کمزور دل افراد عورت مارچ سے دور رہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں آج جہاں ہوں اس میں اہم کردار ان مردوں کا ہے جنھوں نے مجھے ان مردوں سے لڑنے کی طاقت اور حوصلہ دیا جو میرے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے تھے۔ کئی جگہوں پر میرا ضبط جواب دیتا کئی جگہ ہمت ٹوٹنے لگتی لیکن پھر مجھے کوئی راستہ دکھا دیا جاتا۔ وقت گزرتا گیا میں نے حالات سے لڑنا سیکھ لیا ان لوگوں سے بھی جو عورت کو کچھ نہیں سمجھتے۔ میری خوش قسمتی رہی کہ مجھے اچھے لوگوں کا ساتھ میسر آیا۔

جہاں میرے ساتھ غلط ہونے لگتا میں حساب چکتا کردیتی اور کئی جگہوں پر مجھے مصلحتا خاموش رہنا پڑتا جس پر میں سلگتی رہتی لیکن پھر سوچتی کہ میں دیگر عورتوں کے مقابلے میں، میں اپنا دفاع کرنا جانتی ہوں، اپنے حقوق سے واقف ہوں، نڈر ہوں لیکن جو نہیں ہیں ان پر کیا گزرتی ہوگی؟ مجھے سب میسر ہے چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو تو کیا مجھے چپ رہنا چائیے؟ مجھے کیا پڑی ہے کہ میں اوروں کے لئے نکلوں یا بات کروں اگر یہ سوچ رکھتی تو شاید آج میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوتی جو یہ سمجھتے ہیں کہ عورت مارچ کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہاں لوگ جمہوریت بچانے نکلتے ہیں، کرپشن کے خلاف نکلتے ہیں، عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف نکلتے ہیں تو کبھی انصاف دینے والے بھی دہائی دیتے نظر آتے ہیں لیکن جب عورت اپنے آپ کو بچانے یا اپنے مسائل کے حل کے لئے نکلے تو وہ خطرہ ہے، بے حیائی ہے، فحاشی ہے اور ڈھونگ ہے۔

یہ مارچ کن کے خلاف ہے؟ کس سوچ کے خلاف ہے کیا یہ صرف عورتوں کا مارچ ہے؟ مرد اس کا حصہ نہیں بن سکتا؟ کیوں نہیں بن سکتا وہ مرد جو عورت کو تحفظ دے اسے طاقت دے وہ یقینی طور پر ہر اس عورت کے حقوق کی بات کرے گا جو اس کا بنیادی حق ہے لیکن اسے نہیں مل رہا۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارے اردگرد ایسے کون لوگ ہیں جن کے عمل سے یہ گھٹن بڑھی جو اب کچھ لوگوں کو زہریلی گیس محسوس ہورہی ہے اور انھیں لگتا ہے کہ اس سے موت یقینی ہے۔

آج سے کوئی تین برس قبل ضمنی الیکشن کی کوریج کے دوران ایک جگہ بہت سے رپورٹر جمع تھے۔ میری بھی ملاقات نئے پرانے ساتھیوں سے ہوئی الیکشن کی صورتحال پر ایک کولیگ کے ساتھ تبادلہ خیال جاری تھا کہ سامنے سے ایک ساتھ مختلف چینلز کی تین خواتین رپورٹرز ایک ساتھ داخل ہوتی دکھائی دیں۔ کچھ ہی فاصلے پر بیٹھے میرے ایک کولیگ نے کمنٹ پاس کرتے ہوئے مجھ سے کہا کہ یہ جو سامنے سے موٹی بھدی کالی سی لڑکی آرہی ہے یہ بھی رپورٹر ہے؟

میں نے اس شخص کو جب حیرت سے دیکھا تو اس نے ایک دم کہا مطلب میک اپ کرکے گئی ہوگی تب ہی چینل نے نوکری دے دی۔ جب وہ رپورٹر قریب پہنچی تو اس سے جس احترام سے وہ حضرت ملے وہ دیکھنے لائق تھا کہ اگر اس لڑکی کو یہ معلوم ہوجاتا تو وہ شاید کبھی یقین نہ کرتی کہ اس کے لئے یہ بات کی گئی۔ آج وہ ہی حضرت عورت کی حرمت اور حدود و قیود پر پوسٹ ڈال رہے ہیں۔

ایک بار دفتر میں مختلف چینلز کی اسکرین پر صبح کے وقت بلیٹن جاری تھے کہ ایک صاحب اچانک بولے ارے فلاں چینل دیکھو یہ تو رپورٹر تھی ناں اب اینکر بن گئی تو ایک حضرت نے معنی خیز انداز سے فرمایا ارے کیسے اینکر بنی ہے آپ کا بھائی آپ کو بتائے گا۔ دوسرے حضرت نے کہا کہ ہاں محنتی تو تھی تو بھائی نے آنکھ مار کر فرمایا کہ محنت کہاں کہاں کیسے کیسے ہوئی اب کیا بتاوں۔ میں نے جب مڑ کر دیکھا تو دونوں حضرات سگریٹ پینے کے بہانے نکل گئے۔ آج یہی صاحب ٹویٹر پر حیا اور شرم کی افادیت پر روشنی ڈال رہے ہیں۔

ایک بار میری ساتھی کولیگ نے مجھے واٹس ایپ پر ایک آرٹیکل کا لنک بھیجا جو ہمارے ہی ایک پرانے ساتھی نے کسی ویب سائیٹ پر لکھا تھا جس میں درج تھا کہ لڑکیاں جینز یا ٹائٹس پہنیں تو مردوں کے جذبات کیسے مجروح ہوتے ہیں اور یہی نہیں وہ کیا کیا کر جاتے ہیں اس پر خاصی تفصیلات درج تھیں۔ میری ساتھی نے مجھ سے کہا کہ اگر یہ شخص ایسے خیالات رکھتا ہے تو یہ ہمیں کس طرح دیکھتا ہوگا یہ بات اب مجھے بے چین رکھے گی۔ آج یہی محترم ہر فورم پر بتارہے ہیں کہ آدم کو ورغلانے والی بھی بی بی حوا تھیں، جو خلیل الرحمن قمر کے ساتھ ہوا وہ نیا نہیں۔

آوارہ، بدچلن، طوائف، گشتی، بے حیا، بے شرم اور بہت سے نام جو شاید یہاں لکھے تو جاسکتے ہیں لیکن پڑھنے والے کو اعتراض ہوسکتا ہے ان سب ناموں سے عورت کو پکارا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا جو اب گٹر سے کم نہیں وہاں پر آپ کو ایک سے بڑھ کر ایک دانشور اپنی علم و فراست بیچتا دکھائی دے گا اور ظاہر کرے گا کہ اس سے زیادہ اعلی ظرف اور عزت دار اس معاشرے میں کوئی نہیں لیکن وہی شخص ذرا سی اختلاف رائے ملنے پر بتادے گا کہ اس کی اصلیت کیا ہے؟

میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانے والی عورت اس وقت سب سے زیادہ بے حیا ہے اس نعرے کو سب نے اپنی مرضی کا سمجھ لیا ہے جبکہ اس کا مطلب واضح اور صاف ہے کہ عورت کی نہ کا مطلب نہ ہے۔ کم عمری کی شادی، بچوں کی پیدائش پر پیدائش، زنا بالجبر، زبردستی کی شادی، جنسی ہراسانی اور بہت سے مسائل جس میں عورت کا وجود تکلیف سے گزرتا ہو وہ اس کے لئے یہ نعرہ لگارہی ہے کہ میرا جسم میری مرضی۔ کس چوک پر آپ کو کوئی عورت برہنہ یہ نعرہ لگاتی ہوئی ملی ہے؟

ہاں مگر ہم نے تین برس سے تیس برس یا اس سے بھی بڑی عمر کی بچی، لڑکی، عورت کو زنا کرنے کے بعد قتل کرکے ویرانوں، سڑکوں، قصبوں اور کچروں کے ڈھیر سے ضرور ان حالتوں میں اٹھایا ہے۔ آپ کی نظر میں نعرے لگانے والی، سڑکوں پر نکلنے والی، دفتر میں کام کرنے والی، بسوں میں سفر کرنے والی، فٹ پاتھ پر چلنے والی، مالز، بازاروں، دکانوں، ریڑھی سے چیزیں خریدنے والی عورتیں بے حیا، آوارہ ہوسکتی ہیں ان کے وجود کو ڈھانپنے والے کپڑے آپ کے سوئے ہوئے جذبات میں سیلاب و طوفان بھی برپا کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ سمجھ نہیں آتا کہ کم عمر بچیاں جو ابھی بلوغت کی عمر کو پہنچی نہیں، بلکہ وہ بچیاں جو ابھی ٹھیک سے ہوم ورک بھی نہیں کرسکتیں، جنھیں ابھی یہ بھی معلوم نہیں کہ رشتے کیا ہوتے ہیں؟ کون اپنا کون پرایا ہوتا ہے، کس کا کیا اشارہ ہوتا ہے وہ کیسے بے حیا نظر آجاتی ہیں جو ریپ کا نشانہ بن جاتی ہیں۔

عورت مارچ میں حصہ لینے والی ساری عورتیں لبرلز ہیں، فاحشہ ہیں چلیں مان لیتے ہیں لیکن یہ سمجھ نہیں آتا کہ قبر میں جاکر ابدی نیند پوری کرنے والی مردہ عورت میں ایسی کیا بے حیائی یا کشش محسوس ہوتی ہے جو ایک شخص کو اس اندھیری قبر میں لے جائے اور اپنی تسکین کا سامان مہیا کردے کیا وہ عورت مرنے سے پہلے یہ کہہ کر جاتی ہے کہ سنو آج میں اکیلی ہوں گی آسکتے ہو؟

یہی نہیں وہ تمام لوگ جو آج سوشل میڈیا پر یہ دلیلیں دے رہے ہیں کہ اسلام عورت کو سارے حقوق دیتا ہے وہ جو چاہیں کریں انھیں کس نے ڈاکٹر، انجئینر، سائنسدان بننے سے روکا ہے لیکن اس مارچ کی آڑھ میں بے حیائی نہیں چل سکتی۔ یہ لوگ اچھے سے جانتے ہیں کہ جن پروفیشنز کا ذکر یہ کر رہے ہیں وہاں بھی یہ عورتوں کو کن کن نازیبا الفاظ سے پکارتے ہیں، ان کی ترقی پر کیا فقرے کستے ہیں اور انھیں کیا سمجھتے ہیں۔ ایسے تمام افراد کے لئے میں صرف ان دنوں یہ سوچ رہی ہوں کہ ان کی بیٹیاں تاعمر اپنے والد کے عظیم خیالات اور عورت کو صرف ایک جسم سمجھنے کی سوچ سے لا علم رہیں اور ہمیشہ میرے بابا میرا فخر ہیں کہتی رہیں۔

کیوں کہ میں ایسے بہت سے عظیم باباوں کو جانتی ہوں جو کئی لڑکیوں کی زندگیوں سے کھیلے، انھیں بدنام کیا اور اب بھی فخریہ انداز میں چار مردوں میں بیٹھ کر کہتے ہیں کہ آپ کے بھائی نے بھی کم نہیں کی اب بھی وہ چاہے تو کسی بھی لڑکی کو سیٹ کرسکتے ہیں چیلنج نہیں کیجئے گا۔ لیکن اس وقت ان کی پوسٹ یہ ہوگی عورت کا اصل مقام گھر اور چار دیواری ہے باقی دنیا بھیڑیوں سے بھری ہے۔

اس معاشرے میں گالیاں بھی جو ایجاد ہوئیں ان میں بھی ماں اور بہن ہوگی۔ عورت کو آپ نے شروع دن سے ایک جھکنے والی، واسطہ دینے والی، کمزور، شرمندگی کی علامت بنائے رکھا ہے۔ جبکہ اس دنیا میں بہت سے ایسے مرد ہیں جن کی کوئی بہن نہیں، نہ ہی بیٹی لیکن وہ عورت کو عورت سمجھتے ہیں اس کا احترام اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اسے انسان سمجھتے ہیں۔ ورنہ خلیل الرحمن قمر شوہر بھی ہیں، بیٹی کے باپ بھی ہیں کسی کے بیٹے بھی ہیں لیکن ان کے نزدیک عورت ایک جسم کا نام ہے جو فربہہ ہو تو تھوکنے کے لائق نہ ہو اور اگر خوبصورت ہو تو دیکھ کر لذت لینے کے ضرور قابل ہوسکتا ہے۔

عورت مارچ گزشتہ برس بہت سی وجوہات کی بنا پر متنازع بن گیا کیونکہ اصل مسائل سے ہٹ کر کچھ نعرے کچھ ہورڈنگز کو پذیرائی ملی اور سب سے حقیقی مسائل سے نظریں چرا لی گئیں۔ وہ نعرے کسی فرد کی سوچ ہوسکتی ہے اور غلط بھی ہوسکتی ہے یا یورپ کے کا پی پیسٹ نعرے بھی ہوسکتے ہیں یا اس نے جو لکھا ہے اس کے نزدیک وہ سب سے اہم مسئلہ ہوسکتا ہے۔ لیکن کیا آپ کے ملک میں سب اچھا ہے؟ یہاں ریپ، جنسی ہراسانی، عورتوں کی حق تلفی، معاشی استحصال، جبری تبدیلی مذہب، کم عمری کی شادی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ نہ ہونا، طلاق خلع جیسے مسائل، عورتو ں پر گھریلو تشدد، غیرت کے نام پر قتل، تیزاب گردی اور بہت سے مسائل جن کی ایک طویل فہرست ہے اس سے نظریں چرانا درست ہے؟

کیا یہاں کم عمر بچیوں اور بچوں کا ریپ نہیں ہورہا؟ کیا یہاں غیرت کے نام پر قتل نہیں ہورہے؟ کیایہاں برقعہ میں عورت محفوظ ہے؟ میں نے باپردہ عورت کو بھی اپنے شوہر سے پٹتے دیکھا ہے اور ایک پڑھی لکھی باشعور عورت کو بھی ہراساں ہونے کے بعد چپ ہوجانے پر مجبور دیکھا ہے۔ خلع، طلاق کے لئے عدالتوں میں چکر کاٹتے، کردار کشی کرواتی لڑکیوں کی تکلیف بھی دیکھی ہے اور ان کے ماں باپ کی بے بسی بھی، یونیورسٹی میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے جانے والی لڑکیوں کو بسوں اور اداروں میں استادوں سے ہراساں ہونے کے واقعات بھی دیکھے ہیں۔ ایسی عورت سے بھی واقف ہوں جو نماز اور قرآن پڑھ کر فارغ ہو تو شوہر اسے طوائف کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔ ایسی لڑکی کو بھی جانتی ہوں جو ڈاکٹر بنی لیکن شوہر سے روز کردار کشی ہونے پر اس نے جاب چھوڑی اور گھر بچانے کے لئے پٹتی بھی رہی اور ذلیل بھی ہوتی رہی۔ یہ مارچ ایسی عورتوں کے لئے ہے۔

اس قوم کے سوشل میڈیا کے سپاہی میا خلیفہ، سنی لیون کی تصاویراور ویڈیو زیکھ کر سوتے ہیں اور صبح اٹھ کر ٹویٹر پر خاتون سیاستدانوں کے ٹرینڈز گالیوں کے ساتھ بناکر آگے بڑھاتے ہیں یا پھر کردار کشی کرنے کے ریکارڈ قائم کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ تو میاں آپ کا چہرہ تیزاب سے نہیں جھلسا آپ کو اس کی جلن کبھی محسوس نہیں ہوگی۔ آپ کے جسم کو کھا جانے یا چاٹنے کی خواہش والی نظروں سے نہیں دیکھا گیا آپ کو اس کی چھبن نہیں ہوسکتی۔

کھانا ٹھیک سے گرم کرنے پر ملنے والی موت کا اندازہ آپ نہیں لگاسکتے۔ آپ کو تھپڑ گالیاں کھانے کے بعد اپنے مجازی خدا کی رات کو پرستش نہیں کرنی پڑی۔ آپ کو جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے قبل حمل کا بوجھ نہیں اٹھانا پڑا وہ درد آپ کو سمجھ نہیں آسکتا۔ آپ کی بہن بیٹی آپ کو اپنے سوشل میڈیا پر آنے والے نامعلوم افراد کے وہ گھٹیا پیغامات، تصاویر نہیں دکھا سکتی جو اس کی راتوں کی نیندیں اڑا دیتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر اس ننھے وجود کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا درد آپ سوچ نہیں سکتے اس کی ماں سے پوچھیں جو اپنی ننھی پری کے بال بناتے ہوئے بھی کنگھے کے بجائے اپنی انگلیوں کو کنگھا بناتی ہوگی کہ میری گڑیا کے بال نہ کھنچے لیکن اس بچی کو نوچ کھایا گیا۔

یہ مارچ ان سب کے لئے ضروری ہے، نعروں کو پڑھیں اس کے پیچھے کی کہانیوں اور درد کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ عورت کو انسان سمجھنا شروع کیجئے مسائل کا حل ملنے لگے گا پھر شاید کسی چیخ کسی آواز کی ضرورت نہ رہے لیکن ابھی یہ معاشرہ زیر تعمیر ہے اس لئے مارچ کرنا تو بنتا ہے تو جو کمزور دل اور کردار کے حامل افراد ہیں اور اصل مسائل کو اب بھی مسئلہ نہیں سمجھتے وہ اس مارچ سے دور رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سدرہ ڈار

سدرہ ڈارنجی نیوز چینل میں بطور رپورٹر کام کر رہی ہیں، بلاگر اور کالم نگار ہیں ۔ ماحولیات، سماجی اور خواتین کے مسائل انکی رپورٹنگ کے اہم موضوعات ہیں۔ سیاسیات کی طالبہ ہیں جبکہ صحافت کے شعبے سے 2010 سے وابستہ ہیں۔ انھیں ٹوئیٹڑ پر فولو کریں @SidrahDar

sidra-dar has 73 posts and counting.See all posts by sidra-dar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *