شکر ہے منتخب حکومت ہی باس نکلی


\"saleemپچھلے نو سال میں یہ دوسرے آرمی چیف ریٹائر ہونے کو ہیں اور مارشل لاء کا کہیں نام و نشان بھی نہیں۔ یا چلو اگر شکی مزاج اور نا شکرے لوگوں کو کہیں کوئی نشان نظر آتا بھی ہے تو اصل مارشل لاء تو نہیں ہے نا۔ ساری دنیا کو معلوم ہے کہ پاکستان آرمی ملک کے حکومتی اور سیاسی معاملات میں دخل نہیں دیتی۔ ہماری منتخب سیاسی حکومت مکمل طور پر بااختیار ہے اور ملک کے معاملات پوری آزادی کے ساتھ چلا رہی ہے۔اس میں تو کسی کو کوئی شک و شبہ نہ تھا اور نہ ہے۔

وزارت دفاع ہی کی مثال لے لیں۔ ملک کے تمام دفاعی معاملات کے ذمہ دار وزیردفاع ہیں اور تینوں افواج کے سربراہان ان کے احکامات اور پالیسیوں کے مطابق ملکی دفاعی معاملات کو لے کر چلتے ہیں۔ وزیردفاع بھی اپنے ماتحتوں، چیف آف آرمی سٹاف، چیف آف ائر سٹاف، چیف آف نیول سٹاف اور چئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی وغیرہ کے ساتھ عام طور پر پیار سے پیش آتے ہیں اور ان پر زیادہ سختی کے قائل نہیں ہیں۔ ان چاروں فرمانبردار ماتحتوں میں سے کوئی بھی وزیر دفاع صآحب کو سیکیورٹی تھریٹ سمجھتے ہوئےایک آدھ سال اپنے دفتر میں گھسنے نہ دے یا کبھی بھی وزیر دفاع سے ملاقات کو ان کے دفتر نہ آئے تو وزیر صاحب اس بات کا برا منانے کی بجائے اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ ادھر سے کوئی خبر نہیں ہے تو مطلب خبر اچھی ہے۔  (no news is good news)والی صورت حال ہوتی ہے۔

دفاعی معاملات خارجی معاملات میں گندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس لئے ہماری افواج خارجی معاملات میں بھی منتخب حکومت کے احکامات کے مطابق ہی چلتی ہیں۔ حکومت نے ابھی تک انڈیا، افغانستان، ایران اور امریکہ کے معاملات میں ذرا سخت پالیسی اپنائی ہوئی ہے اور ہماری فوج نہ چاہتے ہوئے بھی اسی لائن کو فالو کرتی ہے۔ کیونکہ آئین اور قانون کی یہی منشا ہے اور آئین اور قانون سے ہٹنا اندرونی اور بیرونی دفاع، ملکی شہرت اور ترقی کے لئے بھی اچھا نہیں ہے۔ اس لئے ہماری فوج اپنے آپ کو بیرکوں تک بند رکھتی ہے اور منتخب حکومت پالیسیاں بناتی اور چلاتی ہے۔ ہماری تمام پالیسیاں بہت کامیاب ہیں۔ اگر یہاں آئین کے مطابق چلنے کی روش نہ ہوتی تو پاکستان کی عزت اور شہرت دنیا کی اقوام میں خراب ہو سکتی تھی اور ہمیں تنہائی وغیرہ کا خطرہ بھی ہو سکتا تھا۔

ملک کے اندرونی تحفظ کو بیرونی دفاع سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری فوج اندرونی دفاع میں بسا اوقات منتخب حکومتوں کی مدد کو آتی ہے مگر فائنل اتھارٹی تو منتخب نمائندے ہی ہوتے ہیں۔ سندھ اور بلوچستان کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔ رینجرز کراچی کے لاء اینڈ آرڈر کے معاملات ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس مہم کے کپتان پہلے قائم علی شاہ صاحب تھے اور اب مراد علی شاہ صاحب ہیں۔ اسی طرح سے بلوچستان کی منتخب صوبائی حکومت بھی مکمل بااختیار ہے اور منتخب حکومت کے احکامات کے بغیر چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔ کیونکہ آئین اور قانون یہی کہتا ہے۔ اگر ملکی معاملات آئین سے ذرا بھی ہٹ جائیں تو ملک و قوم رسوا ہو جاتے ہیں۔ اور دیکھ لیں ہم ابھی زمانے بھر میں رسوا نہیں ہوئے۔ وزیر اعظم کی تقاریر اور آئی ایس پی آر کے ٹویٹ بالکل واضح ہیں۔

ہمارے ملک کو بدقسمتی سے ہر وقت اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی خطرات لاحق رہتے ہیں اور ہماری افواج ان خطرات کے ساتھ نمٹنے کی طاقت اور جذبہ بھی رکھتی ہیں۔ لیکن پھر بھی ہم چونکہ اپنی فوج سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اس لئے ہم اپنی فوج کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتے اور خاص طور مشکل وقت میں تو اکیلا چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس میں ہمارے مذہبی حلقے پیش پیش ہیں۔ ان مذہبی حلقوں نے کچھ ایسی فلاحی تنظیمیں بنا رکھی ہیں جو ملک کے اندر اور باہر فلاحی کاموں میں مشغول رہتی ہیں اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے فوج کو اپنے تعاون کا یقین دلاتی رہتی ہیں۔ یہ تنظیمیں بھی منتخب حکومت کی منشا کے مطابق ہی کام کرتی ہیں اور ملک و قوم کے لئے عزت اور نیک نامی کا باعث ہیں۔

یہ تنظیمیں فرط جذبات میں آ کر بعض اوقات فوج کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کی دعوت وغیرہ بھی دے دیتی ہیں جس کو عرف عام میں مارشل لاء وغیرہ بھی کہتے ہیں۔ لیکن ہماری فوج کا یہ احسان منتخب حکومت کبھی نہیں اتار سکے گی کہ پچھلے نو سالوں میں ایک دفعہ بھی مارشل لا نافذ نہیں کیا گیا۔ ہاں البتہ بھلا ہو کچھ محب وطن تجزیہ کاروں اور عمران خان صاحب کا کہ مارشل لاء کے بادل ہمارے سروں پر ہر وقت منڈلاتے رہے۔

آللہ کے فضل سے ہمارے ملک کی شہرت ایسی ہے کہ یہاں آئین اور قانون کے خلاف کوئی کام ممکن نہیں ہے۔ یہ سیرل المیڈہ کی ڈان اخبار والی خبر پہلا واقعہ ہے کہ کسی نے پاکستان کی منتخب حکومت اور فوج کے درمیان کسی کھینچاتانی کی بات کی ہو۔ یہ ساری دنیا کے لئے بالکل نئی اور اچنبھے کی بات تھی۔ یہ تو ہماری نیک نامی کا پھل تھا کہ دنیا نے اس بات کا یقین نہیں کیا۔ ظاہر ہے یہ ایک بڑی اور جھوٹی خبر تھی۔ اس نے ہمارے ملک کے نظام و انصرام اور ہماری فوج کی شہرت کو ملک کے اندر اور باہر داؤ پر لگا دیا تھا۔ طوفان تو اٹھنا ہی تھا۔ ہمارا اتنا اچھا ٹریک ریکارڈ کہ پچھلے نو سالوں میں ایک دفعہ بھی مارشل لاء نہیں لگا تو پھر افسوس تو ہوتا ہے نا۔ خیر شکر خدا کا کہ تحقیقات ہوئیں اور یہ جھوٹی خبر نکالنے والے کو عبرت ناک انجام دیکھنا پڑا۔ اور ساتھ ہی یہ ثابت بھی ہو گیا کہ منتخب حکومت ہی باس ہے اور فوج اس کی ایک فرمانبردار ماتحت ہے۔ جیسے کہ آئین کہتا ہے۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik

One thought on “شکر ہے منتخب حکومت ہی باس نکلی

  • 01/11/2016 at 9:41 صبح
    Permalink

    یہی تو وجہ ہے کہ امریکہ، بھارت اور یورپ وغیرہ پا کستان کے کامیاب جمہوری ماڈل سے جلتے ہیں اور ہمارے خلاف سا زشوں میں مصروف ہیں۔

Comments are closed.