سکھر میں عورت مارچ کی روح رواں، عورتوں کے حقوق کی حامی ہیں، بیھودہ نعروں کی نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورتوں کے حقوق کے حوالے سے پوری دنیا میں منائے جانے والا دن 8 مارچ آنے سے پہلے ئی متنازع بن گیا ہے۔ پاکستان کی کروڑوں عورتوں کے حقیقی مسئلے ثانوی ہو گئے ہیں اورمعاملا اب ماروی سرمد اور خلیل قمر کے ٹی وی شو کی ایک کلپ پر آکے اٹک گیا ہے۔ اس مارچ کے حوالے سے میرے خیال میں ملک کی عورتوں کے اصل مسائل پر سے تو توجہ ہٹ ہی گئی ہے اورکچھہ الٹرا ماڈرن عورتوں کے نعروں کے تضاد نے عورتوں کی اصل جدوجھد کو نقصان پھنچایا ہے پر اس کے ساتھہ ساتھہ دن رات ایک کرکے اپنی زندگی خطروں میں ڈال کر، دشمنیاں مول کر عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کرنے والے اصل اور حقیقی کردار بھی کنفیوز ہو کر رہ گئے ہیں۔

اصل میں عورتوں کے جینیئن مسئلے الٹرا ماڈرن عورتوں کے مسئلے سے الگ اور بڑے بنیادی ہیں قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے خاص کر کے دیہاتی اور چھوٹے شہروں کی عورتوں کی زندگی عذاب میں ہوتی ہے ان کے مسئلے۔ تشدد۔ ریپ۔ عدم تحفظ۔ تعلیم میں رکاوٹ۔ چھوٹی عمر میں شادی۔ تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں، کالیجز، اسکولوں، مدرسوں، دارلامان، عدالتوں، پولیس تھانوں، این جی اوز، ملازمتوں میں عورتوں کے ساتھ زیادتی اور نا انصافی۔ قانون کی سپورٹ نہ ملنا۔ جائداد پہ قبضہ۔ وٹہ سٹہ۔ مرضی کی شادی کی مخالفت اور ایسے کئی جینئین اشوز والی حقیقی تحریک کو ملڪ کی 30 / 40 عورتون نے ڈی ریل کیا ہوا ہے جن کو پتہ ہی نہیں کہ عورت حقیقی طور پر کس عذاب سے گزر رہی ہے۔

میں نے جب یہ ہی بات فیس بک پر اپنی وال پر پوسٹ کی تو، اسلام آباد میں صحافت کرنے والی میری دیرینہ دوست طاہرہ بلوچ نے اپنے کمینٹ میں لکھا کہ، دیکھنا اس مرتبہ یہ مارچ پہلے سے زیادہ ہوگا۔ میں نے اس پر طاہرہ کو جواب میں لکھا کہ، یہ ہی تو مسئلا ہے کہ فوکس ہی یہ ایک دن ہے، اس کی تیاری ہے، میڈیا کریز ہے، واہ واہ ہے باقی پورا سال لاکھوں مظلوم عورتوں کو ان کے حال پر چھوڑا دیا جاتا ہے۔ حقیقت میں کام کرنا ا اس سندھی کہاوت کی طرح مشکل ہے کہ، اپنا گھر جلا کر دیوالی کرنا ہے۔ میں سکھر کی مثال دیتا ہوں جہاں پر 8 مارچ کو سندھ کا عورت مارچ ہونا ہے، اس مارچ کی اصل روح رواں، میزبان، بنیادی کردار ڈاکٹر عائشہ دھاریجو کا ہے، ڈاکٹر عائشہ کا ہی خیال تھا اور انہوں نے آگے جاکے اپنی ہم خیال دوستوں کے ساتھ بات کر کے اس مرتبہ یہ ایونٹ سکھر میں رکھا ہے۔ عورتوں کے حق کے لئے اگر کسی نے دیکھنا ہے کہ جدوجہد کیسے ہوتی ہے، وہ ڈاکٹر عائشہ کا کیس اسٹڈی کرے۔ وہ حقیقی طور پر فنا فی زچہ و بچہ حقوق ہیں۔ ان کی پی ایچ ڈی ان کاموں کی وجہ سے رل گئی ہے، اپنے بچوں کو ٹائم دینا، گھر کو ٹائم دینا، پورے سال میں کوئی دن خالی نہیں جب سو دوسو میل دور گاؤں، دیھاتوں میں کاری کرکے قتل ہونے والی کو بچانے نہ پہنچی ہو، پولیس، عدالتیں، میڈیا، ہر جگہ مظلوم عورتوں کا کیس فائیٹ کرنا اور اس وجہ سے دشمنیا ں مول لینا، دھمکیاں فیس کرنا، میں ان سے کہتا ہوں، کیوں؟

آخر کیوں؟ تو وہ کہتی ہیں ظلم برداشت نہیں ہو تا۔ اصل میں ڈاکٹر عاٗشہ کھانیکار ہیں، بچپن سے کہانیاں لکھتی ہیں، اس لئے حساس ہیں، تھوڑی سی نا انصافی دیکھتیں ہیں، کود پڑتی ہیں، زمیندار اور ملکیت والی، سادہ سی دیہاتی طبعیت گھریلو عورت ہیں، ہرایونٹ میں اپنا پیسا خرچ کرتی ہیں جو کم نہیں ہوتا، کافی سارا ہوتا ہے۔ ان کے شوہر ڈاکٹر علی اکبر نائچ سکھر کے مھر میڈیکل کالیج میں پروفیسر ہیں، علمی ادبی ذوق رکھتے ہیں اور ڈاکٹر عائشہ کو سماجی کاموں میں ان کا اور ان کی کمائی کا مکمل ساتھ حاصل ہے۔

عورتوں اور بچوں کی مدد کے لئے ڈاکٹر عائشہ دھاریجو کا بنایا ہوا۔ سکھر بیسڈ سندھ سھائی ستھ۔ پلیٹ فارم شمالی سندھ کا آج کل سب سے زیادہ سرگرم فورم ہے، سندھ کے ایک بڑے شاعر ادل سومرو، ایڈوکیٹ رضوانہ میمن، ایڈوکیٹ فرزانہ کھوسو، لطیف انصاری، ندیم بزدار، ہادی بھٹ ایڈووکیٹ اور دیگر اس گروپ میں ڈاکٹر عائشہ کے ساتھ ہیں۔ اس سماجی گروپ کی خاصیت یہ ہے کی کسی سے ایک پیسا بھی فنڈنگ نہیں لیتا۔ سب ڈاکٹر صاحبہ اپنی ملکیت اور کمائی سے خرچ کرتی ہیں۔ ان کی دوسری خاصیت یہ ہے کی یہ فورم موسمیاتی فورم نہیں، پورا سال کام کرتا رہتا ہے۔

اس گروپ کا تعارف کروانے کا اصل مقصد یہ ہی تھا کہ بتایا جائے کہ ڈاکٹر عائشہ ہی سکھر میں اس عورت مارچ کی روح رواں اور میزبان ہیں۔ مگر جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کا یہ مارچ گذشتہ سال کی طرخ اسلام آباد، کراچی، لاہور میں ہونے والے مارچوں میں اٹھائے جانے والے نعروں کو اس مرتبہ سکھر میں اٹھا کر چلے گا؟ تو انہوں نے صاف انکار کیا اور کہا کہ۔

سراسری، برابری،

اسان گھروں تھا ایتری

آزاد فرد جیتری۔

ترجمہ، ہم اس معاشرے ایک آزاد فرد کے برابر اپنے حقوق چاہتے ہیں بس۔ ہماری جدوجہد اس نعرے کے گرد اور عورتوں کے ان حقوق کے لئے ہے ( جو میں اوپر بیان کر آیا ہوں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *