عورتوں کے حقوق کی تکرار اور مدعا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Peter Jacob

جریدہ فارن افیئرز کے شمارہ جنوری 2020 ء کے ایک مضمون میں Rachel Vogelstien اورJamille Bigio لکھتی ہیں کہ گزشتہ سالوں ہونے والے انتخابات میں عورتوں نے نمایا ں کامیابیاں حاصل کر کے منتخب اداروں میں پائے جانے والے صنفی عدم توازن کو کم کردیاہے۔ 2018 ء میں افغانستان میں 417 اور عراق میں 2011 عورتوں نے انتخابات میں حصہ لیا لبنان میں گزشتہ انتخابات ( 2005 ء) میں صرف چار مگر 2018 ء میں 111 عورتوں نے حصہ لیاگزشتہ انتخاب کے مقابلے میں یہ اضافہ 27 گنا تھا۔ اسی سال امریکہ میں 500 سے زائد عورتوں نے حصہ لیا، 2018 ء میں عورتوں نے آئر لینڈ، انڈیا اور جاپان میں گزشتہ تمام انتخابات سے زیادہ تعداد میں حصہ لیا۔

2018 ء کے انتخابات میں امریکہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عورتیں بڑی تعداد میں منتخب ہوئی اس وقت 25 فیصد عورتیں ایون نمائندگان اور سینٹ کی رکن ہیں۔ یونہی 2018 ء کے انتخاب میں برازیل میں پہلی مرتبہ 35 فیصد عورتیں نیشنل کانگرس کی رکن بنی ہیں یہ گزشتہ ایوان میں نمائندگی سے دو گنا اضافہ ہے۔ سری لنکا میں 2011 ء میں لوکل کونسلز میں 82 عورتیں منتحب ہوئی تھیں۔ 25 فیصد کوٹہ مختص ہونے کے بعد 016 2 ء میں یہ تعداد 2000 ء تک جا پہنچی۔

تیونس میں عورتوں کے لئے مساوی مواقع کاقانون بننے سے سرکاری ملازمتوں میں عورتوں کی تعداد مردوں کے برابر ہو گئی ہے جو 2010 ء میں 27 فیصد تھی۔ میکسکو میں 2018 ء کے انتخاب میں 3000 عورتوں نے حصہ لے کر کانگرس میں صنفی برابری کو ممکن بنادیا۔ ادھر افریقہ کے چھوٹے سے ملک جبوتی میں گزشتہ الیکشن 2013 ء میں 11 جبکہ 2018 ء کے الیکشن 27 عورتوں نے کامیابی حاصل کی۔

البتہ آئس لینڈ اور پاکستان میں عورتوں کی منتخب اداروں میں کمی واقع ہوئی۔ آئس لینڈمیں 2017 ء کے انتخابات میں نمائندگی 47 فیصد سے کم ہو کر 38 فیصد رہ گئی تھی۔ پاکستان میں 2018 ء کے انتخابات میں مخصوص اور منتخب نشستوں کو ملاکر 69 عورتیں قومی اسمبلی کا حصہ بنیں گویا گزشتہ ایوان ( 2013 ء تا 2018 ء) کے مقابلے میں ایک نشست کم ہوئی۔ پانچ فیصد جنرل نشستیں خواتین کے لئے مخصوص کرنے کاقانون بھی بن چکا ہے یوں خواتین کی نمائندگی بڑھنے کی بجائے کم ہوئی ہے۔

جنوری 2020 ء میں لاہور میں تھینک فیسٹ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق رکن بھارتی پارلیمنٹ منی شنکر آئرنے یہ بتا یا کہ بھارتی عورتوں کی نمائندگی لوکل گورنمنٹ میں نصف کے قریب ہوچکی ہے اور ان میں بڑی تعدادایسی عورتوں کی ہے جو ورکنگ کلاس سے تعلق رکھتی ہیں۔

ایک تحقیق میں چندن جھا اور سُدیپتا سارانگی نے 125 ممالک کے اعداد و شمار سے ثابت کیا ہے کہ جن ممالک میں خواتین کی سیاسی نمائندگی میں اضافہ ہوا وہاں کرپشن (مالی بدعنوانی) کے رحجان میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔

مندرجہ بالا اشاریوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عورتیں دنیا بھرمیں سیاسی اداروں اور فیصلہ سازاداروں میں اپنی شمولیت میں اضافہ کر رہی ہیں اور ان ممالک میں ایک بڑی تعداد ترقی پذیر ممالک کی ہے۔ عورتیں مختلف شعبہ جات میں بلخصوص کھیل، ثقافتی زندگی، صنعت اور تجارت میں پہلے ہی حصہ لے رہی ہیں۔

نتیجہ یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سیاسی اور معاشرتی ڈھانچوں میں عورتوں کا اختیار اور اثرونفوذ بڑھ رہا ہے۔ اس اضافے کی رفتار کے پیش نظر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اب ہرمیدان میں عورتوں کی مساوی نمائندگی کے حصول میں صرف چند سال باقی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ صنفی مساوات کے اصول کی اس تاریخی کامیابی کا نتیجہ کیا ہونا چاہیے۔ کئی مرتبہ سادہ دلی سے رویہ تبدیلی کو آخری ہدف قرار دیا جا تا ہے۔ اداروں کی سطح پر اقتدار کی ایک سے دوسرے ہاتھ میں منتقلی تو ہو جاتی ہے لیکن نئے حکمران کو یہ اندازہ لگانے میں وقت لگتا ہے کہ حالیہ بحرانوں اور چیلنجز کا سامنا کیسے کرنا ہے۔

امریکہ میں عورتوں کی سیاسی نمائندگی کے موضوع پر Good and Mad کے عنوان Rebecca Traisterکی ایک اہم کتاب آئی جس کا مقصد امریکہ میں 2018 ء کے انتخابات میں عورتوں کی شمولیت کو بڑھانا تھا۔ مصنفہ نے عورتوں کے مردحاوی نظام پر عورتوں کے غصہ کو جائز قرار دے کر اسے ایسی سیاسی تبدیلی کا محور بنانے کی وکالت کی جس میں عورتوں کی قابل قدر نمائندگی اور ماحولیات کا تحفظ ترجیح بن جایئں۔ گڈ اینڈ میڈ کے علاوہ کچھ دیگر تصنیفات امریکہ میں حقوق ونسواں (فیمی نزم) کے ذمہ دارانہ ادراک اور سماج کے تاریخی فہم کا پہلورکھتی ہیں۔ اس سے پیشتر فیمی نزم کی ایک ایسی شکل موجود تھی جو محض Reactionaryیا جوابی ردعمل کے رحجان کا مظہر تھی اور اس میں جارحیت کا عنصر پایا جاتا تھا۔

بین الا اقومی سطح پر عورتوں کی نمائندگی کا بہترین نمونہ تو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن کے طرز فکروعمل میں نظر آتا ہے۔ جس میں نا انصافی کے ہمہ جہت اور تاریخی تسلسل کا فہم ہے مظلوموں کے لئے گہری دلی ہمدردی اور مسقبل میں جھانکنے والی نظر بھی۔

نا انصافی کے خلاف نعرہ زن ہونے کے ساتھ آسودہ کار ماحول کو خیر آباد بھی کہناپڑتا ہے۔ اپنے قول نبھانا پڑتے ہیں جس کا شکوہ دوسروں سے کیا جاتاہے۔ اس تعصب سے خود بھی بچناپڑتا ہے۔ خود انحصاری کا مرحلہ اہم سہی لیکن اس سے آگے انحصارِباہمی کے نکتہ کو بھی سمجھنا پڑے ممکن ہے نظام کے ڈھانچوں کی سختی اورحاکمانہ مزاج کی کرختی افراد کو اپنی جکڑ میں زیادہ لیتی اور اس کے تابع کم ہو۔

پاکستان میں عورتوں کے حقوق کا احترم۔ مثکل کیا ہے؟

ایک عرصے سے ہر سال فروری کے ماہ میں یہ بحث ہوتی ہے کہ ویلنٹائین ڈے منایا جائے یا نہیں۔ بسنت ہو یا نہ ہو۔ پاکستانی عورتوں نے 12 فروری کو ضیا الحق کے دور میں عورتوں کے مخالف قوانین اور سرکاری تشدد کے خلاف مزاحمت کے نام مخصوص کررکھاہے۔ دو سال بیشتر عاصمہ جہانگیر کا انتقال 11 فروری کو ہوا جس کے باعث گومگوکی کیفیت رہی کہ 12 فروری یعنی پاکستانی یوم خواتین کوکیسے منایا جائے۔

زندگیوں کو پتنگ بازی کے کسی حادثے سے بچانا توضروری ہے لیکن کئی سالوں سے بلخصوص پنجاب حکومت کے عدالتی فیصلوں کو جواز بنا کر بسنت منانے پر مکمل پابندی عائدکر رکھی ہے۔ ویلٹاین ڈے پر پابندی کے بعد عوامی زندگی سے اس دن کا اخراج بھی ہو چکا ہے۔ ثقافتی اظہار کی مندرجہ بالا علامتوں اور عورتوں کے حقوق کی جد و جہد کے سنگ میل کچھ حلقوں کو پریشان کرتے ہیں

عورتوں کے عالمی دن ہرگزشتہ سال کی طرح آٹھ مارچ کو 2020 ء میں بھی عورت مارچ کی کال دی گئی تو اس کے خلاف اعتراضات آنا شروع ہو گئے۔ 2020 ء میں ایک بارپھر لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہو ئی کہ عورت مارچ پر پابندی لگائی جائے۔ درخواست گزار کا اعتراض یہ تھاکہ عورت مارچ سے ثقافتی اور مذہبی اقدار کی پامالی ہوتی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے آبزرویشن دے دی ہے کہ پابندی نہیں لگے گی۔ لیکن مختلف گروہ دھمکیاں دیتے، اوراس پریوم حیاکا آوازہ کستے ہیں بے حیائی، فحاشی کے الزامات لگا کرمارچ کے منتظمین کی کردار کشی اور منفی پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ عورتوں کے حقوق قانون اور مذہب میں دیے گئے ہیں مزید کسی حق کی کیا ضرورت ہے۔

یہ موقف سماج میں مروج صنفی امتیاز کی حقیقت کو یکسر نظر انداز کرتا اور اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی ضرورت قطعاً ً محسوس نہیں کرتا کہ عورتوں کے مساوی حقوق کے اصول اور اقدار کا تسلیم ہونے کے بعد مساوات کا عملا ٌنافذہونابھی ضروری ہوتا ہے اس لئے ا نتظامی اقدامات کاسماجی رواج میں ڈھلنا ضروری ہے۔

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ بچیوں اور عورتوں کے خلاف تشدد، جنسی زیادتی کے واقعات تواتر ہوتے آرہے ہیں۔ اگر ہم اس صورت حال کو عوامی سطح پر زیر بحث لانے میں کامیاب نہ ہوئے تواس رویے کے خلاف عوامی رائے کی بیداری اور ایک فعال حمایت کہاں سے آئے گی؟ ناقدین ان مشکلات کاجواب یہ دیتے ہیں کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دیگر ممالک میں بھی ہوتی ہیں جو بہت ہی نہ مناسب دلیل ہے۔ اس کا مطلب تویہ ہوا کہ جب تک دیگر معاشروں کے حالات اچھے نہ ہوں تب تک پاکستان میں بھی ترقی کرنے کا کوئی جتن نہیں ہونا چاہیے۔

ہمیں اس با ت کا احساس کر لینا چاہیے کہ پاکستان ان معاشروں میں شامل ہے جہاں عورتوں کے خلاف جرائم کی شرح زیادہ اور نوعیت سنگین ہے۔ مثلا ٌ موجود اعداد و شمار کے مطابق 2015 ء انسانی سمگلنگ کا شکار ہونے والے 14 ہزار افراد میں 12 ہزار عورتیں تھیں۔ عورت مارچ کے مطالبات کیا ہیں؟ یہی کہ عورتیں جب زندگی کے میدانوں میں آگے بڑہیں تو انہیں ہراساں نہ کیا جائے۔ سماج جرائم اور خوف سے پاک ماحول قائم کرے تاکہ بچیاں اور عورتیں بلکہ ہر کوئی پیداواری سرگرمیوں میں بلا خوف حصہ لے سکے۔

اپواسے لے کر ویمن ایکشن فورم سیاسی نمائندگی سے ترقیات اور زندگی کے پیشتر شعبہ جات میں محنت اور بُردباری سے اپنا مقام بنانے والی عورتوں تک پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی تحریک ایک سنجیدہ اور با معنی جدوجہد سے عبارت ہے۔ اس جدوجہد میں محض عورتیں نہیں مرد بھی شامل ہیں۔ جنہیں یہ ادراک ہے کہ مرد حاوی نظام جیسے تیسے بن گیا مگر اس سے چھٹکارا ہر صنف اور ہرکس کے لیے مفید ہے۔ ایسے معیار، قوانین یارواج جو کسی بھی لحاظ سے انسانوں میں اونچ نیچ پیدا کریں۔ اگروہ انسانوں کی انفرادی واجتماعی فلاح کے حق میں نہیں۔ تو پھر وہ ایک ہی صنف کے لئے مفید کیسے ہوں گے؟

اگلے دس بر سوں میں یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ جب دنیا میں ترقی پذیر اور تر قی یافتہ تما م ممالک میں عورتوں کی نمائندگی میں اتنا اضافہ ہو چکا ہو گا کہ وہ فیصلہ سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہو نگی تو ماحولیاتی/موسمیاتی تبدیلیو ں کے با عث معیشت اور حکمرانی کے بہت سے بحران بھی پیدا ہو چکے ہو ں گے۔ بیماریوں، قحط اور قدرتی آفات سے دنیا کی آبادی کم اور ہجرت زیادہ ہو سکتی ہے۔ وسائل کی تقسیم وترسیل کے نئے مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی انسانی سماج جن تبدیلیوں سے گزر رہا ہے ان میں اہم تبدیلی عوامی/ معاشرتی زندگی اور پیداواری نظام میں عورتوں کی بڑھتی ہوئی شراکت ہے۔ اختیار اور اقتدار کے ڈھانچوں میں یہ تبدیلی نئے تصورِحیات یا پہلے سے موجود آفاقی اور اقدار کی پاس داری کے بغیر صحت مند طریقے سے آگے نہیں بڑھ پائے گی۔ تاریخ میں انسانوں کے درمیان صنف، علاقہ، مذہب اور نسل وغیرہ کی بنیاد پر پائی جا نے والے امتیازات اور تعصبات ماضی کی سیاسی ضرورتوں کے تحت تشکیل دیے گئے تھے۔

پیداواری رشتے بدلے تو اقدار اور تصورِحیات کی تبدیلی بھی ضروری ہوگئی۔ 7 ارب سے زائد انسانوں کی دنیاجو ماحول کی تباہی، بھوک، بیماری اور جنگوں جیسے چیلنجزسے دوچار ہے اس میں ہر فرد کی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے بغیر۔ اُسے اُس کا جائز مقام دیے بغیر۔ تمدنی آہنگ میں نہیں رکھاجا سکتا۔ مساوی حقوق کے لاگو ہونے سے محض آزادیاں نہیں ذمہ داریاں بھی آتی ہیں۔ جو لوگ ان ذمہ داریوں کا ادراک رکھتے ہیں، آئندہ سماج کے خدو خال بھی وہی لوگ تشکیل دیں گے۔ قرائن یہ بتاتے ہیں کہ کوئی ثقافتی جبر صنفی مساوات اور صنفی انصاف کے لئے جاری جدوجہد کا راستہ نہیں روک پائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *