وبا کے موسم میں ایران کی کچھ جھلکیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

28 فروری۔ دن بے کیفی میں گذر رہے ہیں۔ اب ہم کم کم باہر جاتے ہیں کل ملیحہ {نند} کی طرف گئے۔ دن ادھر ہی گذارا۔ ٹریفیک کم تھی۔ سڑکوں پر لوگ بھی کم تھے۔ اکثر ماسک لگائے ہوئے ہیں۔ شہر سائیں سایئں کر رہا تھا۔

 جمعہ کا دن ہوٹل کے کمرے میں گذرا۔ کمرا 6 مارچ تک ریزرو تھا۔ صبح مزید چار دن یعنی 10 مارچ تک کے لیئے بک کیا۔ ہوٹل خالی خالی سا ہے۔ صبح ناشتے کے وقت ڈایئنینگ ہال میں کافی لوگ نظر آتے تھے، اب کم ہیں۔ ۔ ہوٹل میں ایک بڑی تعداد روسی مہمانوں کی تھی۔ آج صبح ایک بس آئی اور ان سب کو سوار کر کے لے گئی۔ غالبا ایروفلوٹ کی پرواز اڑ رہی ہے۔ برازیل سے ایک گروب آیا ہوا تھا۔ وہ لوگ شیراز تک گھوم آئے تھے اور وہاں کی بہت تعریف کر رہے تھے۔ میرا دل جل کر رہ گیا۔ کل ملے تو بتایا کہ وہ لوگ آج کی کسی فلایئٹ سے واپس جا رہے ہیں۔ اور بھی رشک آیا۔ شام کو وہ سب ایر پورٹ سے ناکام واپس آ گئے۔ پرواز کینسل ہو چکی تھی۔ کچھ مہمان عرب اور کچھ ترک، تاجک اور آذربائیجانی تھے۔ اکثر کی واپسی ہو چکی ہے۔ کچھ ہماری طرح محصور ہیں اور واپسی کے لیئے ٹکٹس کی جستجو میں ہیں۔ کچھ نوجوان لڑکیاں دوسرے شہروں سے آئی تھیں اپنے ناک کے آپریشن کروانے۔ ناک پر بندھی پٹیوں سے اندازہ ہو گیا تھا۔ وہ بھی واپس جا چکی ہیں۔ ۔ ہمارا ہوٹل کشاورز بولیوارڈ پر واقع ہے جو ایک مصروف شاہراہ ہے۔ آج یہاں چہل پہل نہیں ہے

ہوٹل سے باہر جاتے ہوئے دربان اینٹی سیپٹک کا اسپرے لیئے کھڑا ہے اور سب کے ہاتھوں پر چھڑکتا ہے۔ واپسی پر ایک اور ہے جو کورونا ٹسٹ کرنے والا آلہ لیئے سب کی ماتھوں پر رکھ کر ٹیمپریچر چیک کرتا ہے۔ ہر بار باہر سے واپس آ کر اطمینان ہو جاتا ہے کہ کورونا فری ہیں۔ بقول جون ایلیا ۔

آج کا دن بھی عیش سے گذرا

سر سے پا تک بدن سلامت ہے

ملیحہ اور میں

تمام اسکول، کالج اور یونیورسٹیز بند ہو چکی ہیں۔ ماسک، اینٹی بیکٹیریا اسپرے اور سرجیکل گلوز نہیں مل رہے یا بیچنے والے انتہائی اونچی قیمت مانگ رہے ہیں۔ ہوٹل کا عملہ بھی اب ماسک لگائے دستانے پہنے ہوا ہے۔ ٹی وی پر سارا دن کورونا پر گفتگو ہو رہی ہے۔ حفاظتی تدابیر بتائی جا رہی ہیں۔ دیکھ دیکھ کر اب دل بھر گیا ہے۔ تفریح کی کوئی صورت نہیں نہ فیس بک ہے نہ یوٹیوب۔ نہ بی بی سی ہے نہ سی این این۔ میں اور پرویز ایک دوسرے کی صورتیں دیکھ دیکھ کر اکتا چکے ہیں۔ سارے پرانے لطیفے ایک دوسرے کو سنا چکے ہیں۔ پھر نیا کچھ ڈھونڈنے کے لیئے انٹر نیٹ کھنگالتے ہیں۔ پرویز نے بوریت مٹانے کے لیئے گانے گائے میں نے میز بجا کر طبلے پر سنگت کی۔ جلد ہی اس سے بھی اکتا گئے۔ میں نے پھر لکھنا شروع کر دیا۔ پرویز کھڑکی سے باہر پھیلی ہوئی تاریکی اور اداسی کو دیکھ افسوس سے سر ہلا رہے ہیں۔ پھر اپنے لیپ ٹاپ پر تازہ خبروں کی تلاش کی۔ ساری خبریں کورونا کی ہیں۔ اور کچھ بے مقصد جنگیں جو جانے کون کس کے خلاف کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے؟

شام ڈھل رہی ہے۔ ہم پرویز کے فون پر ڈیمس روسس کے پرانے گانے سن رہے ہیں۔ فکر ہمیں اپنی دوایئوں کی ہے جو ہم اپنے ایران میں قیام کے حساب سے لائے ہیں۔ دو چار اضافی ہیں۔ لیکن اگر غیر معینہ مدت تک یہاں رکنا پڑا تو کیا ہوگا۔ ہماری بہو جو ڈاکٹر ہے فون پر کہہ رہی ہے کہ ہم کسی مستند ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور اسے دواوں کے نام بتایں۔ وہ لکھ دے تو میڈیکل اسٹور سے جا کر خرید لیں۔ ہماری اپنی ڈاکٹر کا بھی ناروے سے پیغام آیا کہ جو کچھ اس کے بس میں ہوگا وہ کرے گی۔

29 فروری۔ آج خروجی کی ادایئگی کے لیئے گئے۔ خروجی ایک طرح کا ٹیکس ہے جو ایران سے جانے والے ایرانیوں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ ہم ڈیول نیشنیلیٹی رکھتے ہیں۔ نارویجین اور ایرانی اس لیئے اس کا اطلاق ہم پر ہوتا ہے۔ بنک کیش نہیں لے رہا۔ ویزا کارڈ اور ماسٹر کارڈ یہاں نہیں چلتا۔ ہمارا یہاں بنک اکاونٹ نہیں ہے اس لیئے کارڈ بھی نہیں ہے۔ ملیحہ سے کہا کہ وہ اپنے کارڈ سے ادایئگی کر دے ہم اسے رقم دے دیں ۔ پتہ لگا کہ کوئی اور کسی کے لیئے یہ ٹیکس ادا نہیں کرسکتا۔ اب کیا کریں؟ ایک اور دریا کا سامنا۔ معلومات کیں تو کہا گیا کہ جاتے ہوئے ایرپورٹ پر ادا کردیں وہاں کیش سے ادایئگی ہو سکتی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔

باقی کل پرسوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *