ یہ کلپ یو ٹیوب پر موجود ہے۔

قطر ایر لاین کا اب دنیا کی بہترین ایر لاینز میں شمار ہوتا ہے۔ کبھی پی آئی اے بھی اس درجے پر تھا۔ دوسروں کو پرواز کے جوہر سکھا دیئے اور خود بھول بھال گئے۔ باکمال لوگوں کا کیسا لاجواب زوال ہوا۔ دوحا میں دو گھنٹے کا ٹرانزٹ تھا۔ وقت کم تھا لیکن شاپنگ بھی ضروری تھی۔

 دوحا کی ڈیوٹی فری دیکھ کر آنکھیں کھل گیں۔ یہ بڑی بڑی زیورات اور جواہرات کی دکانیں۔ کچھ زیورات کی دوکانیں دیکھ کر اندازہ ہوا کہ انڈین ہیں۔ ہر برانڈ کے لباس ،جوتے اور ہینڈ بیگز۔ اور چلتے چلتے نگاہ پڑی ویکٹوریا سیکریٹس کی شاپ پر جہاں ٹھیک ٹھاک رش تھا۔ دوحا میں دو گھنٹے کا ٹرانزٹ تھا اور ٹھیک ٹائم پر تہران کی پرواز نے اڑان لی۔

شام ڈھلے تہران کے امام خمینی ایرپورٹ پر اترے۔ جہاز کا دروازہ کھلتے ہی دو خواتین ہاتھوں میں کورونا وائرس چیک کرنے والا آلہ لیے کھڑی تھیں اور ہر ایک کے ماتھے پر لگا کر چیک کر رہی تھیں۔ اطمینان ہوا یہ جان کر کہ ہم کرونا فری ہیں۔ ٹنل سے نکلتے ہی دیکھا کی دو نوجوان لڑکیاں یونیفارم میں ملبوس ہاتھوں میں گلاب کی ٹہنیاں پکرے کھڑی تھیں اور ہر مسافر کو ایک ایک ٹہنی تھام رہی تھیں۔ ” خوش آمدید۔ آپ کو حضرت ۔۔۔۔۔ کا روز تولد مبارک ہو” میں نے گلاب تو لے لیا لیکن قسم سے مجھے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کس کی سالگرہ کا دن تھا۔ تہران کا امام خمینی ایرپورٹ بہت بڑا نہیں۔ شکر کیا کہ لمبی رہداریوں میں چلنا نہیں پڑا۔

ہم سامان کی بیلٹ کے سامنے کھڑے اپنے سامان کا انتظار کرنے لگے۔ یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ہر بار ہمارے سوٹ کیسیز آخری کھیپ میں آتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ کیا راز ہے۔ ہماری پرامید نظریں ہر سوٹ کیس سے ٹکراتی مایوس لوٹتی رہیں۔ ایک صاحب آگے بڑھے اور اپنی خدمات پیش کیں۔ ہم نے مان لیا لیکن جب سوٹ کیس آئے تو وہ صاحب غائب تھے۔ ویسے بھی اپنا کام خود کرنے کی عادت ہو گئی ہے۔ سوٹ کیس ٹرالی پر دھرے سامنے ہی موبایئل سیم کی دوکان تھی۔ سب نے ہمیں یہی مشورہ دیا تھا کہ جاتے ہی ایرانی سیم ڈلوا لیں سو ہم نے ڈلوالی۔

ٹرالی دھکیلتے ہم ایرپورٹ کی عمارت سے باہر نکلے۔ سامنے ہی ٹیکسی ڈرائیورز کی ایک قطار نظر آئی۔ سب سے آگے والے نے ہم سے بات کرنی شروع کردی۔ یہ ٹیکسیاں ایرپورٹ سے تصدیق شدہ ہیں اور قابل اعتماد ہیں۔ ڈرایئور نے سامان ڈگی میں رکھا اور میرے لیے دروازہ کھولا۔” بفرمایئد مادر” ایک لمحے کو دل ڈول سا گیا۔ تیس سال پہلے مجھے یہاں “خواہر” (بہن) کہا جاتا تھا۔ اب درجات بلند ہو گئے۔ لیکن خیر اتنا تو ہوتا ہی ہے اتنے برسوں میں۔

