حکمرانی کا حق کسے حاصل ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اردو ترجمہ: ڈاکٹر ساجد علی

(کارل پوپر کے لیکچر ”ایقان مغرب“ سے ایک اقتباس)

افلاطون اشرافیہ کی مطلق العنان حکومت کا نظریہ ساز تھا۔ اس نے سیاسیات کے بنیادی مسئلے کو اس سوال کی صورت میں پیش کیا تھا: حکمرانی کا حق کسے حاصل ہے ؟ ریاست کا حکمران کسے ہونا چاہیے؟ متعدد افراد کو، ہجوم کو، عامتہ الناس کو، چند افراد کو، منتخب لوگوں کو یاخواص کو ؟

”حکمرانی کا حق کسے حاصل ہے “ اگر ایک بار اس سوال کی بنیادی حیثیت کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کا صرف ایک ہی معقول جواب ہو سکتا ہے: ان لوگوں کو حکمرانی کا حق نہیں جو علم سے بے بہرہ ہیں بلکہ صاحبان علم کو، دانا لوگوں کو حکمران ہونا چاہیے؛ بے مغز ہجوم کو نہیں بلکہ چند بہترین افراد کو۔ یہ ہے افلاطون کا نظریہءحکمرانی، بہترین کی، اشرافیہ کی حکومت۔

یہ بات بہت عجیب دکھائی دیتی ہے کہ جمہوریت کے عظیم نظریہ سازوں اور اس افلاطونی نظریے کے شدید مخالفوں، مثلاً روسو، نے افلاطون کے بیان مسئلہ کو ناقص قرار دے کر رد کرنے کی بجائے اسے قبول کر لیا، کیونکہ یہ بہت واضح ہے کہ سیاسی نظریے کا بنیادی سوال وہ نہیں ہے جسے افلاطون نے بیان کیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ”حکمران کسے ہونا چاہیے؟“  یا ”اختیار کس کے پاس ہونا چاہے؟“ بلکہ اصل سوال یہ ہے، ”حکومت کو کتنا اختیار دیا جانا چاہیے“؟ یا درست ترانداز میں ”کیا ہم اپنے سیا سی اداروں کو اس انداز میں استوار کر سکتے ہیں کہ نااہل اور بددیانت حکمران زیادہ نقصان کا باعث نہ بن سکیں؟“ بالفاظ دیگر، سیاسی نظریے کا بنیادی مسئلہ چیک اور بیلنس کا مسئلہ ہے یا ایسے اداروں کا قیام جن کی مدد سے سیاسی اختیار کے بے مہار اور غلط استعمال کو کنٹرول کیا جا سکے۔

مجھے اس پر شک نہیں کہ مغرب میں ہم جس قسم کی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں وہ ایسی ریاست سے زیادہ کچھ نہیں جس میں اختیار محدود اور ضوابط کا پابند ہو۔ جس جمہوریت پر ہمارا یقین ہے وہ قطعا ً کوئی مثالی ریاست نہیں ہے؛ ہم اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ بہت کچھ ایسا وقوع پذیر ہوتا ہے جسے ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ سیاست میں آئیڈیل کی خاطر جدوجہد کرنا بچگانہ پن ہے اور مغرب میں ہر معقول اور بالغ نظر شخص یہ بات جانتا ہے کہ ”تمام تر سیاسی عمل کم تر برائی کے انتخاب کا نام ہے “( وی آنا کے شاعر کارل کراؤس کے الفاظ میں)۔

 ہمارے نزدیک حکومت کی دوہی اقسام ہیں: وہ حکومتیں جن سے عوام خون خرابے کے بغیر چھٹکارا پا سکتے ہیں اور دوسری وہ جن سے اگر کبھی نجات پانے کا امکان پیدا ہو بھی جائے تو ان حکمرانوں سے خون آلود محاذ آرائی کے بعد ہی ان سے نجات پائی جا سکتی ہو ۔ ان میں پہلی قسم کو ہم جمہوریت کا نام دیتے ہیں دوسری کو آمریت یااستبدادی حکومت۔ یہاں ناموں کی کوئی اہمیت نہیں، اصل اہمیت حقائق کی ہے۔

ہم مغرب میں جمہوریت کے اس معتدل مفہوم پریقین رکھتے ہیں کہ یہ سب سے کم برا طرز حکومت ہے۔ اس شخص نے بھی جمہوریت کو اسی طرح بیان کیا تھا جس کا حصہ جمہوریت اور مغرب کے تحفظ میں سب سے بڑھ کر ہے۔ ونسٹن چرچل نے ایک دفعہ کہاتھا، ”جمہوریت بد ترین طرز حکومت ہے سوائے حکومت کے دیگر تمام طریقوں کے جنہیں وقتاً فوقتاً آزمایا جاتا رہا ہے۔“

ہم جمہوریت پریقین رکھتے ہیں لیکن اس بنا پر نہیں کہ یہ عوام کی حکمرانی ہے۔ ہم حکمرانی نہیں کرتے نہ آپ نہ میں؛ اس کے برعکس، ہم پر حکمرانی کی جاتی ہے اور بعض اوقات ہماری مرضی اور منشا سے بھی زیادہ۔ ہم جمہوریت پرایک ایسے طرز حکومت کی حیثیت سے یقین رکھتے ہیں جو پرامن اور موثر سیاسی اپوزیشن سے مطابقت رکھتی ہو اور سیاسی آزادی کے ساتھ بھی۔

میں قبل ازیں اس افسوسناک حقیقت کا تذکرہ کرچکا ہوں، کہ فلاسفہ سیاست نے کبھی بھی افلاطون کے اس گمراہ کن سوال ”حکمران کسے ہونا چاہیے؟“ کو واضح طور پر رد نہیں کیا۔ روسو نے بھی یہی سوال پوچھا تھا لیکن اس کا جواب بالکل الٹ تھا ”عوام کی مرضی کو حکمران ہونا چاہیے یعنی چند افراد ہی نہیں بلکہ اکثریت کی حکومت ہونی چاہیے“؛ یہ جواب در حقیقت بہت خطرناک ہے کیونکہ یہ ”عوام “ یا ”عوام کی رضا“ کو خدائی کے منصب پر فائز کرنے والی بات ہے۔ افلاطون ہی کے انداز میں مارکس بھی یہی سوال اٹھاتا ہے: ”سرمایہ دار یا پرولتاریہ میں سے کسے حکمران ہونا چاہیے؟ اور اس کا جواب بھی یہی تھا: ”اکثریت کو، نہ کہ چند افراد کو؛ سرمایہ داروں کو نہیں بلکہ پرولتاریوں کوحکمران ہونا چاہیے۔“

روسو اور مارکس کے برعکس، ہمارے نزدیک ووٹ یا انتخابات کے ذریعے حاصل ہونے والا اکثریتی فیصلہ بغیر خون خرابے کے اور آزادی پر کم سے کم پابندیاں عائد کرتے ہوئے تنازعات کے حل تک پہنچنے کا محض ایک وسیلہ ہے۔ بلاشبہ اکثریت کے فیصلے اکثر غلط ہوتے ہیں اور ہمیں اس بات پر زور دینا چاہیے کہ اقلیتوں کے اپنے حقوق اور آزادیاں ہیں جنہیں کسی اکثریتی فیصلہ کے ذریعے موقوف نہیں کیا جا سکتا۔

 میں نے جو کچھ کہا ہے یہ میرے اس قیاس کی تائید کرے گا کہ رائج الوقت اصطلاحات ”عوام “، ”اشرافیہ “ اور ”عوام کی بغاوت “کی جڑیں افلاطونیت اور مارکسیت کے نظام ہائے حیات میں پیوست ہیں۔

جس طرح روسو اور مارکس نے افلاطون کے جواب کوالٹ دیا تھا اسی طرح مارکس کے بعض مخالفین مارکس کے جواب کو الٹ دیتے ہیں: وہ ”عوام کی بغاوت “ کا توڑ ”اشرافیہ کی بغاوت “ سے کرنا چاہتے ہیں، اور اس طرح وہ افلاطون کے جواب، اشرافیہ کے حق حکمرانی، کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ لیکن یہ ساری اپروچ ہی غلط ہے۔ اے خدا ہمیں مارکسیت کے اس رد سے محفوظ رکھ جو محض مارکسیت کی تقلیب ہو: ہم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اشتراکیت مارکسیت کی مخالف اس اشرافیہ سے قطعاً بد تر نہیں ہے جس نے اٹلی، جرمنی اور جاپان پر حکومت کی اور جن سے چھٹکا را پانے کی خاطر ایک عالمی جنگ کی ضرورت پڑی تھی۔

لیکن تعلیم یافتہ اور نیم تعلیم یافتہ لوگ یہ سوال مسلسل اٹھاتے رہتے ہیں ”یہ بات کس طرح درست ہو سکتی ہے کہ میرا ووٹ اور ایک ان پڑھ بھنگی کا ووٹ یکساں اہمیت رکھتے ہوں“؟ کیا تعلیم یافتہ خواص کا ایسا گروہ موجود نہیں ہوتا جو ان پڑھ انبوہ کے مقابلے میں زیادہ دوررس نظر رکھتا ہے، چنانچہ اہم سیاسی فیصلوں میں اس کی رائے کو زیادہ موثر ہونا چاہیے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ خواندہ اور نیم خواندہ افراد کا اثر بہرحال زیادہ ہوتا ہے، وہ کتابیں اور مضامین لکھتے ہیں، درس وتدریس کرتے ہیں، مباحثوں میں گفتگو کرتے ہیں اور وہ اپنی سیاسی جماعتوں کے ارکان کی حیثیت سے (رائے عامہ پر ) اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

میری یہ مراد نہیں کہ میں خاکروب کے مقابلے میں تعلیم یافتہ کے اثر کو زیادہ وزن دینے کی تائید کر رہا ہوں۔ میری رائے میں ہمیں دانا اور نیک لوگوں کی حکمرانی کے افلاطونی نظریے کو یکسر رد کر دینا چاہیے۔ آخر حکمت اور حماقت کے مابین فیصلہ کون کرے گا؟ کیا عقل مند اور پاک باز سمجھے جانے والے لوگوں نے ہی عقلمند ترین اور بہترین افراد کو صلیب پر نہیں چڑھایا؟

کیا ہم اپنے سیاسی اداروں پر اس فریضے کا بوجھ بھی ڈالنا چاہتے ہیں کہ وہ حکمت، نیکی، دیانت اور بے لوث کامرانی کا فیصلہ بھی کریں؟ کیا ہم اس فریضے کو ایک سیاسی مسئلے کی حیثیت دینا چاہتے ہیں ؟ عملی سیاست کے اعتبار سے اشرافیہ کا مسئلہ مایوس کن حد تک لاینحل ہے۔میدان عمل میں اشرافیہ اور (مفاد پرست ) ٹولوں میں فرق کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *