ذیابیطس کی دیکھ بھال میں کتوں کی مدد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذیابیطس تمام دنیا میں پھیل رہی ہے۔ ذیابیطس ایک طویل عرصے کی بیماری ہے جس کی اچانک ہوجانے والی پیچیدگیوں میں خون میں شوگر کا نہایت کم ہوجانا شامل ہے۔ ذیابیطس آج بھی دنیا میں اندھے پن کا سب سے بڑا سبب ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں میں باقاعدگی سے چہل قدمی اور ورزش اہم ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں میں خصوصی طور پر تربیت یافتہ کتوں کی مدد لی جاتی ہے جو ان مریضوں کو جذباتی سہارے سے لے کر ذیابیطس کے علاج میں مدد کرتے ہیں َ۔

زمین پر جدید انسان قریب دو سو ہزار سال پہلے نمودار ہوا۔ بھیڑیے یہاں تین سو ہزار سال سے موجود تھے۔ تمام انسان افریقہ سے شروع ہوئے اور انہوں نے وقت کے ساتھ شمال کی طرف ہجرت کی۔ جن شمالی علاقوں میں بھیڑیے انسانوں سے رابطے میں آئے ان میں کوئی تیس ہزار سال پہلے تبدیلیاں ہونی شروع ہوئیں۔ آج کل کے زمانے میں جو کتے موجو د ہیں ان کے ابتدائی فوسل کوئی پندرہ ہزار سال پرانے ہیں۔ انسان بھیڑیوں کو شکار کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

کچھ بھیڑیے ان سے دور رہتے تھے لیکن کچھ انسانوں کے بارے میں متجسس تھے۔ یہ بھیڑیے انسانوں کا کچھ فاصلے سے مشاہدہ کرتے اور ان کے پیچھے چھوڑ ے ہوئے شکار جانوروں کی باقیات کھاتے تھے۔ ان دوستانہ بھیڑیوں کے بچوں میں جسمانی اور جینیاتی تبدیلیاں آئیں اور وہ انسانوں سے محبت کرنے والے کتے بن گئے۔ انسان اور کتے کا پندرہ ہزار سال پرانا رشتہ ہے۔ کتے کی زندگی کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ انسان کا ساتھی ہو۔ کتے نے ارتقا کی طاقت سے انسان کا رفیق بننے کے لیے خود کو بھیڑیوں سے تخلیق کیا۔ اس ارتقا میں محض چند جین میں رد و بدل ہوا۔

یہ جاننے کے لیے کہ انسانوں سے رابطے میں آنے سے کس طرح جانور بدل جاتے ہیں، روس میں پچھلے پچاس سال سے ریسرچ جاری ہے جس میں انہوں نے لومڑیوں پر یہ تجربات کیے۔ روزانہ تحقیق دان ان کے پنجروں میں ہاتھ ڈالتے ہیں۔ کچھ لومڑیاں ان کے بارے میں متجسس ہوتیں، کچھ ان پر حملہ کرنے کی اور ان کو کاٹنے کی کوشش کرتیں۔ ان سائنس دانوں نے یہ دیکھا کہ دوستانہ لومڑیوں کی اگلی نسلوں میں یہ دوستانہ پن انسانوں کے ساتھ گھلنے ملنے سے بڑھتا گیا اور دسویں نسل تک وہ کتوں کی طرح ہی انسانوں سے محبت سے لپٹنے لگیں، ان کا منہ چومنے لگیں۔ ان لومڑیوں کی دم ٹیڑھی ہوگئی اور ان کے جسم پر سفید دھبے نمودار ہوئے۔ ڈومیسٹیکیشن (Domestication) سے یہ دیگر جانوروں میں بھی دیکھا گیا ہے کہ ان کے جسم پر سفید دھبے بن جاتے ہیں۔

ایک جین (WBSCR 17 ) ہے جس کی میوٹیشن کی وجہ سے انسانوں میں ولیم سنڈروم (William syndrome) ہوجاتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلا افراد نہایت خوش مزاج ہوتے ہیں، ان کی پیشانی چوڑی ہوتی ہے اور ان میں ذہنی بالیدگی کی کمی ہوتی ہے۔ اسی جین کی وجہ سے کتے انسانوں سے شدید محبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی زندگی اور فلاح وبہبود کا دارومدار ان کے گرد موجود انسانوں پر مبنی ہے۔ جن کتوں پر بچپن میں تشدد ہوا ہو یا ان کی زندگی نہایت مشکل ہو اور ان کو مناسب خوراک نہ ملے اور ان کو تمام ضروری ویکسینیں نہ لگی ہوں تو ان میں انسانوں کی طرح ہی جسمانی اور ذہنی امراض پیدا ہوتے ہیں۔

کافی لوگ سوچتے ہیں کہ کیا کتے ہم سے اس لیے محبت کرتے ہیں کہ ہم ان کو کھانا ڈالتے ہیں؟ پچھلے دس سالوں میں کتوں کے رویے اور جنییات پر کافی ریسرچ ہوئی ہے۔ ان کے دماغ کے اسکین سے یہ معلوم ہوا کہ جب ان کو خوراک دی گئی تو ان کے دماغ کے کچھ حصے متحرک ہوئے لیکن جب ان کو توجہ اور محبت دی گئی تو ان کا سارا دماغ جگمگا اٹھا۔ کتے کے لیے انسان کی محبت اس کی دی ہوئی خوراک اور پناہ سے زیادہ اہم ہے۔ کتے بھیڑیوں کی طرح خود اپنا خیال نہیں رکھ سکتے اور ان کو انسانوں کی ہمدردی کی ضرورت ہے۔

اس لیے وہ ذہانت میں بھیڑیے سے زیادہ نہ ہوتے ہو ئے بھی انسانو ں کو خوش کرنے کی کوشش میں کافی چیزیں سیکھ جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ کتوں کو تقریباً ”ہر میدان میں تربیت دے کر استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ شکار میں مدد دیتے ہیں، بھیڑ بکریوں کو سنبھالنے، ایر پورٹ پر منشیا ت سو نگھنے سے لے کر ذیابیطس کے مریضوں کے علاج میں مدد دیتے ہیں۔ ذیابیطس کی بیماری میں خاص طور پر تربیت یافتہ کتے استعمال ہوتے ہیں۔

ذیابیطس میں اگر ہائپو گلائسیمیا (Hypoglycemia) یا خون میں شوگر کی شدید کمی ہو اور یہ مریض ان کو محسوس نہ کرسکیں تو یہ مریض کوما (Coma) میں جاسکتے ہیں۔ کچھ سوتے میں ہائپوگلائسیما سے مر جاتے ہیں۔ خون میں شوگر کے کم ہوجانے کی علامات میں پسینہ بہنا، کانپنا، ذہن کا ٹھیک سے کام نہ کرنا اور بھوک لگنا شامل ہیں۔ کچھ کو دورے بھی پڑ سکتے ہیں۔ کتوں میں سونگھنے کی قدرتی صلاحیت کی وجہ سے نہ صرف وہ بہترین شکاری ہوسکتے ہیں بلکہ ان کو اس طرح سدھایا جاسکتا ہے کہ وہ مختلف طرح کی بو پہچان سکیں۔

یہ کتے ذیابیطس کے مریضوں میں کیٹون (Ketones) کی بو محسوس کرکے ان کو سوتے سے جگادیتے ہیں۔ کتوں نے بہت سارے ذیابیطس کے مریضوں کی جانیں بچائی ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان مریضوں کو خون میں شوگر چیک کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ذیابیطس کے تمام مریضوں کے لیے خون میں شوگر کو باقاعدگی سے چیک کرنا ضروری ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خصوصی طور پر سدھائے ہوئے کتے مندرجہ ذیل اداروں سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

National Institute for Diabetic Alert Dogs<https://l۔ facebook۔ com/l۔ php؟ u=http% 3 A% 2 F% 2 Fwww۔ nidad۔ com% 2 F% 3 Ffbclid% 3 DIwAR 0 aQ 7۔ LyzMtEPKGXCZON 9 N 5 uGfIV 2 WqxdOinVqLXv 1 hteACYdDwAMxFogM&h=AT 0۔ HzkEfmFGR 8 JVWnyccXR 8 QYmDExkj 0 b 199 SgSwEBCkG 7 SisOb 8 Ca۔ mzrpw 6 IfqVPkBRdv۔ LjS 2 Tm 2 ap 1 DiPvKuSgb 4 rqAwy۔ GPvoMaCS 8 VQ۔ HMCkiKeBVrigZkSEKl 3 k> (NIDAD)

Diabetic Alert Dog University۔ <http://diabeticalertdoguniversity۔ com/؟ fbclid=IwAR 3 uDisWDrsbfmbouuvMrXfvlSLyiwNmeJAaJFEAXRHmB۔ bgMt 2 CjXtyi 3 o>

کتوں کی جن اقسام کو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے سدھایا جاتا ہے ان میں گولڈن رٹریور (Golden retrivers) ، لیبراڈور (Lbrador retrivers) اور پوڈل (Poodles) شامل ہیں۔ ان کتوں کو سکھایا جاسکتا ہے کہ ایمرجنسی میں فون کیسے ملانا ہے، مدد کیسے حاصل کرنی ہے، ضروری چیزیں جیسا کہ دوا کیسے اٹھا کر لانی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جن ذیابیطس کے مریضوں کے پاس یہ ماہر کتے ہوں، وہ خون میں شوگر کم ہوجانے پر ان کتوں کی وجہ سے جاگ سکتے ہیں، کتوں کے ساتھ چہل قدمی سے ان کی صحت اور زندگی پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان کا معیار زندگی بہتر ہوجاتا ہے۔ کتے انسان کو جذباتی سہارا فراہم کرتے ہیں اور کتوں کی دیکھ بھال کرنے سے، ان کو کھلانے پلانے سے انسان خوش محسوس کرتے ہیں اور ان میں احساس تنہائی کم ہوتا ہے۔ کتے اپنے انسان کے احساسات اور جذبات سمجھنے کی قدرتی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن ذیابیطس صرف انسانوں کو ہی نہیں بلکہ کتوں کو بھی ہوسکتی ہے۔

اپنے پیارے کتے کو ذیابیطس سے کیسے بچائیں؟

اپنے کتے کو روزانہ باہر چہل قدمی کے لیے لے جانے سے اور ان کی غذا پر توجہ دینے سے ان میں ذیابیطس کا خطرہ انسانوں کی طرح ہی کم کیا جاسکتا ہے۔ جن کتوں کو ذیابیطس ہوجائے ان کا گولیوں سے اور انسولین سے علاج بھی ممکن ہے تاکہ ان میں ذیابیطس کی پیچیدگیاں پیدا نہ ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *