بلوچستانی حکمرانوں کو قبرستان کا خوف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر شخص کو کوئی نہ کوئی خوف لاحق رہتا ہے۔ کسی کو اونچائی سے ڈر لگتا ہے۔ تو کوئی بادلوں کی گرج چمک سے خوف محسوس کرتا ہے۔ کسی کو تنگ جگہوں سے خوف آتا ہے۔ تو کوئی سانپ اور چھپکلی سے ڈرتا ہے۔ بعض لوگوں کو اندھیرے سے خوف آتا ہے۔ تو کوئی موت سے ڈرتا ہے۔ حالانکہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جس نے ہو کر رہنا ہے۔ سائیکالوجسٹ کہتے ہیں کہ خوف کی وجہ سے انسان کا پورا جسم دباؤ میں آ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بلوچستان کے ایک سابق وزیراعلی کو ہوائی جہاز کے سفر سے ڈر لگتا تھا اس لیے وہ حتی الامکان ہوائی جہاز کی بجائے سڑک سے سفر کو ترجیح دیتے تھے۔

لیکن ہمارے موجودہ حکمرانوں کو شاید قبرستانوں سے ڈر لگتا ہے یا ہو سکتا ہے وزیراعلی کو یہ خیال آیا ہو کہ قبرستان ان روڈوں پر چھپائے جائیں جہاں سے وزیراعلی بلوچستان کا گزر ہوتا ہے تاکہ ان گزرگاہوں سے قبرستان کا خوف اور یاد ختم ہو لہذا ان کے گرد چاردیواری لگائی جائے۔ اور ان میں ٹف ٹائل لگائے جائیں اس تجویز کو فورا شرف قبولیت بخشا گیا اور یوں نادرا آفس کے ساتھ واقع اور کسٹم آفس سے ملحقہ شہر خموشاں کو دیواروں سے چھپا دیا گیا اور چاردیواری بھی تین یا چار فٹ کی نہیں بلکہ غالبا 8 فٹ سے اونچی دیوار چنی گئی۔

گویا اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کسی کے دل میں چند لمحوں کے لیے بھی گزرتے ہوئے احساس آخرت پیدا نہ ہو۔ اور اگر کوئی شخص قبرستان پر نظر پڑتے ہی چند قرآنی آیات کی تلاوت مردوں کی بخشش کے لیے کرنا چاہے تو وہ بھی اس دیوار کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی۔ یقین جانیے جس سے بھی اس دیوار سے متعلق خیالات جاننے کی کوشش کی سب نے آفسوس اور تاسف کا اظہار کیا اگر اتنی اونچی دیوار کی بجائے تھوڑے سے پیسے خرچ کر کے قبرستان کے اندرکچھ درخت لگا کر بہتری لائی جاتی تو بہتر ہوتا۔

شاید اسی ایک عمل سے کوئٹہ پیکیج کی تمام بداعمالیاں چھپ جاتیں لوگ یہ کہتے کہ چلو ایک کام تو ڈھنگ سے ہوا لیکن اللہ پاک نے یہ اچھائی کرنے کی قوت بھی ہمارے حکمرانوں سے چھین لی۔ 11 ارب کے کوئٹہ پیکیج کو کہیں تو خرچ کرنا تھا۔ اگر اینٹ و سیمنٹ کا استعمال نہیں ہو گا تو کمیشن کہاں سے بنے گا۔ اگر کمیشن نہیں بنے گا تو ان پوسٹوں پر لگنے کا فائدہ کیا ہے۔ صوبے میں میرٹ کو یقینی بنانے کی بازگشت گزشتہ 18 ماہ سے تواتر کے ساتھ گونج رہی ہے اگر آپ باقاعدگی سے اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں ٹیوٹر دیکھتے ہیں آپ کو یہی کچھ نظر آتا ہے کہ صوبے میں مکمل طور پر فعال حکومت وجود رکھتی ہے جس نے نظام میں موجود کرپشن کو یوں دبوچ لیا ہے جیسے مچھلی کو مگرمچھ دبوچتا ہے لیکن حقائق مختلف ہیں نظام میں چیک انیڈ بیلنس نظر نہیں آرہا ہے آج بھی بدستور ترقیاتی اسکیمات جو پی ایس ڈی پی میں شامل ہیں یا پروجیکٹس میں وہ سرکار نہیں بلکہ مختلف ٹھیکیداروں کی ملیکت بنی ہوئی ہیں جس کی تصدیق ایک غیر جانبدار فریق سے کرائی جاسکتی ہے۔

شفافیت کا عالم یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں جس طرح کی کرپشن کی جارہی ہے جس کو دیکھنے کے بعد آپ کو بڑی آسانی ہوتی ہے یہ بات سمجھنے میں کہ صوبے کے دوردراز علاقوں جہاں پر بدامنی یا پھر دور دراز ہونے کو بنیاد بنا کر تھوڑی بہت ڈھیل دی جاتی ہے وہاں پر کس طرح یا میرٹ کو کس طرح یقینی بنایا جارہا ہوگا وہاں پر کیا چیک اینڈ بیلنس ہوگا اس وقت اگر ہم صوبائی دارالحکومت کے ان علاقوں کی بات کرتے ہیں تو پہلے ہم وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری کی سرکاری رہائش گاہوں کے نزدیک ترین روڈوں کی بات کرتے ہیں۔

سرکلر روڈ کوئٹہ جو کہ ریڈ ژون میں ہے تو آپ کو احساس ہوگا کہ یہاں حکومتی سطح پر چیک انیڈ بیلنس کوئی نہیں ہے۔ اس قدر کرپشن کی گئی ہے کہ جس کو دیکھنے کے بعد شاید ہر شخص جو کہ میرٹ کا دعوی کرتا ہو شرمندگی محسوس کرے کوئٹہ کے اہم ترین سرکلر روڈکوئٹہ جناح روڈ سے پشین اسٹاپ تک جو کہ مکمل طور پر صیح تھا کو راتوں رات دوبار تعمیر کی نام پر اکھاڑ دیا گیا ہے صرف یہی نہیں بلکہ خجک روڈ کوئٹہ جو اس روڈ سے کچھ ہی قدم کے فاصلے پر ہے اور ریڈ ژون کا مکمل حصہ ہے کو بھی صیح حالت میں ہونے کے باجود توڑ دیا گیا ہے جو سرکاری املاک کونہ صرف نقصان پہنچانے کے زمرے میں آتا ہے جو ٹیکس کی پیسے کا ضائع ہے یہ وہ روڈ ہے کہ جس کا ایک حصہ ہمیشہ وی آئی پی موومنٹ کی زد میں رہتاہے اور وزیراعلی کے گھر کو جاتا ہے جہاں سے وزیراعلی بلوچستان نہ چاہتے ہوئے بھی دن کو دو چار دفعہ گزرتے ہیں اور یہاں پر حیران کن طور پر صرف صیح روڈوں کو توڑا گیا ہے جس شہر میں صیح سلامت روڈ کمشنر کوئٹہ نے توڑے ہے اس شہر میں ڈبل روڈ سرکی روڈکانسی روڈ پشتون آباداور سریاب روڈ کے اکثر روڈوں پر چلنا ممکن نہیں ہے بلکہ ان تنگ ترین شاہروں پر روڈ کے دونوں جانب غیر ضروری طور پر فٹ پاتھ لگائے گئے ہیں۔

یہی نہیں ریڈژون کے اہم ترین حصے ٹی این ٹی چوک پرمکمل طور پر صیح حالت میں موجود فٹ پاتھوں کو بھی توڑ کردو اینٹیں ساتھ لگا کر نئے فٹ پاتھوں کا نام دیا گیا اس تمام عمل کی تصاویر اور ویڈیوز بارہا سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئیں لیکن خدا کی پناہ کہ کسی بھی شخص نے جن کا دعوی میرٹ کو یقینی بنانے کا ہے کوئی توجہ دی ہو۔ یا تو موجودہ حکومت کے افیسران ایک پیج پر نہیں ہیں یا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے چیف سکریڑی بلوچستان بیان جاری کرتے ہیں اور اخباری دنیا میں کوئٹہ کو سرسبز بنانے کا عہد کرتے ہیں جبکہ ان کے ماتحت کمشنر کوئٹہ اپنے باس کی حکم عدولی کرتے ہوئے کمشنر آفس کسٹم آفس اور عسکری پمپ کے ساتھ پہلے سے موجود سبزہ زار کو ختم کرتے ہوئے ٹف ٹائل کے کاروبارکی نذر کرتے ہیں اور گھاس اکھاڑ دیتے ہیں وزیراعلیٰ بلوچستان اپنے خطابوں اسمبلی فلور اور ٹویٹر پر کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دور میں فضول اسکیموں کو مکمل طور پرختم کر دیا لیکن ایئرپورٹ پر مخصوص قبرستانوں کی دیوار گرا کر وہاں پر نئی دیوار تعمیر کرنا شروع کر دی گئی ہے اب اس پر رنگ روغن کا کام شروع کر دیا گیا ہے ہے کیا ان پر کروڑوں روپے خرچ کر کے حکومت ان کو وال چاکنگ سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو سکے گی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *