افغانستان اور پاکستان کی بنتی بگڑتی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آخر کار وہی ہوا امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ پر دستخط کردیے گئے۔ گرم میدانوں میں لڑی جانے والی جنگ کا فیصلہ میدان سے ہزاروں میل دور ٹھنڈے ٹھار کمروں میں ہوا اور اٹھارہ سالہ جنگ کے پُرامن اختتام کی جانب قدم اُٹھالیا گیا۔ اس دوران لاکھوں افراد لقمہ اجل بنے۔ ہزاروں زخمی اور معذور ہوئے۔ ایک پوری نسل دربدر ہوگئی۔

افغان جنگوں سے پاکستان کا رشتہ صدیوں پرانا ہے۔ یہ جنگیں لڑی تو افغانستان کے کوہساروں میں گئیں لیکن اس کو ہر طرح کی کمک پاکستانی سرزمین سے ملتی رہی۔ افرادی قوت اور تربیت سے لے کر ہتھیار اور فنڈنگ تک۔ طالبان کے لیے پاکستانی سرزمین بڑی زرخیز رہی۔ افغان طالبان کے بڑے رہنماؤں نے پاکستانی مدرسے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے تعلیم حاصل کی، اسی لیے یہاں کے مہتم مرحوم مولانا سمیع الحق کو ”طالبان کا اُستاد“ یا ”فادر آف طالبان“ کہا جاتا تھا اور افغان طالبان اپنے فیصلوں میں مولانا سمیع الحق کی بات کو اہمیت دیتے تھے۔

امریکا سے قبل جب روس افغان سرزمین پر آیا تھا تو اُس وقت یہی طالبان مجاہدین کہلاتے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا سمجھے جاتے تھے۔ امریکا کے اشاروں پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے روس کو شکست دینے کے لیے مجاہدین کی ہر ممکن مدد کی، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل، لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز اور کرنل امام ایسے نام اور کردار ہیں، جو کھلے عام طالبان سے اسٹیبلشمنٹ کی سطح پر اپنے روابط کا اعتراف کرتے رہے۔

روس افغانستان سے نکل گیا اور کچھ سال بعد مجاہدین بھی طالبان بن گئے۔ اس سے قبل روس کے خلاف لڑنے والے عرب مجاہدین القاعدہ کی بنیاد رکھ چکے تھے، القاعدہ کی مرکزی قیادت افغانستان اور پاکستان میں ہی مقیم تھی، گیارہ ستمبر کو طیارے ہائی جیک کرکے امریکا میں ٹوئن ٹاور اور پینٹاگون سے ٹکرا دیے گئے۔

امریکا نے اِن حملوں کا ذمہ دار القاعدہ کو قرار دیا اور طالبان سے افغانستان میں موجود القاعدہ قیادت کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ طالبان نے انکار کیا تو امریکا نے افغانستان پر دھاوا بول دیا۔ دہشت گردی کے خلاف ایک نئی جنگ کا آغاز ہوا اور اس جنگ میں پاکستان امریکا کا ساتھی بنا۔ ریاست کی پالیسی ہی نہیں، دوست اور دشمن کا بھی از سر نو تعین ہوا۔ سالوں تک کاندھے سے کاندھا ملا کر لڑنے والے مجاہدین یک دم دہشت گرد قرار پائے۔ امریکا نے لسٹ تھمائی اور پاکستان نے بدلے میں طالبان، القاعدہ کی اعلیٰ قیادت سے لے کر دوحا میں امریکا کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنیوالے ملا عبدالغنی برادر تک۔ تقریبا سب کو ہی ہم نے گرفتار کیا۔

یہ تو وہ تھے جن کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیا لیکن ہزاروں ایسے بھی تھے، جو اُٹھائے تو گئے لیکن نہ تو کسی عدالت میں پیش ہوئے نہ ہی کسی کے حوالے کیے گئے۔ افغانستان میں جنگ چلتی رہی اور پاکستان میں آہستہ آہستہ کرکے لاپتا افراد کی فہرست بھی بڑھتی چلی گئی، لاپتا افراد کے لیے قائم کمیشن کے مطابق اُن کے پاس رجسٹرڈ کیسز کی تعداد چھ ہزار پانچ سو چھ ہے، جن میں سے چار ہزار تین سو پینسٹھ کیسز کو نمٹایا جاچکا ہے۔ صرف دسمبردوہزار انیس میں بتیس نئے کیسز لاپتا کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ عدالتوں میں ہوئی سماعتوں میں حکام کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا کچھ لاپتا افراد اپنی مرضی سے افغانستان گئے اور پھر وہیں جنگ میں شامل ہوگئے۔

ایک بار پھر ریاست کی ترجیحات کے ساتھ دوست اور دشمن کا بھی اِز سر نو تعین ہورہا ہے، سب بدل رہا ہے مگر ہمارے پڑوسی نہیں، وہ آج بھی وہی پرانے افغان ہیں۔ طالبان ایک بار پھر پہاڑوں سے اتر کر کابل کی جانب گامزن ہیں۔ اب ہوگا کیا؟ کل کے دشمن آج کے دوست کہلائیں گے؟ اگر وہ دوست کہلائیں گے توتحریک طالبان پاکستان والے کیاکہلائیں گے؟ کیا پھر گُڈ اور بیڈ طالبان کی تھیوری کام کرے گی؟ کیا پھر شک اور شبہات پر ایکشن ہوں گے؟ کیا پھر لوگ اُٹھیں گے؟ یا پھر پہلے سے لاپتا پنچھی گھروں کو لوٹ آئیں گے؟ سوال بہت ہیں پر جواب دینے والا کوئی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *