سرکاری چوہے اور ہمارے قومی ادارے

میں نہیں جانتا کہ قیام پاکستان کے وقت کن لوگوں نے کب اور کہاں بیٹھ کر طے کیا تھا کہ نومولود ملک اور اس کے عوام کو علم، ادب اور فنون لطیفہ کی آزاد فضاؤں سے محفوظ رکھا جائے اور خالص تحقیق و تخلیق کی بجائے اس طفل نوخیز کے ہاتھ میں جعلی تھیوریوں اور جعلی فنون کے جھنجھنے دے دیے جائیں تاکہ خاکم بدہن عوام نام کا انبوہ کثیر سماجی و تاریخی شعور سے بہرہ ور ہو کر اپنے

Read more

پپو سائیں تتلیوں کے دیس روانہ ہو گیا

” پپو سائیں مر گیا ”اچھا؟ کون مر گیا؟“ ”پپو سائیں! ۔ آج صبح جگر کے کینسر میں جان کی بازی ہار گیا۔“ ”افوہ! ویری سوری! کون تھا وہ؟“ ”پپو سائیں! ؟ نام تو کچھ سنا سنا سا لگتا ہے۔“ ”ایں! کون تھا، کیا کرتا تھا؟“ ”خیر، ہو گا کوئی۔ لوگ مرنے کے لیے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ وہ بھی مر گیا تو کیا؟“ یہ وہ ممکنہ ردعمل ہے جو حس لطافت اور خود آگہی سے تہی معاشرے میں کسی

Read more

میں اور مشک پوری کی ملکہ۔ ایک مکالمہ

سوال: آپ کو یہ ناول لکھنے کا خیال کیسے سوجھا؟

مصنف: چند سال پہلے میں ایوبیہ نیشنل پارک گلیات کی حدود میں کامن لیپرڈ کے موضوع پر ایک ڈاکومینٹری کے سکرپٹ پر کام کر رہا تھا۔ اس دوران مجھے کامن لیپرڈ اور گلیات کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ اس سلسلے میں دو ایک بار مری سے پندرہ بیس میل کی مسافت پر گلیات بھی جانا ہوا۔ موضوع ایسا تھا جس نے میری ذات کی گہرائیوں میں ارتعاش پیدا کر دیا اور مجھے اپنے بچپن کے ساتھ جوڑ دیا۔ میں ابھی تیسری چوتھی کلاس میں ہوں گا کہ مجھے اردو ڈائجسٹ میں شکاریات کو پڑھنے کی لت لگ گئی تھی۔

Read more

تم بھی چل دیے ذوقی بھائی؟

تو تم بھی چل دیے ذوقی بھائی؟
بن پوچھے، بن بتائے!
ایسی بھی کیا جلدی تھی؟
بیٹھ رہتے کچھ روز اور،
تھوڑا اور تماشا دیکھ لیتے اس دنیائے ہست و بود کا۔
مانا کہ انسانی تماشے کی دید ذرا تکلیف دہ ہے،
بہت دل کڑا کرنا پڑتا ہے۔

Read more

کرن وقار: ریاستی ترجیحات کا ایک اور شکار

قتل صرف وہی نہیں ہوتاجسے آنکھوں سے دیکھ کر اور کانوں سے سن کر رپورٹ کیا جائے۔

دنیا بھر کے پینل کوڈ صرف اسی فعل کو قتل گردانتے ہیں جو ایک فرد دوسرے فرد پر یا چند افراد دوسرے چند افراد پر حملہ آور ہو کر سرانجام دیتے ہیں اور جس کے نتیجے میں کسی ایک یا ایک سے زیادہ جانوں کا اتلاف ہوتا ہے۔

قتل کی رائج تعبیرات جتنی محدود ہیں اتنی ہی سطحی بھی ہیں۔ دنیا بھر کے قانون دان جانتے ہیں کہ قتل صرف اس فعل تک محدود نہیں ہوتا جس کا ادراک ہم اپنے حواس کے ذریعے کرتے ہیں۔ اور جس کے اندر کسی فرد یا افراد کو نامزد کرنے کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ اس کے برعکس انسانی قتل کے مضمون کو سو رنگ سے باندھا جا سکتا ہے۔

Read more

جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں

میں ایک پاکستانی ہوں، ایک جذباتی پاکستانی اور اپنی اس شناخت کو تمام تر تحفظات کے ساتھ بسر و چشم تسلیم کرتا ہوں لیکن اس کے ساتھ ہی میں ایک پنجابی ہوں اور یہی میری اولین شناخت ہے کیونکہ پنجابیت کی قوت میرے تلوؤں تلے مٹی کے لمس کا احساس جگائے رکھتی ہے۔

میری پنجابی شناخت میرے لیے بہت سنجیدہ معاملہ ہے کہ یہ میری یہ شناخت مجھے بھلاپے کے عذاب کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اور اس کی وجہ سے شناخت کا کوئی بحران میرے شعور کو تہ و بالا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اسی شناخت کی مدد سے میں حب الوطنی کے غیر ارضی معیارات کو مسترد کر کے تاریخ کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑے رکھنے میں کامیاب رہتا ہوں۔

Read more

عزیز احمد کے ناول ’آگ‘ میں سلگتا ہوا کشمیر

ایک جہنم وہ ہے جو افلاطون کے بیان کردہ عالم امثال میں ہے اور جو ہمارے اجتماعی لاشعور سے منعکس ہوتا ہوا ہمارے شعوری تصورات میں مبہم طور پر موجود رہتا ہے۔ مختلف اقوام کی اساطیر سے لے کر الہامی کتب تک جابجا اس جہنم کا بیان نافرمانی کے مرتکب لوگوں کے لیے سامان عبرت کے طور پر موجود ہے۔ مغرب میں نشاۃ ثانیہ کے اریب قریب دانتے نے ”ڈیوائنا کامیڈیا“ میں اپنے پر بہار تخلیق کے زور پر اس

Read more

جوزف مسیح کی زندگی کا ایک دن

بے موسم کی بارش رات بھر سے ایک تار برس رہی تھی اور وہ دیر سے کھڑکی میں نصب آسمان کی وسعتوں میں دور کہیں بادلوں کے گرداب میں پھنسے ایک پرندے کی ناہموار پرواز پر نگاہیں جمائے بیٹھی تھی۔ جوزف چائے کی ٹرے لے کر آیا تو اس کا انہماک ٹوٹا۔ ”شاید کوئی کبوتر ہے بیچارہ، اپنی چھتری سے اڑا ہوگا کہ بارش میں پھنس گیا۔ “ اس نے عورت کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے رائے زنی کی۔

Read more

کمزور کا کیا زور، بھاگ جائے یا آنسو بہا لے

کچھ دیر کے لیے عظمیٰ خان اور ہما خان نامی دونوں بہنوں کو بھول جائیں اور کچھ دیر کے لیے اپنے ذوق چسکا بازی کو بھی اٹھا رکھیں۔ آئیں، اک ذرا ٹہلتے ہوئے غلامانہ سماج تک ہو آئیں۔

بہت دور کی بات نہیں، ابھی ڈیڑھ صدی پہلے تک ہاتھی، گھوڑے اور مویشیوں کی طرح غلام رکھنا بھی فیشن میں شامل تھا۔ جس کے پاس جتنے جانور اور جتنے غلام وہ اتنا ہی معزز اور صاحب ثروت۔ غلامی کا ادارہ اتنا ہی قدیم ہے جتنی قدیم طاقت ور اور کمزور کی جدلیاتی تقسیم ہے۔ وقت کے اس تمام تر پھیلاؤ کے درمیان کیسے کیسے انقلاب آئے۔ کیسے کیسے سرکشیدہ شاہان والا شان خاک برسر ہوئے اور کیسے کیسے خاک نشین مسند نشین ہوئے۔ اس دوران دنیا کا نقشہ بن بن کر بگڑا مگر ایک غلام کی قسمت تھی جو جیسے تھی ویسی رہی۔

Read more

سیکورٹی سٹیٹ، کرنیل اور ٹھیکیدار وغیرہ

آپ لوگوں میں سے جو کوئی بھی حالات حاضرہ سے باخبر رہنے کی عادت بد میں مبتلا ہے اسے ”لوٹ گیا، کھا گیا، بھاگ گیا، نہیں چھوڑیں گے، پیٹ پھاڑ دیں گے“ وغیرہ جیسی بڑھکوں سے گزرتے ہوئے اور وزیر نامہ کی دلدل میں سے پائنچے اٹھائے چلتے ہوئے بھولے سے میڈیائی درشن پا لینے میں کامیاب ہونے والی ایسی خبروں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جو کچھ دیر کو منہ کا ذائقہ خراب کر دیتی ہیں اور کچھ دیر کو آپ کے جذبہ ترحم کو ابھارتی ہوئی ”ہور سناؤ کی حال اے“ کی عافیت پر آکر دم توڑ دیتی ہیں۔ ان زہریلی، کٹیلی خبروں کا موضوع عوام نامی مخلوق ہوتی ہے کچھ اس طرح:

ریلوے کراسنگ پر پھاٹک نہ ہونے کے باعث بچوں کی سکول وین ٹرین سے ٹکرا گئی، اتنے بچے ہلاک ؛ فارم ہاؤس میں گائے گھس آنے پر وزیر مکرم کے محافظوں نے غریب کے گھر پر دھاوا بول دیا، بچوں سمیت سارا کنبہ حوالات میں بند ؛ نمبر دار کی شکایت پر تھانے میں پرائمری سکول ٹیچر کی چھترول ؛

Read more

ہم اور ہمارا کمفرٹ زون

ہمیں اپنے طور پر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرنا ہوگی کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان موجود ہیں وہ اپنے ارد گرد ”بستی نظام الدین اولیاء“ کیوں بسا لیتے ہیں اور کیوں ان کے لیے پسماندگی، غربت اور جہالت ایک کمفرٹ زون کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ بھی کہ یہ سلسلہ کہاں تک چلے گا؟

بستی نظام الدین اولیا پرانی دہلی میں مسلمانوں کی غالب اکثریت پر مشتمل علاقہ ہے جو ایک طرح سے ”گھیٹو“ اور ”سلم“ کا منظر پیش کرتا ہے۔ جس عظیم شخصیت سے یہ بستی منسوب ہے وہ برصغیر میں مذہبی تنگ نظری، جہالت اور ہر طرح کی پسماندگی کو مسترد کرکے ایسے روشن افق تراشتی رہی تھی جو انسانی ایکتا، سماجی ذمہ داری، انسانی مساوات اور روشن فکری سے عبارت تھے۔

Read more

جب ماں غضبناک ہوتی ہے

اے طاقت اور تکبر سے بھرے انسانو، سنو، میں تم سے مخاطب ہوں، تمہاری ماں، تمہاری مدر نیچر۔ تم پوچھتے ہو کہ میں نے کس جرم میں تمہیں گھروں میں بند کردیا؟ لو سنو اور عبرت پکڑو۔

تمہیں یاد ہیں وہ دن جب تم Hominid Family کا ایک بے بضاعت حصہ تھے اور افریقی جنگلوں میں ایک لاچارجانور کی زندگی بسر کیا کرتے تھے؟ اور جب تم اتنے بے بس تھے کہ دوسرے جانوروں کے لیے لقمہ تر سے زیادہ کچھ نہ تھے َ؟ یہ وہ دن تھے جب مجھے ایسے ساتھی کی ضرورت محسوس ہوئی جو زندگی کی نمو میں میرا ہاتھ بٹاتا، میری قوتوں میں میرا شریک ہوتا اور اس کرہ ارض پر رنگ بہار لانے میں میرا معاون ہوتا۔ تب میں نے اپنی تمام مخلوقات کے لیے نیچرل سلیکشن کا قانون نافذ کیا اور تمہاری پوشیدہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے تمہیں حیاتیاتی طور پر توانا کرنا شروع کردیا۔ شروع میں تم سیکھنے میں بہت خام اور سست تھے اور تمہارے لیے جنگل سے الگ اپنی شناخت کو پہچاننا مشکل ہورہا تھا۔ تب تم ایک بندر سے زیادہ نہ دکھتے تھے، گو ذرا چنچل اور پارہ صفت تھے لیکن میرے کسی کام کے نہ تھے۔ سو میں نے یہ کیا کہ تمہاری کمر کو سیدھا کیا اور تمہیں دو ٹانگوں پر چلنا سکھا دیا تاکہ تمہارا دماغ خون کے دباؤ سے آزاد ہوکر نشو و نما پاسکے اور تم اس قابل ہوسکو کہ خود کو اور اپنے ماحول کو پہچان سکو۔

Read more

میں عورت مارچ کی حمایت کیوں کرتا ہوں

تھوڑی دیر کے لیے بھول جائیں خلیل الرحمن قمر  کو جو اپنے انداز گفتگو سے مجھے تھڑے پر بیٹھا ہوا بند دماغ والا اور نیم خواندہ شخص دکھائی دیتا ہے۔ اور بھول جائیں ماروی سرمد کو بھی کہ شدت پسندی اس میں بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ مجھے ان دونوں سے کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ ان دونوں نے دھول اڑانے اور گمراہی پھیلانے کا کام اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ اب آئیں اصل معاملے کی جانب۔ اس مارچ

Read more