رکنِ اسمبلی مولانا معاویہ کی خدمت میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف عالم دین، مولانا معاویہ نے فرمایا کہ جہانِ خالق نے اپنی مرضی سے انسانی جسم کو اعضا، رشتے، تقدیر، ماحول اور حالات عطا کیے ہیں۔ اگر مرضی چلانی ہے تو خود کو مرد بنا لیں۔ انہوں نے شفقت بھرے انداز میں فرمایا کہ ”میری بہن اپنے جسم اور کسی بیرونی ایجنڈے کی مرضی کو اپنے اوپر نافذ نہ کریں“

مولانا صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ اللہ کی مرضی سے عطا کیے گئے اعضا سے انسان نے اپنی مرضی سے خیر و شر کے کتنے کام کیے ہیں، وہ جا نتے ہی ہوں گے۔ قبل از اسلام دنیائے عرب دوسرے خطوں کے برعکس جہالت کی انتہاؤں پر تھی۔ نبی کے انقلابی پیغام اور مدینے پر حاکمیت کے بعد حالات میں کافی عرصے تک مثبت تبدیلی نظرآئی۔ آپ ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں لوگوں کو نسلی امتیاز، عورتوں، کنیزوں، غلاموں پر اپنی مرضی سے ظلم کرنے سے منع فرمایا۔

اسی طرح دنیا کے بیشتر ممالک میں نسلی امتیاز اور با اختیاری کے زعم میں کمزور اور بے اختیار طبقے پر ظلم و ستم جاری تھا۔ پھر اپنی مرضی اور اپنے حوصلے سے ظلم اور نسلی امتیاز کے خلاف آواز بلند کی گئی۔ واقعہ کربلا میں یزیدی فوج کی مرضی کے ظلم اور بے بسی کی انتہاؤں پر بے بس قیدیوں اور بی بی زینبؑ کی للکار سے کون واقف نہیں۔ نیلسن منڈیلا، مارٹن لوتھر کنگ کی اپنی مرضی کی مثالی جدو جہد بھی تاریخ کا حصہ ہے۔

برصغیر میں مسلمان حکمرانوں نے اپنی مرضی سے عیش و عشرت اور ظلم کی ایک تاریخ رقم کی، جس کے نتیجے میں ہزار برس کی حکمرانی دوسروں کی مرضی سے ہاتھ سے گئی۔ تب غوغا اٹھا کہ انگریز اپنی مرضی چلا رہا ہے۔ سر سید احمد خان نے اپنی مرضی کی حکمت عملی سے دو قومی نظریے کا احساس اجاگر کرتے ہوئے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف ابھارا۔ یہ مرضی چند علماء کو پسند نہ آئی تو مکے جا کراپنی مرضی سے ان پر کفر کا فتویٰ لکھوا لائے۔

علامہ اقبال کی مرضی کی نظمیں، قائدِ اعظم کی مرضی کی مدبرانہ سیاست اور تحریک پاکستان کے کارکنوں کے مرضی کے جوش و جذبے نے ایک علیحدہ ملک کے قیام کو ممکن بنایا۔ تب جماعت اسلامی نے اپنی مرضی سے ہندوستان کی تقسیم کے فیصلے کو مسترد کیا۔

پاکستان کے قیام کے چند سالوں بعد بنگالیوں کے ساتھ اپنی مرضی کی نا انصافی کے نتیجے میں ان کی مرضی سے پاکستان بھی تقسیم ہو گیا۔ اس تقسیم میں بنگال کی مسلمان خواتین کے ساتھ اپنی مرضی کی طاقت سے جو سلوک کیا گیا اس سے بھی سب واقف ہیں۔

اگر ایک عورت اپنے جسم پر اپنا اختیار مانگے تو مولانا معاویہ فرما دیں کہ عورت کے پاس ا س کا کچھ نہیں سب اللہ کا دیا ہے۔ حیوان صفت انسان چھوٹے بچوں، محرم رشتوں، چھوٹی بچیوں یا بے بس عورتوں کے ساتھ جسمانی ہوس پوری کرے تب بھی وہ اللہ ہی کی دی ہوئی اپنی چرب زبان اور مکار دماغ سے کام لیتے ہوئے اسے اپنی مرضی نہیں بلکہ شیطان کا بہکاوا قرار دیتا ہے۔ مولانا کے بقول خواتین، بیرونی ایجنڈے کی مرضی پر عمل کر رہی ہیں، اب مولانا صاحب بھی کیا کریں شیطان کی مرضی کے ایجنڈے پر عمل کرنے والوں کو نصیحت کیسے کریں کہ ملعون شیطان نظر نہیں آتا۔ لیکن شیطانوں کو للکارتی عورتیں پورے جسم سے نظر آتی ہیں۔
”میرا جسم میری مرضی“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply