خوش حال بھکاریوں کے جھانسے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں سب سے زیادہ بھکاری ٹریفک سگنل، پبلک یونیورسٹیز کے باہر، ہسپتالوں کے باہر، درگاہوں اور مسجدوں پر دیکھے جاتے ہیں اور وہاں لوگوں کا فراخ دلی سے پیسہ دینا ایک بہت عام سی بات ہے۔ پاکستانیوں کی فراخ چشمی کی سب سے بڑی وجہ اس بات پر یقین ہے کہ بھیک دینے سے ان کے مسائل حل ہونے میں مدد ملے گی اور ہاں یونیورسٹی سے یاد آیا کہ نان گورنمنٹ آرگنائزیشنز این جی او  بسا اوقات عام انسان کی فلاح و بہبود کے لیے پبلک یونیورسٹیز میں آکر چندہ جمع کرتی ہیں، حالانکہ یونیورسٹی کے قوانین کے مطابق یہ ایک جرم ہے۔ یونیورسٹی کا طالب علم مالی طور پر خود اپنے ماں باپ پر منحصر ہوتا ہے۔ اس حساب سے اکنامک ویلفیئر کا سب سے زیادہ حقدار تو وہ خود ٹھہرتا ہے۔ کسی طریقے سے اس کی اپنی مدد کرنے کی بجائے الٹا اس سے پیسے وصول کرنا شرم کی بات ہے۔

خیر تو ہم بھکاریوں پر بات کر رہے تھے اور ان بھکاریوں کو ان جگہوں پر مختلف اقسام میں دیکھا جا سکتا ہے۔

پہلی قسم ان روایتی بھکاریوں کی ہے جو سمجھتے ہیں کہ صوفیا کرام سے ان کی کوئی مناسبت کی وجہ سے وہ مدد کے حقدار ٹھہرتے ہیں۔ دوسری قسم میں وہ بھکاری آتے ہیں جو پیدائشی طور پر معذورہ ہوتے ہیں یا ان کو محض ہمدردی بٹورنے کے لیے خود ہی معذورہ کردیاگیا ہوتا ہے۔ تیسرے نمبر پر وہ غیر محفوظ طبقہ ہے جن میں چھوٹی عمر کے بچے، خواجہ سرا اور وہ عورتیں جو ہاتھ میں دودھ پلاتا ہوا بچہ اٹھائے بھیک مانگ رہی ہوتی ہیں۔ اور آخر میں وہ مانگنے والے افراد آتے ہیں جو دیکھنے میں اچھے بھلے نظر آتے ہیں لیکن ان کے کہنے کے مطابق، وقت اور حالات نے انہیں بھیک مانگنے پر مجبور کردیا ہے۔

ایسے بہت سے افراد یونیورسٹیز میں اور گھر کے دروازے پر ہاتھ میں کاغذ کا ٹکڑا لئے اپنے پیاروں کی جان کی حفاظت یا مسجد کی تعمیر کے لیے پیسے مانگتے ہوئے نظرآنا کوئی تو خیر انوکھی بات نہیں ہے۔ حیرت کی لہر تب دوڑ جاتی ہے جب بڑی گاڑی پر بیٹھا خوش حال انسان آپ سے بھکاریوں کی طرح اسی قسم کا کوئی مطالبہ کردیتا ہے۔

تو بات کچھ یوں ہے کہ کچھ عرصہ پہلے کراچی سے گاؤں کا سفر کرنے کے دوران چار افراد پر مشتمل ایک خاندان، جس میں دو خواتین اور دو مرد حضرات تھے، ہاتھ کے اشارہ سے روکتے ہیں اور پیسوں کی مانگ اس واسطے کرتے ہیں کہ ان کا فیول ختم ہو گیا ہے۔ اس صورت حال میں ایک منٹ سوچے بغیر ان کی مدد کردی جاتی ہے۔ لیکن دو تین ہفتے بعد پھر چار افراد پر مشتمل ایک خاندان جس میں ویسی ہی ترتیب میں دو خواتین اور دو مرد سفر کے دوران ہمیں روکتے ہیں اور وہی فیول ختم ہونے کی وجہ بتاتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ آس پاس کوئی ATM نہیں ہے تو ان کو ابھی یہیں رقم درکار ہے۔

نئی ہونڈا سوئیک کو دیکھ کر تشویش کے عالم میں یاد آتا ہے کہ پہلے والی گاڑی کی نمبر پلیٹ بھی سندھ کی نہیں تھی۔ خیر، میں ان سے کہتی ہوں کہ تھوڑے ہی فاصلے پر میرا گاؤں ہے وہاں چل کر میں آپ کو گھر سے پیسے لاکر دیتی ہوں اور وہ حضرات میرے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ گاؤں پہنچ کر وہ اشارے سے کہتے ہیں کہ وہ ہائی وے پر ہی رکیں گے اور میں پیسے وہی لے کر آجاؤں۔

مجھے اس دوران یاد آیا کہ کچھ عرصہ پہلے کالام جاتے ہوئے میرے پیسے ختم ہوگئے تھے اور کہیں ATM نہ ہونے کی صورت میں گھر سے پیسے منگوائے جو میں نے easy paisa کی بدولت آدھے گھنٹے تک وصول بھی کر لئے تھے اور ان کے پاس تین ملین کی گاڑی ہوتے ہوئے بھی دوسرا کوئی آپشن نہیں ہے؟

میں گھر جا کر اپنے بھائی کے ساتھ واپس آتی ہوں اور میرا بھائی ان سے کہتا ہے کہ دو کلومیٹر کے فاصلے پر شہر ہے، وہاں چل کر ATM استعمال کرتے ہیں، اگر آپ کے کارڈ نے کام نہیں کیا تو میں آپ کو پیٹرول بھروا کر دے دوں گا۔ اسی دوران میری نظر ان کے پیٹرول ٹینک پر پڑی جو اتنی بھری ہوئی تھی کہ ملتان تک تو بہت آرام سے جاسکتے تھے۔ مسافروں کو بھائی کی بات کچھ زیادہ پسند نہیں آئی اور گاڑی دوڑا کر نکل دیے۔ یہ سب دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا کہ کسی جگہ محض اس لیے لوگوں کو جھانسہ دیا جائے کہ وہاں آپ کی شناخت نہیں ہو سکتی۔

اور لوگ مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کی اس لیے مدد نہیں کرتے کہ وہ بیوقوف ہیں! وہ اس لیے کرتے ہیں کہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے خاطر یہ ان کا حق بنتا ہے۔ اور دوسرا، وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان مسافروں کا یہاں کوئی جاننے والا نہیں ہوگا اور ان کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میری فیملی ایسے تین واقعیات کی گواہ ہے، پتہ نہیں اور کتنی فیملیز کو اس طرح بیوقوف بنایا گیا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *