سکھر میں عورت مارچ پر اعتراض کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس سال پھر مارچ میں یومِ خواتین سے پہلے عورت مارچ کو بنیاد بنا کر سندھ میں ایک تنازعہ ابھر رہا ہے یا ابھارنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا واضح مقصد عالمی یوم خواتین کے موقعے پر سکھر میں ہونے والے خواتین مارچ کے شرکاء کو خوفزدہ کرنا ہی ہو سکتا ہے۔

پچھلے سال تو مخصوص ذہنیت کے حامل کچھ لوگوں نے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں خواتین مارچ میں شامل خواتین کی ہاتھوں میں نظر آنے والے کچھ پلے کارڈز اور ان پر لکھے نعروں کو بنیاد بنا کر اعتراض کیے، مگر اس سال ایسا کیا ہوا ہے جس پر تنازعہ کھڑا کیا جا رہا ہے؟

سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے خواتین مارچ کو روکنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ بیان بازی کے بعد مارچ رکوانے کے لئے باقاعدہ درخواستیں ضلع کے ڈی سی اور ایس ایس پی کو دی گئی ہیں، جبکہ ایک ایسی ریلی نکالنے کی بھی تجویز زیرِ غور ہے جس میں مدرسوں کی برقعہ پوش بچیوں کو روڈ پر لا کر خواتین مارچ کا راستہ روکا جائے۔ اس بات کا عندیہ جے یو آئی کے ایک رہنما سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این نیوز کے ایک پروگرام میں دے چکے ہیں۔

مذکورہ دونوں صورتوں میں ایک پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سندھ کے بالائی اضلاع میں انسانی حقوق اور خاص طور پر عورتوں کے حقوق کی بات کرنے نہیں دی جائے گی۔ دوسری طرف خواتین مارچ کے انتظامات کرنے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ مارچ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوگا۔

سکھر میں نکلنے والے خواتین مارچ کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششوں سے تو لگتا ہے کہ کچھ عناصر تصادم کا امکان پیدا کرنا چاہتے ہیں مگر دیکھا جائے تو اس منفی روش کی وجوہات کئی ہیں۔

بالائی یا شمالی سندھ جس میں سکھر، گھوٹکی، خیرپور، کشمور، جیکب آباد، شکارپور، لاڑکانہ اور قمبر شہدادکوٹ اضلاع پر مشتمل علاقے شامل ہیں، مذکورہ بیلٹ بلوچستان اور پنجاب کے زیریں علاقوں سے منسلک ہونے کی وجہ سے رسم و رواج کے اعتبار سے بھی ان علاقوں کے زیرِ اثر ہے۔

یہاں ایک طرف تو سرداری نظام کو شعوری طور پر مستحکم کیا گیا، جبکہ پچھلی دو دہائیوں سے تعلیم کو مکمل طور تباہ کرکے مذہبی تعصبات کو بھی ابھارا گیا ۔

ایک طرف ڈاکوؤں کی پشت پناہی کی گئی تو دوسری طرف منظم انداز میں اضلاع اور تحصیلوں کو غیر اعلانیہ چھوٹی چھوٹی قبائلی ریاستیں بنا دیا گیا، جہاں سفید و سیاہ کا مالک کچھ شخصیات کو بنایا گیا۔ مذکورہ علاقوں میں قتل و غارت گری کو جرگوں میں نمٹانے کی روایت کو نہ صرف پنپنے دیا گیا بلکہ ایک حد تک اس کی آبیاری بھی کی گئی۔

اس قسم کے ماحول میں مقید شمالی سندھ، جہاں انسانی آزادی کی بات کرنا بھی مشکل ہو، عورت کی آزادی کی بات کرنا ایسے نظام کے لئے گالی نہیں بنے گا تو کیا بنے گا؟

جس مارچ کی خبروں کو ابھی تک نام نہاد سردار پیشانی پر بل ڈالے غور و فکر کے انداز میں دیکھ رہے تھے، ایسے میں مذہبی تعارف رکھنے والے لوگ میدان میں کود پڑے ہیں۔

ایک ایسا سماج جو صدیوں سے نام نہاد سرداروں کے لئے جنت اور عام آدمی کے لئے دوزخ بنا رہا ہو، انسان اور خاص کر عورت کی آزادی کی بات کرنا بہت مشکل ہو، نہ صرف عورت، بلکہ مرد کے لئے بھی۔ اتفاق سے میرا تعلق اس علاقے سے ہے۔ اس لیے میں نہ صرف ان برائیوں کا چشم دید گواہ ہوں بلکہ اس نظام کی کمزوریوں سے بھی بخوبی آگاہ ہوں۔

مجھے پورا یقین ہے کہ ان اضلاع میں رہنے والوں کی غالب اکثریت عورت کے حقوق کی حامی ہے، اس کے باوجود خاموش ہے۔ مجھے اس بات پر حیرت نہیں بلکہ میرا کامل یقین ہے کہ آج یا کل سب کو یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی کہ عورت بھی انسان ہے، اس کے بھی وہی حقوق ہیں جو ایک مرد کے ہیں، اس کو دبا کر رکھنا، حقوق سلب کرنا اور تضحیک کرنا کسی بھی صورت غیرت نہیں، جہالت ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مذکورہ علاقوں سے انتخابی سیاست کرنے والے خاندان اپنی بیٹیوں کو تو تعلیم دیتے ہیں، کسی حد تک شادی بھی ان کی مرضی سے کرتے ہیں مگر یہ بات کھل کر اس لئے نہیں کرتے کہ کہیں ان کو ایوانوں تک پنہچانے والے نام نہاد غیرتمند لوگ واقعی باشعور نہ بن جائیں۔

مذکورہ علاقے سے تعلق رکھنے اور عورتوں کے حقوق کا حامی ہونے کی حیثیت سے خواتین مارچ کے مخالفین سے میرے چند سوالات ہیں۔

پہلا سوال یہ کہ جب آپ سرداروں، وڈیروں، پیروں اور جرائم پیشہ لوگوں سے ملتے وقت تعظیم سے پیش آتے ہیں تو آپ کے گھر کی عورتوں کا کیا قصور ہے؟

جب ہوٹل پر بیرے بن کر ٹیبل اور برتن صاف کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تو گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ ہاتھ بٹانے میں کیا برائی ہے؟

جب آپ سردار اور وڈیرے کی اوطاق میں سر جھکا کر بیٹھ سکتے ہیں، تو اپنے گھر کی عورتوں سے بات کرتے ہوئے آپ کی زبان سے کیوں انگارے برسنے لگتے ہیں؟

جب آپ بیٹے کو اپنی حیثیت کے مطابق اچھی تعلیم دینے کی کوشش کرتے ہیں تو بیٹی کو اسکول بھیجتے وقت آپ کی شفقت کہاں چلی جاتی ہے؟

اگرتھوڑی بہت تعلیم کے باوجود آپ کی بچی کوئی نوکری کر لیتی ہے تو آپ اس پر اعتماد کے بجائے شک کی نگاہ سے کیوں دیکھنے لگتے ہو، اگر وہ زیادہ کمانے لگے تو آپ اس کی خوشیوں کے دشمن کیوں بن جاتے ہو؟

جب آپ کو اپنے یا بیٹے کے کالے کرتوت نظر نہیں آتے تو بیٹی اور بیوی کے سجنے سنورنے پر کیوں آنکھ پھڑک جاتی ہے؟

جب آپ یہ سوچے بغیر بھائی اور بیٹے کو ملکیت میں حصہ دے دیتے ہو کہ وہ کوئی جائز کام کرے گا یا عیاشی اور جوئے میں اڑا دے گا تو بیٹی کو ملکیت یا وراثت میں اس کا حصہ دینے میں کیوں موت آتی ہے؟

اور آخری سوال کہ جب کوئی سیاسی اور مذہبی جماعت جلسے کرتی ہے، ریلیز نکالتی ہے تو کیا کبھی کسی نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے؟ کیا کسی نے جلسوں میں لگنے والے نعروں اور ایک دوسرے کو قتل کرنے کے فتووں پر کوئی اعتراض کیا ہے؟

اگر اس پر کسی کو اعتراض نہیں تو خواتین مارچ پر اعتراض کیوں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *