سیکورٹی سٹیٹ، کرنیل اور ٹھیکیدار وغیرہ

آپ لوگوں میں سے جو کوئی بھی حالات حاضرہ سے باخبر رہنے کی عادت بد میں مبتلا ہے اسے ”لوٹ گیا، کھا گیا، بھاگ گیا، نہیں چھوڑیں گے، پیٹ پھاڑ دیں گے“ وغیرہ جیسی بڑھکوں سے گزرتے ہوئے اور وزیر نامہ کی دلدل میں سے پائنچے اٹھائے چلتے ہوئے بھولے سے میڈیائی درشن پا لینے میں کامیاب ہونے والی ایسی خبروں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جو کچھ دیر کو منہ کا ذائقہ خراب کر دیتی ہیں اور کچھ دیر کو آپ کے جذبہ ترحم کو ابھارتی ہوئی ”ہور سناؤ کی حال اے“ کی عافیت پر آکر دم توڑ دیتی ہیں۔ ان زہریلی، کٹیلی خبروں کا موضوع عوام نامی مخلوق ہوتی ہے کچھ اس طرح:

ریلوے کراسنگ پر پھاٹک نہ ہونے کے باعث بچوں کی سکول وین ٹرین سے ٹکرا گئی، اتنے بچے ہلاک ؛ فارم ہاؤس میں گائے گھس آنے پر وزیر مکرم کے محافظوں نے غریب کے گھر پر دھاوا بول دیا، بچوں سمیت سارا کنبہ حوالات میں بند ؛ نمبر دار کی شکایت پر تھانے میں پرائمری سکول ٹیچر کی چھترول ؛

Read more

ہم اور ہمارا کمفرٹ زون

ہمیں اپنے طور پر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرنا ہوگی کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان موجود ہیں وہ اپنے ارد گرد ”بستی نظام الدین اولیاء“ کیوں بسا لیتے ہیں اور کیوں ان کے لیے پسماندگی، غربت اور جہالت ایک کمفرٹ زون کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ بھی کہ یہ سلسلہ کہاں تک چلے گا؟

بستی نظام الدین اولیا پرانی دہلی میں مسلمانوں کی غالب اکثریت پر مشتمل علاقہ ہے جو ایک طرح سے ”گھیٹو“ اور ”سلم“ کا منظر پیش کرتا ہے۔ جس عظیم شخصیت سے یہ بستی منسوب ہے وہ برصغیر میں مذہبی تنگ نظری، جہالت اور ہر طرح کی پسماندگی کو مسترد کرکے ایسے روشن افق تراشتی رہی تھی جو انسانی ایکتا، سماجی ذمہ داری، انسانی مساوات اور روشن فکری سے عبارت تھے۔

Read more

جب ماں غضبناک ہوتی ہے

اے طاقت اور تکبر سے بھرے انسانو، سنو، میں تم سے مخاطب ہوں، تمہاری ماں، تمہاری مدر نیچر۔ تم پوچھتے ہو کہ میں نے کس جرم میں تمہیں گھروں میں بند کردیا؟ لو سنو اور عبرت پکڑو۔

تمہیں یاد ہیں وہ دن جب تم Hominid Family کا ایک بے بضاعت حصہ تھے اور افریقی جنگلوں میں ایک لاچارجانور کی زندگی بسر کیا کرتے تھے؟ اور جب تم اتنے بے بس تھے کہ دوسرے جانوروں کے لیے لقمہ تر سے زیادہ کچھ نہ تھے َ؟ یہ وہ دن تھے جب مجھے ایسے ساتھی کی ضرورت محسوس ہوئی جو زندگی کی نمو میں میرا ہاتھ بٹاتا، میری قوتوں میں میرا شریک ہوتا اور اس کرہ ارض پر رنگ بہار لانے میں میرا معاون ہوتا۔ تب میں نے اپنی تمام مخلوقات کے لیے نیچرل سلیکشن کا قانون نافذ کیا اور تمہاری پوشیدہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے تمہیں حیاتیاتی طور پر توانا کرنا شروع کردیا۔ شروع میں تم سیکھنے میں بہت خام اور سست تھے اور تمہارے لیے جنگل سے الگ اپنی شناخت کو پہچاننا مشکل ہورہا تھا۔ تب تم ایک بندر سے زیادہ نہ دکھتے تھے، گو ذرا چنچل اور پارہ صفت تھے لیکن میرے کسی کام کے نہ تھے۔ سو میں نے یہ کیا کہ تمہاری کمر کو سیدھا کیا اور تمہیں دو ٹانگوں پر چلنا سکھا دیا تاکہ تمہارا دماغ خون کے دباؤ سے آزاد ہوکر نشو و نما پاسکے اور تم اس قابل ہوسکو کہ خود کو اور اپنے ماحول کو پہچان سکو۔

Read more

میں عورت مارچ کی حمایت کیوں کرتا ہوں

تھوڑی دیر کے لیے بھول جائیں خلیل الرحمن قمر  کو جو اپنے انداز گفتگو سے مجھے تھڑے پر بیٹھا ہوا بند دماغ والا اور نیم خواندہ شخص دکھائی دیتا ہے۔ اور بھول جائیں ماروی سرمد کو بھی کہ شدت پسندی اس میں بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ مجھے ان دونوں سے کوئی دلچسپی…

Read more