دنیا کے اکثر ٹیکسی ڈرایئورز کی طرح یہ بھی باتونی تھا۔ ہمارے بیٹھتے ہی اس نے حال دل سنا ڈالا۔ سیاست سے لے کر اقتصادیات اور ٹریفک سے لے کر لوگوں کے عام رویوں پر کھل کے بحث کی۔ راستہ طویل تھا اور تھکن بھی سوار تھی پھر بھی اس کی باتیں ہم دونوں نے بہت غور سے سنیں۔ لیکن کچھ کہنے سے گریز کیا۔

آدھی رات کے قریب ہم ہوٹل پہنچے۔ تھکن سے چور جلد ہی سو گئے۔

اگلے دن فون پر ساس کی جھڑکیاں اور نند کی خفگی کا سامنا کیا۔ اسی دن دونوں سے ملاقاتیں کیں اور مزید ڈانٹ کھائی کہ ہوٹل میں کیوں ٹھہرے ہیں ۔ بمشکل انہیں قائل کیا کہ یہی بہتر ہے نہ آپ تنگ ہوں نہ ہم۔ وہ قائل نہ ہوئیں۔

اگلے تین دن خاندان کے کچھ افراد سے ملنا ملانا ہوا۔ دوچار دعوتوں میں شرکت کی لیکن اعلان ہو رہے ہیں کہ کورونا وائرس کی وجہ سے بہت سارے لوگ ایک جگہ جمع نہ ہوں۔ باقی دعوتیں کینسل کرنی پڑیں۔

 ایک ٹریول ایجنسی سے 24 فروری کے لیئے اصفہان اور شیراز کا ٹرپ بک کیا تھا۔ کورونا کا رونا شدت اختیار کر گیا۔ ساس نے واسطے دیے، نند نے تو صاف صاف کہہ دیا کہ ہر گز جانے نہ دوں گی۔ یہ خطرناک ہے۔ 21 کو اصفہان، شیراز کا ٹور کینسل کیا۔ ٹھیک ٹھاک جرمانہ بھی ادا کیا۔

بچے گھبرائے ہوئے ہیں کہ بس جلدی واپس آ جائیں۔ ہم نے بھی سوچا کہ یوں ہوٹل کے کمرے میں بیٹھنے تو ہم نہیں آئے تھے۔ ساس کا گھر دور ہے، نند کا اس سے بھی دور۔ اور تہران کی ٹریفک۔۔۔ الامان الحفیظ۔ بال برابر فاصلے سے گاڑی نکال لیتے ہیں۔ کوئی کسی کو راستہ دینے کو تیار نہیں۔ موٹر بائیکس سوار دائیں بائیں جانے کہاں کہاں سے نکل کر آ جاتے ہیں۔ ایران کے ڈرائیورز کو ضرور کوئی میڈل ملنا چاہیئے۔ کیا مہارت ہے۔

25 کو قطر ایر لاین کے دفتر پہنچے کہ بھائی کوئی جلدی کی فلایئٹ مل سکتی ہے؟ بولے 29 کی رات کی ہے۔ جرمانہ دو ٹکٹس پر 25 ملین تومان۔ ایران کی کرنسی عجیب و غریب ہے۔ سرکاری کرنسی ریال ہے۔ دس ریال کو ایک تومان کہتے ہیں۔ اب خرید و فروخت کے وقت تومان میں بات ہوتی ہے۔ لیکن لین دین ریال میں۔ ایک چیز کی قیمت اگر 1000 تومان ہے تو نوٹوں پر ریال لکھا ہے اور وہ ہے 10000 آپ ٹوٹل کنفیوژن میں ہیں۔ اتنے سال ایران رہنے کے باوجود میں اس کرنسی سے پوری طرح آشنا نہ ہو سکی۔ اب یہاں 10000 اور 50000 کے نوٹ بھی آ گئے ہیں۔ ایرانی ریال کا وہی حال ہے جو چند سال پہلے ترکی لیرا کا تھا۔ ترکی نے لیرا سے دو صفر اڑا دیئے اور اپنی کرنسی کی ویلیو بڑھا لی۔ یہاں ایک نان پانچ ہزار کا۔ پانی کی بوتل بھی اتنے کی۔ ٹیکسی کا سفر 40 ہزار سے 50 ہزار تک۔ ہر شخص لاکھوں میں کھیل رہا ہے۔ قطر ایر ویئز کو دینے کے لیئے ہم دس ملین ساتھ لے گئے تھے سوچا تھا کہ اتنے میں کام ہو جائے گا۔ 25 ملین ہمارے پاس اس وقت نہیں تھے سوچا کل ول آ کر ادایئگی کر دیں گے۔ اسی دن پتہ چلا کہ تمام پروازیں کینسل ہو گیں۔

25 فروری کی رات کو یہ خبر بھی ملی کہ ہماری واپسی کی فلایئٹ جو 6 مارچ کی تھی وہ بھی کینسل ہو گئی۔ بلکہ قطر ایر نے ایران کی تمام پروازیں بند کر دیں۔ مزید خبر آئی کہ تمام انٹرنیشنل پروازیں بھی بند کر دی گیں۔ اب کوئی چاہے کتنا ہی کہتا رہے کہ گھبرانا نہیں ہم تو گھبرا گئے۔ بچے ناروے سے کوششیں کرتے رہے کہ کسی طرح کوئی پرواز مل جائے۔ ہم بھی سر توڑ چکے لیکن کوئی در نہ کھلا۔ تنگ آ کر ناروے کی ایمبسی کو ای میل کی کہ بھئی آپ ہی کچھ خیال کریں۔ جواب آیا کہ ابھی ایمرجنسی کی لیول اتنی سرخ نہیں ہوئی کہ نارویجین کا اخراج کیا جائے۔ صبر کیجئے۔ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔

26 فروری کو ہمارے ٹریول ایجینٹ کی میل موصول ہوئی کہ آپ کے ٹکٹس 10 مارچ کو بک ہو سکتے ہیں۔ اس وقت تک قطر ایر لاین دوبارہ پروازیں شروع کر دے گا۔ ہم نے قبول کر لیا۔ لیکن ساتھ ہی کوشش جاری کہ کہیں سے کوئی اور پرواز مل جائے۔

ہمارا سفری بیمہ ہے۔ بچوں نے بیمہ کمپنی سے رابطہ کیا۔ وہ بھی پرواز تلاش کرتے رہے۔ 11 مارچ کی ایک پرواز انہوں نے ڈھونڈی لیکن ہم نے 10 مارچ والی او کے کر لی۔ دیکھنا یہ ہے کہ پرواز اڑتی ہے یا پھر کچھ غیر متوقع ہوتا ہے۔

ان دنوں ایرانی عام طور پر اپنے نوروز کے دن کے استقبال کی تیاریاں کرتے ہیں۔ یہ دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ گھر کے درودیوار کی صفائی ہوتی ہے۔ پردے اور قالین دھلتے ہیں۔ خرید داری زوروں پر ہوتی ہے۔ ہفت سین سجایا جاتا ہے۔ لیکن اب یہ سب دھندلا سا گیا ہے۔ اب یہاں ماسک اور اینٹی بکٹیریا دوا کی مانگ ہے اور کئی دوکانوں پر نا پید ہے۔ سرجیکل گلوز کا بھی یہی حال ہے۔ ڈھونڈنے سے نہیں مل رہے۔ ہر حال میں خوش اور مست رہنے والے ایرانی غم زدہ اور پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ ہوٹل کی ریسپشنیسٹ سے بات ہوئی تو وہ بتا رہی تھی اب غذائی قلت بھی ہو رہی ہے۔ دوکانوں پر روز مرہ کی کھانے پینے کی چیزیں بھی بمشکل دستیاب ہیں۔

ہم تقریباّ اپنے ہوٹل کے کمرے میں قید ہیں۔ کہیں آنا جانا نہیں ہو رہا۔ صرف فون پر ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ شکر ہے کہ انٹر نیٹ ہے، جس سے رابطے قائم ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *