جب ماں غضبناک ہوتی ہے

اے طاقت اور تکبر سے بھرے انسانو، سنو، میں تم سے مخاطب ہوں، تمہاری ماں، تمہاری مدر نیچر۔ تم پوچھتے ہو کہ میں نے کس جرم میں تمہیں گھروں میں بند کردیا؟ لو سنو اور عبرت پکڑو۔

تمہیں یاد ہیں وہ دن جب تم Hominid Family کا ایک بے بضاعت حصہ تھے اور افریقی جنگلوں میں ایک لاچارجانور کی زندگی بسر کیا کرتے تھے؟ اور جب تم اتنے بے بس تھے کہ دوسرے جانوروں کے لیے لقمہ تر سے زیادہ کچھ نہ تھے َ؟ یہ وہ دن تھے جب مجھے ایسے ساتھی کی ضرورت محسوس ہوئی جو زندگی کی نمو میں میرا ہاتھ بٹاتا، میری قوتوں میں میرا شریک ہوتا اور اس کرہ ارض پر رنگ بہار لانے میں میرا معاون ہوتا۔ تب میں نے اپنی تمام مخلوقات کے لیے نیچرل سلیکشن کا قانون نافذ کیا اور تمہاری پوشیدہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے تمہیں حیاتیاتی طور پر توانا کرنا شروع کردیا۔ شروع میں تم سیکھنے میں بہت خام اور سست تھے اور تمہارے لیے جنگل سے الگ اپنی شناخت کو پہچاننا مشکل ہورہا تھا۔ تب تم ایک بندر سے زیادہ نہ دکھتے تھے، گو ذرا چنچل اور پارہ صفت تھے لیکن میرے کسی کام کے نہ تھے۔ سو میں نے یہ کیا کہ تمہاری کمر کو سیدھا کیا اور تمہیں دو ٹانگوں پر چلنا سکھا دیا تاکہ تمہارا دماغ خون کے دباؤ سے آزاد ہوکر نشو و نما پاسکے اور تم اس قابل ہوسکو کہ خود کو اور اپنے ماحول کو پہچان سکو۔

Read more

میں عورت مارچ کی حمایت کیوں کرتا ہوں

تھوڑی دیر کے لیے بھول جائیں خلیل الرحمن قمر  کو جو اپنے انداز گفتگو سے مجھے تھڑے پر بیٹھا ہوا بند دماغ والا اور نیم خواندہ شخص دکھائی دیتا ہے۔ اور بھول جائیں ماروی سرمد کو بھی کہ شدت پسندی اس میں بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ مجھے ان دونوں سے کوئی دلچسپی…

Read more