عورت مارچ کی سمت؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’عورت مارچ ”کے حوالے سے متعدد طبقات میں مباحث عروج پر ہیں۔ “ عورت مارچ ”کا مقصد خواتین کے حقوق حاصل کرنا بتایا جاتا ہے۔ جس میں خواتین اپنے بنیادی مسائل کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے لئے بینرز و پلے کارڈ کا استعمال کرتی ہیں۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ“ عورت مارچ ”میں بعض خواتین کی جانب سے کچھ پلے کارڈز کی تحریر انتہائی نازیبا و متنازع سمجھی جاتی ہے، جس سے اظہار رائے کی آزادی کو غلط پیرائے میں استعمال کرنا گردانا جاتا ہے۔

لیکن اس موقف کے جواب میں مخصوص طبقے کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی خواتین دفاع بھی کرتی ہیں اور ان متنازع پوسٹرز پر دلائل بھی دیتی ہیں، لیکن ان مباحثوں میں اب عدم برداشت کا رجحان زیادہ دکھائی دینے لگا ہے۔ ایک دو جملوں کے بعد سلسلہ نازیبا و نفرت انگیزی مکالمات تک پہنچ جاتا ہے اور فریقین کی اس تلخ نوائی سے پورا ماحول پرگنداہ ہوجاتا ہے۔

”عورت مارچ“ کے منتظمین کی جانب سے اس بار ایک ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے، جس میں شرکا ء کو ہدایات دی گئی ہیں کہ ”برائے مہربانی اپنے پوسٹرز اور اشتہارات پر اسی تصاویر اور زبان (الفاظ) سے گریز کریں جو کسی مذہبی، نسلی، قومی، صنفی یا جنسی شناخت کے استعمال کی جانب امتیاز کریں“، منتظمین نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”ہم تشدد اور نفرتی کلام کو بھڑکانے یا فروغ دینے والے پیغامات کو ہرگز نظر انداز نہیں کریں گے“۔

”عورت مارچ“ کے منتظمین کی جانب سے اس قسم کے ہدایات نامہ جاری کرنازمینی حقائق بھی ہیں کہ ”عورت مارچ“ میں بعض عناصر ایسی تقاریب کا غلط استعمال بھی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ”عورت مارچ“ کے منتظمین کو خود جائزہ لے کر ایسے پوسٹرز کو آویزاں کرنے کی اجازت دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ اسے پوسٹرز کے اخلاقی معیار کا جائزہ خود ”عورت مارچ“ کے شرکا ء کو لینے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے اگر ”عورت مارچ“ کے منتظمین خود فیصلہ کریں تو زیادہ مناسب ہوگا۔

اس پر کوئی دورائے نہیں کہ بنیادی حقوق کے حصول کے لئے کسی بھی طبقے کو احتجاج، جلسے جلوس کا حق حاصل ہے، اب یہ شرکا پر منحصر ہے کہ وہ کس انداز میں اپنا پیغام رائے عامہ کو ہموار کرنے کے پھیلاتے ہیں۔ عوامی رائے عامہ یا ارباب اختیار تک اپنی آواز پہنچانے کے لئے جس قسم کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے اس کا ردعمل بھی ویسا ہی ملتا ہے۔ اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھنے والے، اس اَمر کو بھی یقینی بنائیں کہ ان کے موقف سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے، لہذا کسی قسم کی اشتعال انگیزی کے بجائے تحمل و برداشت کا مظاہرہ کیا جائے تو رواداری کی فضا قائم رکھنے کے لئے اہم ہوگا۔

کسی ایشو پر متفق ہونا، بہت مشکل ہوتا ہے، دیکھا گیا ہے کہ بڑے بڑے اہم معاملات میں بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے، ذرائع ابلاغ ایسے کس انداز میں پیش کرتے ہیں، یہاں ان کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ سیاسی جلسے جلوسوں براہ راست دکھائے جاتے ہیں، پریس کانفرنس بھی براہ راست دکھائی جاتی ہیں، ٹاک شوز میں بھی مباحثے ہوتے ہیں، اس لئے ”عورت مارچ“ کے حوالے سے ذرائع ابلاغ بھی اپنا مثبت کردار پیش کریں تو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے، تاہم جہاں یہ محسوس کیا جائے کہ اس سے انتشار پھیلے گا اور یہ معاشرے کے لئے مثبت نہیں ہے تو ایسے نمایاں کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔

”عورت مارچ“ ایک دن کا ایونٹ ہوتا ہے، پورے سال انواع و اقسام کے تقاریب چلتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتوں کے جلسے جلوس اور رہنماؤں کے تند وتیز بیانات ہر گزرتے دن کے ساتھ آتے و جاتے رہتے ہیں، اس لئے اگر ایک دن ”عورت مارچ“ کا بھی مختص کرلیا گیا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تاہم اس اَمر سے خود تقاریب کے منتظمین کو ردعمل کا سامنا ہوسکتا ہے جو مخصوص عناصر کی جانب سے نفرت انگیز و ایسے ذومعنی اشتہارات کی تشہر سے اٹھتے ہیں اور ”عورت مارچ“ منعقد کرنے کا پورا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں 51 فیصد خواتین کی آبادی ہے، ”عورت مارچ“ میں کون، کس طبقے کی نمائندگی کررہا ہے اس کا اندازہ با آسانی لگایا جاسکتا ہے۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ دیکھا جائے کہ مطالبات کا تعلق تمام طبقوں کی یکساں نمائندگی بھی کرتا ہے یا نہیں۔ چونکہ موجودہ معاشرے میں خواتین کی آزادی کا وہ تصور موجود نہیں ہے جو مغرب میں پایا جاتا ہے، اس لئے معاشرتی اقدار کے روایات کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ مغرب و مشرقی اقدار میں نمایاں فرق ہونے کے علاوہ مذہبی اقدار کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے، تعلیم کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ اُن ماہرین سے حاصل کی جائے جو تعلیم کے مختلف شعبوں پر مکمل دسترس رکھتے ہوں۔ خود سے کسی بھی موضوع یا شعبے پر رائے قائم کرلینا اور اُس پربضدرہنا کہ وہی درست ہے، تو ایسا رویہ اجتہاد کی راہ روکتا ہے اور معاشرے میں ناہمواری کا باعث بنتا ہے۔

”عورت مارچ“ کے مقاصدکیا ہیں اور ارباب اختیار کو جائز مطالبات کے لئے کن اقدامات کی ضرورت ہے، اس حوالے سے آگاہی کے لئے مناسب زباں و بیاں کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔ صرف ”عورت مارچ“ ہی نہیں، بلکہ ہر شعبہ حیات میں اظہار رائے میں غیر مناسب رویوں پر تنقید و توصیف بھی کی جانا ضروری ہے، اس سے جمود کا خاتمہ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اُن مسائل پر بات نہیں کی جاتی، جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے، بلکہ اُن چھوٹے چھوٹے ایشوز کو بڑا بنا کر پیش کیے جانا وتیرہ بنتا جارہا ہے جس کی معاشرے کو ضرورت نہیں۔ لیکن اس کا فیصلہ کرنا بھی کسی فرد واحد یا مخصوص طبقے کے اجارہ داری نہیں بننا چاہیے کہ جو وہ مانتے ہیں، معاشرے کے دوسرے افراد بھی تسلیم کریں، کسی ایشو پر تنقید کرنے والوں کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اُن پر بھی تنقید کی جاسکتی ہے۔

عدم برداشت کئی معاملات میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں، اس لئے سب سے پہلے برداشت کو اپنانے کی ضرورت کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ ”عورت مارچ“ کے منتظمین و شرکا ء اس اَمر کو یقینی بنائیں کہ اُن کی تقاریب کا مقصد خواتین کے مسائل کی نشان دہی ہے۔ اگر ان تقاریب میں مخصوص عناصر متنازع اشتہارات نمایاں کریں گے تو اس سے مثبت پیغام جانے کے بجائے اعتراضات کا سلسلہ بھی دراز ہوتا جائے گا، منتظمین نے جو ہدایت نامہ جاری کیا ہے، وہ احسن اقدام ہے، توقع کی جائے کہ ”عورت مارچ“ کے شرکا خود ان ہدایات پر عمل پیرا ہوں گے اور اپنے مسائل کے حل کے لئے کوشش یا سازش کے فرق کو جدا کریں گے۔ ”عورت مارچ“ کے شرکا اختلاف رائے کو سامنے رکھتے ہوئے خود فیصلہ کریں کہ ان کے مقاصد کی سمت درست ہے یانہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *