” دو ٹکے کی“ مرضیوں ”کا تصادم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے سماج میں روز بروز اختلافات کا زہر تیزی سے پھیلتا جارہا ہے۔ ہر گروہ، ہر طبقہ اوراب تو ہر فرد اپنی اپنی مرضی سے زندگیوں میں رنگ بھرنے پہ تُلا ہے۔ ہر گھر تک شناخت کا بحران پنجے گاڑ چکا ہے جس سے سماجی، سیاسی، مسلکی اور خاندانی ادارے تقسیم در تقسیم ہوتے جارہے ہیں۔ بڑا المیہ ہوا کہ اب مقدس رشتے بھی باہم دست وگریباں ہونے لگے ہیں۔ جگہ جگہ رانگ نمبرز کا ظہورہے۔ کبھی تہذیبوں کے تصادم کا چرچا تھا۔ پھر مذاہب، مسالک اور سیاست کی بنیادوں پر انسانیت کو تقسیم کیا گیا۔

اب اصناف کا تصادم سر اُٹھا رہا ہے۔ عورت مردوں اور مرد عورتوں کے خلاف عَلمِ بغاوت تھامے دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ مرد باپ، بیٹا، بھائی اورشوہر ہے تو عورت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہے۔ یہ حقوق، شناخت، رشتوں اوراصناف کے بحران کی وحشت ہمیں نہ جانے کس دوزخ میں جھونکنے جا رہی ہے۔ دین میں ہر صنف کے حقوق و فرائض متعین ہیں تو پھر جھگڑا کس کا؟ بحثیت انسان مردو زن برابر ہیں البتہ انتظامی امور میں مرد کو قدرے فضیلت حاصل ہے مگر اسی قدر فرائض بھی کندھوں پہ زیادہ ہیں۔

وہ بیوی بچوں کی جملہ ضروریات کا ذمہ دار ہے۔ گر پورا نہ اترے تو اس فضیلت کا حقدار بھی نہیں ہے۔ صرف عورت سے ہی مرد کو تمام خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کرنے کا تقاضا کیوں کیا جاتا ہے؟ ۔ مردوں سے بھی یہی مطالبہ کیا جائے۔ بہنوں بیٹیوں کے گھروں سے رسماً پانی نہ پینے والے ان کو ان کے قانونی و شرعی حصوں سے محروم کیوں رکھتے ہیں؟ رہی بات باہمی حقوق اور رویوں کی تو کوئی عاقل و باشعور مر د، عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنے جیسے خرافات کی حمایت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

اسی طرح حیا ء اور عفت کا پیکر ہونے کے باعث عورت بھی سڑکوں پر آنے کا تصور نہیں کرسکتی۔ یہ ماننا ہوگا کہ خاندان کے ادارے کو مضبوط کرنے میں مرد کی نسبت عورت کا کردار کہیں زیادہ ہے۔ کچھ مردوں اور چندعورتوں کے بُرے رویوں کو رائے قائم کرنے کے مآخذہرگز نہ سمجھا جائے۔ اگر حفظِ فروج، حفظِ مراتب اور اوامر و نواہی جیسے سنہری اصولوں کی پاسداری کی جائے تویہ دل گداز نوبت کبھی نہ آئے۔ دین ہمیں تمام معاملات میں باہمی رضا مندی اور معاملہ فہمی کی تاکید کرتا ہے۔

اگر ایسے ہی خلطِ مبحث چلتے رہے تو کسی کی اپنے جسم پہ مرضی ہوگی تو کوئی میری زبان میری مرضی کا نعرہ لگائے گا۔ پھر بہت سی مارویوں کو بے راہ رویوں کا شکار ہونا پڑے گا جبکہ خلیل میاں حسبِ عادت فاختائیں اُڑاتے پائے جائیں گے۔ میرا ہاتھ میری مرضی، میری سوچ میری مرضی، میرا گھر میری مرضی، میری زندگی میری مرضی اور میرا عہدہ میری مرضی کی صدائیں فضا کو مکدر کریں گی۔ یوں اپنی اپنی ”دو ٹکے“ کی مرضیوں کا تصادم معاشرے کو جہنم بنانے کی راہ ہموار کرتا چلے گا۔ اور پھر معاشرہ، خاندان اور مذہب دور کسی کونے میں بیٹھے روتے نظر آئیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *