میں عورت مارچ کی حمایت کیوں کرتا ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تھوڑی دیر کے لیے بھول جائیں خلیل الرحمن قمر  کو جو اپنے انداز گفتگو سے مجھے تھڑے پر بیٹھا ہوا بند دماغ والا اور نیم خواندہ شخص دکھائی دیتا ہے۔ اور بھول جائیں ماروی سرمد کو بھی کہ شدت پسندی اس میں بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ مجھے ان دونوں سے کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ ان دونوں نے دھول اڑانے اور گمراہی پھیلانے کا کام اپنے ذمے لے رکھا ہے۔

اب آئیں اصل معاملے کی جانب۔
اس مارچ کی حمایت یا مخالف سے پہلے ہمیں پدرشاہی سماج میں عورت کے مقام کا تعین کرنا ہوگا۔

عورت، جیسا کہ ایک معلوم شدہ حقیقت ہے، سماج کی تشکیل اور سماجی ارتقاء کے ہر موڑ میں اگر مرد سے چند قدم آگے نہیں تو اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتی آئی ہے۔ مجھے ٹھیک سے معلوم نہیں کہ فریڈرک اینگلز نے ”مادرسری سماج“ کا مفروضہ کن شواہد کی بنا پر قائم کیا تھا لیکن غیر تحریر شدہ تاریخ کے کسی نامعلوم دور میں میری محدود و مشکوک فہم کے مطابق کچھ قبائل اور کچھ بستیوں کے اندر اگر عورت کی بالا دستی نہیں تو مرد اور عورت کی مساوات ضرور موجود رہی ہوگی۔ (تاریخ کے تناظر میں اس سوال پر میں الگ سے معروضات پیش کروں گا۔ فی الوقت میں تاریخ کی سادہ ترین تعبیر کے ذریعے بات کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا)

اور پھر ایسے ادوار بھی آئے جب کسی جگہ قدر زائد یعنی اضافی پیداوار ہونا شروع ہوئی تو ارد گرد کے بھوکے اور وحشی گروہ اس قدر زائد پر اپنا قبضہ جمانے کے لیے اول الذکر پر حملہ آور ہوکر ان پر قابض ہونا شروع ہوگئے۔ اس کے بعد طاقت کا ایک لامتناہی چکر شروع ہوگیا جو دولت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی بدولت ابدی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔

طاقت کی بالادستی کے ساتھ ہی ہتھیار بدست صنف یعنی مرد نے بھی اپنی بالادستی قائم کرلی کیونکہ اس کے جسمانی مسلز زیادہ مضبوط تھے اور اس کا دل زیادہ سخت تھا یعنی وہ ”جہاد و قتال“ پر عورت کی نسبت زیادہ آسانی سے خود کو آمادہ کرسکتا تھا۔ تب فیصلہ ہوا کہ مرد باہر کے معاملات دیکھیں اور عورتیں جنگ و قتال کے ماحول میں ”چادر اور چاردیواری“ تک محدود ہوجائیں کیونکہ ایک جنگ زدہ ماحول میں جسمانی طور پر کمزور ہونے کے باعث وہ مردوں کی ذمہ داری قرار پاچکی تھیں۔

یہی وہ حالات رہے ہوں گے جنہوں نے عزت اور غیرت جیسے تصورات کو جنم دیا ہوگا۔ یوں عورت مرد کی جائیداد قرار پائی اسی طرح جیسے قبیلے کے دوسرے مویشی۔ البتہ افادیت کے فرق سے عورت کو زیادہ ”مفید مویشی“ قرار دیا جاسکتا ہے۔ مویشیوں سے ان کی افادیت کی بنا پر پیار تو کیا جاسکتا ہے لیکن انہیں حقوق نہیں دیے جاسکتے۔ طاقت کے اس کھیل میں عورت کا درجہ بھی انسان سے گھٹ کر نیم انسان رہ گیا تھا لہٰذا اس کے انسانی حقوق کا کیا سوال؟

یورپ میں عورت کو اپنے وجود کو تسلیم کرانے کے لیے طویل لڑائی لڑنا پڑی تھی۔ ایک طرف اسے کلیسا کی مہیب طاقت کا سامنا تھا اور دوسری طرف ارسٹوکریسی تھی اور یہ دونوں عورت کے وجود اس کی جنسیت سے الگ کرکے دیکھنے کی روادار نہ تھیں۔ بیسویں صدی تک مغربی عورت نے شدید جدوجہد کے بعد کسی نہ کسی حد تک حقوق کی جنگ جیت لی تھی۔ لیکن ریاست کے امور سے اس کی بے دخلی ہنوز باقی تھی۔ بیسویں صدی کی اولین دہائیوں میں مسز پینکہرسٹ کی قیادت میں بالائی اور متوسط طبقے کی عورتوں نے عورت کو ووٹ کے حق کی تحریک چلائی تو برطانیہ کے مردانہ سماج نے انہیں بھی اسی حیرت، خوف اور تحقیر کے ساتھ دیکھا جیسا آج ہماری ریاست اور اس کے ساتھ فکری سانجھ رکھنے والے مرد اور عورتیں ”عورت مارچ“ کو دیکھتے ہیں۔ برطانیہ میں عورتوں کی بیداری کی غالباً یہ اولین تحریک تھی جس نے فتح حاصل کرنے سے قبل بہت سا کشت و خون اور قید و بند دیکھی۔

اب آجائیں ہندوستانی سماج کی طرف۔ یہاں ہندو دھرم میں عورت کو عزت صرف ”ماتا اور دیدی“ کے روپ میں مل ہی سکتی تھی۔ ان رشتوں کو بھی حقوق کی بجائے صرف عزت اور تکریم پر ٹرخا دیا گیا۔ رہی عورت بحیثیت صنف کے تو اس کا حال آپ کو تاریخ بڑی صراحت کے ساتھ بتادے گی کہ ہندو سماج بیوہ کے ساتھ کیا سلوک کرتا تھا اور بیوی کے ساتھ کیا سلوک کرتا تھا۔ یہاں جنس ایک بھرشٹ کردینے والی اور دہشت زدہ کردینے والی چیز تھی جس کے نتیجے میں عورت کے ساتھ بھی ناپاکی کا تصور وابستہ ہوگیا کیونکہ اسے ماہواری بھی آتی تھی اور وہ بچے بھی جنتی تھی۔ ہندو دھرم جو شدھ اور نا شدھ اور پاکی اور ناپاکی کے تصورات کی بنیاد پر کھڑا ہے محکوم اور بے زمین طبقات ہوں یا عورتیں کسی بھی ایسی چیز یا انسانوں کے گروہ کا سماجی وجود برداشت کرنے پر آمادہ نہ تھا جسے کمزور ہونے کے باعث ناپاک ٹھہرایا جاسکتا تھا۔

اسلام نے عورتوں کو حقوق کس حد تک دیے اور کن شرائط پر دیے اور جو حقوق دیے ان پر عمل درآمد کی کیا صورت حال رہی، یہ الگ بحث ہے لیکن ہندوستانی مسلمان اپنے ہندو بھائیوں کے ساتھ عورت دشمنی کے جذبات کا سانجھے دار تھا۔ آپ شاہجہاں کے زمانے کی دلی یا شاہجہاں آباد اور پھر بعد کے زمانے کے اودھ کے گلی کوچوں میں موجود پردے کی غیر انسانی سخت گیری کا مطالعہ کرلیں آپ پر معاملہ خود واضح ہوجائے گا۔

کسی بھی دوسرے قبائلی یا جاگیرداری سماج کی طرح ہندوستانی سماج میں بھی عورت کو دیوی کی طرح پوجا تو جاسکتا تھا لیکن اسے برابر کا انسان تسلیم کرنے کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔ کئی ایسے لوگ ابھی تک موجود ہوں گے جنہوں نے اپنے بچپن میں اپنی ماں اور بہنوں کو رسوئی یا باورچی خانے میں چھپ کر کھانا کھاتے دیکھا ہوگا کیونکہ مرد کی کمائی میں سے خود اپنے اوپر خرچ کرنا کسی گرہستن کے لیے ایک ”شرمناک“ بات تھی۔ عورت جانور کی طرح گھریلو کاموں میں مصروف رہتی تھی لیکن وہ دو وقت کی روٹی بھی مرد کا احسان تسلیم کیے بغیر کھانے کی حق دار نہ تھی۔ اور پھر یہی وہ سماج ہے جہاں اٹھارویں صدی تک مرد کے مرنے پر عورت کو اس کے شوہر کی ارتھی کے ساتھ ہی جل مرنا پڑتا تھا۔ اسی میں اس کی پتی ورتا چھپی تھی۔ ہندوستانی مسلمانوں یا دوسرے مذاہب کے یہاں اگر ستی کی رسم نہیں تھی تو اور بہت کچھ ایسا تھا جو عورت کے انسان ہونے کی نفی تھا۔

اس سماج میں مذہب کے فرق سے بالا تر ہوکر دیکھیں تو عورت کے ساتھ ایک سا سلوک دکھائی دیتا ہے۔ وہ شوہر کے بچے تو اس کی مرضی کے مطابق پیدا کرسکتی ہے لیکن اس کی جائیداد میں حصے کی حقدار نہیں ہے، بھلے مذہب اور دھرم اجازت دے یا نہ دے۔ ہندوستان اور پاکستان میں عورت کے سوال کو تاریخ کی گہرائیوں میں جائے بغیر سمجھا ہی نہیں جاسکتا۔

یہاں جاگیرداری نے عورت کے ساتھ جو ظلم روا رکھا وہ ایک الگ موضوع ہے اور اس قدر ہولناک ہے کہ تصور کرکے ہی رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔

اب آجائیں اپنے موجودہ سماج کی طرف۔ اس سماج نے ”بی اے میں کئی بار فیل“ ہونے کے بعد انگریزی میں گٹ مٹ کرنا تو جیسے تیسے سیکھ ہی لیا ہے لیکن اس کی ذہنی پسماندگی آج بھی اتنی ہی شدت کے ساتھ موجود ہے جتنی سینکڑوں برس پہلے تھی۔ یہ سماج جو اپنی ساخت میں Tribo feudal ہے، اپنے زبانی دعوؤں کے باوجود یہ تسلیم کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہے کہ عورت کے حقوق شقوق تو خیر ایک طرف اسے برابر کی انسان بھی تسلیم کیا جاسکتا ہے۔

اگر کوئی ”تقدیس مشرق کی ثناخوانی“ پر مصر ہے تو وہ ایک نظر اپنے ارد گرد دیکھ لے۔
کیا اب بھی بیٹی کی پیدائش پر سوگ نہیں منایا جاتا؟
کیا اب بھی بیٹے کی حسرت میں سات سات بیٹیوں کی لائن نہیں لگائی جاتی؟
کیا اب بھی خاندانی کی عزت اور ناموس کی ذمہ داری کا بوجھ دس دس بارہ بارہ سال کی بچیوں کے نازک کندھوں پر نہیں ڈالا جاتا؟

کیا اب بھی بیٹی کے ساتھ تمام تر پیار کے باجود بیٹے کی پلیٹ میں گوشت کی زیادہ بوٹیاں نہیں ڈالی جاتی ہیں؟
کیا اب بھی باپ اور بھائی بچیوں کو سکول کالج چھوڑنے نہیں جاتے ہیں؟
کیا اب بھی بیٹیوں کی تعلیم میں بہانے بہانے سے رکاوٹیں کھڑی نہیں کی جاتی ہیں؟
کیا اب بھی مائیں اپنی بیٹی پر کڑی نگاہ نہیں رکھتی ہیں؟

کیا اب بھی گھٹن زدہ، تاریک مکانوں کے دریچوں سے گلی میں جھانکنے پر لڑکی کو بدچلن کا طعنہ برداشت نہیں کرنا پڑتا؟
کیا اب بھی عورت کو ”شمع خانہ“ جیسی گھٹیا جذباتی بلیک میلنگ کا نشانہ نہیں بنایا جاتا؟
کیا اب بھی کام پر جانے والی عورت کو مشکوک نگاہوں سے نہیں دیکھا جاتا؟
کیا اب بھی راہ چلتی عورت کے جسم میں گندی نظروں کے تیر نہیں اتارے جاتے؟

کیا اب بھی کبھی کھلے اور کبھی ملفوف انداز میں عورت کے دام کھرے نہیں کیے جاتے؟
کیا اب بھی مسجدوں اور مزاروں میں عورتوں کو داخلے کے حق سے محروم نہیں کیا جاتا؟
کیا اب بھی ماں کو دیوی لیکن بیوی کو پاؤں کی جوتی نہیں سمجھا جاتا؟
کیا اب بھی بیوی کو چاردیواری کے اندر ذہنی، جسمانی یا کسی بھی اور طرح کے تشدد کا سامنا نہیں کرنا پڑتا؟

کیا اب بھی میاں بیوی کے رشتے میں بیوی کی حیثیت جنسی کھلونے جیسی نہیں ہے جو اپنی مرضی اور اپنی خواہش کے برخلاف بھی مردانگی کا خراج ادا کرنے پر مجبور ہے؟
کیا اب بھی عورت کی معمولی سی لغزش بھی اسے زندگی کے حق سے محروم کرنے کا باعث نہیں بن جاتی جبکہ مرد بدکاری کی ہر حدود پھلانگنے پر بھی نظرانداز نہیں کردیا جاتا؟
کیا اب بھی عورت کو ریپ کا نشانہ بنانے پر خاموشی اختیار نہیں کی جاتی؟
کیا اب بھی ماروی سرمد کی ذات کی دھجیاں اڑانا باعث افتخار نہیں سمجھا جاتا اور گومل یونیورسٹی والے مولوی یا کسی بھی بدکردار مرد کے گھناؤنے پن کو بھلانے میں عافیت نہیں سمجھی جاتی؟

سوالات بہت ہیں، آپ بھی اگر دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں تو ایسے ہی کئی سوالات کے شتونگڑے آپ کے سامنے ناچنے لگیں گے۔ یہ تمام سوالات وہ نشتر ہیں جو اس بیمار اور نیم مردہ سماج میں گڑے ہوئے ہیں۔

جہاں تک تعلق ہے ”میرا جسم، میری مرضی“ کے نعرے کا تو اخلاق کے ٹھیکے دار اسے جنسی معنویت تک محدود کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟ وہ کیوں عورتوں کے حقوق کی حمایت کرنے والے مردوں کی طرح اسے عورت کی آزادی کے سلوگن کے طور پر نہیں دیکھتے؟

کیا عورت کے حق میں اٹھنے والی کسی بھی آواز میں اپنے باطن میں چھپی گندگی انڈیل کر وہ خود ثابت نہیں کررہے کہ بیمار ذہنیت کے لوگ عورت کی آزادی اور اس کے حقوق سے خوفزدہ ہیں؟

کیا وہ اس بات سے خوفزدہ نہیں ہیں کہ نصف سے زیادہ آبادی ان کے تسلط سے رہائی پاکر خود مختار، با اعتماد ہوکر خود سماج کو صحت مند اور طاقتور بنانے کی جانب قدم بڑھا چکی ہے، اس طرح وہ اب عورت کو مزید اپنی لاٹھی سے نہیں ہانک سکیں گے؟

کیا وہ عورت مارچ سے اسے لیے خوفزدہ تو نہیں ہیں کہ ایک ایسا سماج تشکیل پانے کو ہے جس میں انہیں اپنی بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ دینا پڑے گا؟ اس کی مرضی کا خیال رکھنا پڑے گا؟ اسے برابر کا انسان سمجھنا پڑے گا اور شاید اس کی قیادت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا؟

سماج کے یہ ٹھیکے دار اتنی آسانی سے یہ سب کیسے ہونے دیں گے۔ وہ شور تو مچائیں گے اور ان کے شور کی آواز اونچی بھی بہت ہوگی کیونکہ ریاست، اس کے ادارے، اس کی حکومتیں، اس کا میڈیا اور اس کے کاسہ لیس اندھیروں میں جینے کے عادی ہیں۔ ا نہیں خوف ہے کہ اگر اچانک انہیں روشنی میں آنا پڑا تو وہ اندھے بھی ہوسکتے ہیں۔

میں عورت مارچ کی درج بالا تمام وجوہات کی بنا پر حمایت کرتا ہوں۔ اگر کروڑوں چمگادڑیں اندھی ہوجائیں تو بھی مجھے قبول ہے کیونکہ میں مانتا ہوں کہ صرف سورج کی روشنی میں ہی فصلیں لہلہاتی ہیں اور دھرتی مسکراتی ہے۔

میں عورت مارچ کی حمایت کرتا ہوں کیونکہ میں اپنی زندگی میں اپنی دھرتی کو مسکراتے ہوئے دیکھنے کی حسرت میں مرے جارہا ہوں۔

اور ہاں، میں یہ اعلان بھی کرتا ہوں کہ میں عورت مارچ میں اپنی دونوں بیٹیوں سمیت شرکت کروں گا کیونکہ میں اپنی بیٹیوں کو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والی چمگادڑیں نہیں، آزاد اور خود مختار انسان کے طور پر دیکھنے کا خواہش مند ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *