امریکی ڈاکٹر کا مثالی کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پروفیسر سید محمد ذوالقرنین زیدی تاریخ دان ہیں۔ انہوں نے اپنی عمر کے تقریباً 40 سال تاریخ کے اندھیرے غاروں میں روشنی تلاش کرتے کرتے گزار دیے۔ وہ بین الاقوامی سطح پر بھی درس و تدریس اور تحقیق کا کام کرچکے ہیں۔ وہ کئی تحقیقی کتب و مقالوں کے مصنف بھی ہیں۔ عمر کے اُس حصے میں جب لوگ بچوں سے خدمت کروانا اور آرام کرنا اپنا ضروری حق سمجھتے ہیں اُس عمر میں بھی پروفیسر صاحب دن رات کتاب اور لائبریریوں میں گم رہتے ہیں۔

ان سے مختصر ملاقات کرکے آپ بہت سی کتابوں کا علم چند منٹوں میں حاصل کرلیتے ہیں۔ ان کی اہلیہ بون ٹی بی کی مریضہ تھیں۔ پاکستان میں علاج کرواتے رہے۔ کچھ عزیزو اقارب نے ہاتھ پکڑا اور امریکہ بلالیا۔ پروفیسر صاحب نے بتایا کہ اس وقت وہاں درجہ حرارت منفی 40 ڈگری تھا۔ ہسپتال کا فرش بہت ٹھنڈا تھا۔ ان کی اہلیہ ویل چیئر پر بیٹھی تھیں۔ ہسپتال کا سینئر ترین ڈاکٹر جس کی عمر تقریباً 70 برس سے زائد تھی پاس کھڑا تھا۔

مریضہ نے تقریباً آدھے گھنٹے تک اپنی بیماری اور اس سے پیدا ہونے والی دیگر تکالیف کا تفصیلی ذکر کیا۔ وہ بوڑھا ڈاکٹر ہاتھ باندھے بہت ادب و احترام سے بالکل سیدھا کھڑا رہا اور بڑی توجہ سے مریضہ کا حال سنتا رہا۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے ہاں کسی سینئر افسر کے سامنے ماتحت اپنی نوکری بچانے کے لیے مؤدب کھڑا ہوتا ہے۔ جب مریضہ اپنا حال بیان کرچکی تو وہ سینئر ڈاکٹر ہسپتال کے ٹھنڈے ننگے فرش پر آلتی پالتی مارکر ویل چیئر کے ساتھ بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھوں سے مریضہ کے جوتے اور موزے اتارنے لگا۔

پھر دیر تک پیروں کی انگلیوں، ٹخنوں اور گھٹنوں کا معائنہ کرتا رہا۔ تفصیلی چیک اپ کے بعد اُسی سینئر ڈاکٹرنے اپنے ہاتھوں سے مریضہ کو موزے وغیرہ پہنائے۔ اس کام سے فارغ ہوکر وہ کھڑا ہوا اور بولا کہ میں آپ کو زحمت دینے پر معذرت خواہ ہوں۔ اس دوران پروفیسر صاحب قریب ہی ایک کرسی پر بیٹھے رہے لیکن سینئر امریکی ڈاکٹر نے انہیں کسی بھی تعاون کے لیے نہیں بلایا بلکہ مریضہ کا سب کام خود اپنے ہاتھوں سے کیا، یہاں تک کہ جوتے بھی خود پہنائے۔

پروفیسر صاحب نے انہی دنوں کا ایک اور واقعہ بتایا کہ اُن کی اہلیہ امریکہ کے ہسپتال میں داخل تھیں کہ ایک دن روٹین کے وزٹ پر ایک بے حد حسین نرم و نازک نوجوان لیڈی ڈاکٹر آئی۔ وہ اس حد تک خوبصورت تھی کہ مشرقی عادت سے مجبور ہوکر پروفیسر صاحب کی اہلیہ نے اس سے پوچھ لیا کہ اس کا تعلق کہاں سے ہے؟ لیڈی ڈاکٹر نے مختصر جواب دیا کہ اُس کے آباؤ اجداد یونان سے آئے تھے۔ لیڈی ڈاکٹر نے اپنا کام شروع کیا۔ وہاں کے ڈاکٹر شاید ایک ہی فیکٹری سے بن کر آتے ہیں کیونکہ سب کی عادات و اطوار ایک جیسی ہی تھیں۔

اس لیڈی ڈاکٹر نے بھی اپنے حسن، نازکی اور اجلے کپڑوں کی پروا نہ کی اور مریضہ کے قدموں میں ننگے فرش پر بیٹھ گئی۔ معائنہ مکمل ہوا تو اپنے ہاتھوں سے مریضہ کو باتھ روم تک لے گئی اور دروازے پر کھڑے ہوکر انتظار کرنے لگی۔ جب مریضہ باہر آئیں تو اُن کے ہاتھ دھلوائے اور خود سہارا دے کر بستر تک لائی۔ اس کام سے فارغ ہوکر اس نے رپورٹ لکھی اور دوائیوں کے لیے کاغذ پروفیسر صاحب کے ہاتھ میں تھما دیا۔ چونکہ امریکہ میں دوائیاں بہت مہنگی ہوتی ہیں اس لیے پروفیسر صاحب نے جھجکتے ہوئے نوجوان لیڈی ڈاکٹرسے پوچھا کہ یہ کتنی مالیت کی ہوں گی؟

اس موقع پر پروفیسر صاحب نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ میری بات سنتے ہی لیڈی ڈاکٹر نے فوراً نسخہ میرے ہاتھ سے لے لیا اور گڑگڑا کر معافی مانگنے لگی کہ اس کے نسخہ دینے سے مجھے ذہنی کوفت ہوئی۔ پھر اس لیڈی ڈاکٹر نے وہ تمام دوائیاں ہسپتال کے سرکاری سٹور سے منگوا دیں۔ یورپ اور امریکہ کے حوالے سے دوسرے ملکوں پر بدمعاشی اور ظلم و ستم کے بے شمار واقعات دن رات سننے کو ملتے ہیں لیکن اُن کے اپنے معاشروں کے اندر جھانکئے تو انفرادی سطح پر انسانیت اور اخلاقیات کا عروج ملتا ہے۔

ہم اب تک 72 یوم آزاد ی منا چکے ہیں۔ ہم ان 72 برسوں میں پاکستان کی تمام تر بدحالی اور پریشانیوں کا سبب قیادت کے بحران یا سی آئی اے کی سازشوں کو سمجھتے ہیں لیکن کیا کبھی یہ بھی سوچا کہ ہم میں سے ہرفرد کے اندر کتنا بڑا بحران اور سازش موجود ہے؟ ہم اپنے معاشرتی اور انسانی فرائض کس حد تک ادا کرتے ہیں؟ دیگر شعبوں کوتو چھوڑئیے انسانی زندگی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹری کے پیشے ہی کو لیجیے۔ کیا کسی ڈاکٹر کو انسانیت کی خدمت اور انسانی زندگی بچانے کے لیے مضبوط قیادت کی ضرورت ہے؟

کیا ہمارے ہاں ڈاکٹروں کی سرکاری فرائض میں کم دلچسپی اور پرائیوٹ کلینک میں زیادہ دلچسپی کا تعلق بھی سی آئی اے کی سازش سے ہے؟ کیا ہم پورے ملک میں کسی ایسے سینئر ترین اور عمررسیدہ ڈاکٹر کا نام بتا سکتے ہیں جو سرکاری ہسپتال میں آنے والے ایک عام مریض کی ویل چیئر کے ساتھ ننگے فرش پر بیٹھ جائے، اس کے موزے اتارے، جوتے اتارے، معائنہ کرے، پھر موزے جوتے پہنائے اور جاتے ہوئے معذرت بھی کرے؟ کیا پاکستان میں ایسی کوئی حسین نوجوان لیڈی ڈاکٹر ہے جو اپنے حسن، نازکی اور نخروں کی پروا کیے بغیر سرکاری ہسپتال کی ایک عام مریضہ کو باتھ روم لے جائے، ہاتھ دھلوائے اور ڈانٹ کر نسخے پرلکھی دوائیاں لانے کا کہنے کی بجائے مریضہ کے شوہر سے معافی مانگے اور تمام دواؤں کا بندوبست سرکاری سٹور سے کردے؟ ذرا سوچئے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply