دو نومبر کا لاک ڈاؤن اور پاکستانی میڈیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(عبدالسلام)

یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کا میڈیا اتنا طاقتور ہے کہ وہ ایک غیر اہم خبر کو عوامی مسئلہ بنا دیتا ہے۔ میڈیا کی مسلسل براہ راست سنسنی پھیلانے والی کوریج، تبصروں اور عجیب وغریب پیشن گوئیوں کے بعد ایک عام آدمی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتا۔ پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد بندش کے اعلان کو ہی لے لیں۔ گزشتہ چند دنوں سے چوبیس گھنٹے مسلسل کوریج کے ذریعے جو ماحول بنا دیا گیا ہے اس سے یوں لگتا ہے کہ اسلام آباد مکمل طور پر سیل ہوچکا ہے اور کاروبار زندگی مفلوج ہو چکی ہے۔ جو لوگ ملک کے دیگر علاقوں سے اسلام آباد میں تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں قیام پذیر ہے ان کے اہل خانہ، رشتہ دار اور دوست احباب پریشانی کے عالم میں مسلسل رابطے کر کے خیریت دریافت کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ احتیاطی تدابیر اپنانے اور اپنی حفاظت کا خیال رکھنے کے حوالے سے ہدایات دے رہے ہیں۔

نہیں معلوم آگے آنے والے دنوں میں کیا صورت حال ہوگی لیکن آج کے دن تک اسلام آباد کی صورت حال میڈیا پر چلنے والی سنسنی خیز خبروں سے یکسر مختلف ہے۔ کاروبار زندگی معمول کے مطابق ہے تمام تعلیمی ادارے، دفاتر اور تجارتی مراکز اپنے روٹین کے مطابق چل رہے ہیں۔ میڈیا اپنی من پسند معمولی سی سرگرمی کو اتنی اہمیت دے دیتا ہے کہ اللہ کی پناہ۔

جمعرات کے دن اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن پر پولیس نے کریک ڈاؤن کیا جس کی کسی بھی صورت حمایت نہیں کی جاسکتی۔ لیکن یہ واقعہ اسلام آباد کے ایک محدود علاقے میں ہوا اور اس کا دورانیہ بھی بیس سے تیس منٹ کا بتایا جاتا ہے۔ لیکن میڈیا نے تمام اہم معاملات کو پس پشت ڈال کر چوبیس گھنٹے سے زیادہ اس کی کوریج کی۔ راولپنڈی کے کمیٹی چوک میں شیخ رشید احمد کے جلسے کا معاملے میں بھی یہی ہوا۔ بالکل اسی طرح اسلام آباد سے کئی کلومیٹر دور ایک محدود علاقے بنی گالہ کے بارے میں بھی پوری دنیا کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے پورا ملک افراتفری کا شکار ہے۔ چونکہ پوری دنیا میں مقیم پاکستانی اور پاکستان میں دلچسپی رکھنے والے دیگر لوگ میڈیا کے ذریعے ہی حالات سے آگاہی حاصل کرتے ہیں۔ اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہمارا میڈیا پوری دنیا کو پاکستان کا غلط چہرہ دکھا رہا ہے۔ میڈیا گروپس اپنی خواہشات، سیاسی وابستگیوں اور ریٹنگ کے چکر میں ملک کی بنیادیں کھوکھلی کرنے پر تلا ہوا ہے۔

میڈیا کوریج کے حوالے سے ایک اور پہلو بھی بہت خطرناک ہے۔ کہ تمام گروپس کسی نہ کسی سیاسی پارٹی یا اسٹیبلشمنٹ کی ترجمانی میں لگے ہوئے ہیں۔ اور پورا پاکستانی میڈیا بنیادی اخلاقیات سے عاری نظر آتا ہے۔ اس کی چھوٹی سی مثال تین دن پہلے ہونے والے پی ٹی آئی کے کنونشن پر کریک ڈاؤن کے دوران ایک خاتون کارکن اور ایک خاتون پولیس کے درمیان ہاتھا پائی کے مناظر ہے۔ وہ میڈیا گروپس جو حکومت کے سپورٹر ہے وہ مسلسل وہ منظر دکھاتے رہے جس میں خاتون کارکن پولیس اہلکار خاتون کے منہ پر تھپڑ رسید کر رہی ہے۔ جب کہ حکومت مخالف یا پی ٹی آئی کے سپورٹر چینلز وہ منظر باربار دکھاتے رہے جس میں خاتون پولیس اہلکار نے کارکن خاتون کو قابو کیا ہوا ہے۔ اور ساتھ ہی پولیس کے خلاف اور خاتون کارکن کو معصوم ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ یہاں سوال یہ ہے کی کیا میڈیا کی رپورٹنگ غیر جانبدار ہے یا میڈیا گروپس تمام تر قومی اور اخلاقی ذمہ داریوں سے مثتثنٰی ہیں۔ یقیناً نہیں، نہ میڈیا غیر جانبدار ہے اور نہ ذمہ داریوں سے مثتثنٰی ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ میڈیا گروپس کو اپنی اخلاقی قدروں کا پاس ہے اور نہ ہی ذمہ داریوں کا احساس۔ میں میڈیا گروپس سے درخواست گزار ہوں کہ خدارا اس ملک پر رحم کرے اور حقیقت پر مبنی خبریں دیا کرے اور کسی مہم کا حصہ نہ بنے۔ اور عوام کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستانی میڈیا کی خبروں اور تبصروں کو زیادہ سنجیدہ نہ لیا کرے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments