کابل: سیاسی جلسے میں دھماکے سے 27 افراد جاں بحق، حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ بال بال بچ گئے


کابل: افغان دارالحکومت میں برسی کی تقریب کے دوران بم دھماکے میں 27 افراد جاں بحق ہوگئے۔ افغان میڈیا کے مطابق دارالحکومت کابل میں حزب وحدت پارٹی کے رہنما عبدالعلی مزاری کی 25 ویں برسی کی تقریب کے دوران دھماکا ہوا۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دھماکا اس وقت ہوا جب افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے سربراہ محمد کریم خلیل تقریر کر رہے تھے جب کہ دھماکے کے وقت افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ، سابق صدر حامد کرزئی اور دیگر اہم سیاسی رہنما بھی تقریب میں شریک تھے۔

ترجمان افغان وزارت داخلہ نصرت رحیمی نے دھماکے میں 27 افراد کے جاں بحق اور 29 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ افغان میڈیا کے مطابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ، سابق صدر حامد کرزئی، سربراہ امن کونسل، سیکنڈ ڈپٹی چیف ایگزیکٹو اور دیگر شخصیات تقریب میں شریک تھیں۔ سیکنڈ چیف ایگزیکٹو نے بتایا کہ دھماکے میں چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی محفوظ رہے۔

افغان میڈیا کا کہنا ہےکہ مسلح حملہ آور نے تقریب کے مقام کے قریب واقع زیر تعمیر عمارت سے حملہ کیا جب کہ اب تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ افغان میڈیا کے مطابق طالبان نے ٹوئٹر کے ذریعے حملے میں کسی بھی طرح سے ملوث ہونے کی خبروں کو مسترد کردیا ہے۔

افغان میڈیا کا بتانا ہےکہ گزشتہ سال بھی اس تقریب پر حملہ کیا گیا تھا جس میں 11 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ امریک اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدہ 29 فروری کو دوحہ میں طے پایا جس کے تحت 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کےبدلے طالبان کو ایک ہزار قیدی رہا کرنے ہیں لیکن افغان صدر کی جانب سے 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکار کے بعد طالبان نے انٹراافغان مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔

طالبان نے کابل سے دوحہ بھیجے جانے والے چھ رکنی وفد سے ملاقات بھی نہیں کی اور کہا ملاقات صرف قیدیوں کی رہائی سے متعلق بااختیار افراد سے ہی کی جائے گی۔

Facebook Comments HS