ماروی سرمد، ہم آپ کے شکر گزار ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خلیل الرحمٰن قمر صاحب، خدارا، اب بس کیجئے۔ آپ کے حقوقِ نسواں، فیمنزم اور اس کے علمبرداروں سے متعلق متعصب، زہریلے اور نفرین انگیز خیالات سے پہلے ہی بہت دل زخمی ہیں جو اب آپ ان زخموں پر مسلسل نمک پاشی بھی کر رہے ہیں۔ صاحب! اپنی حدود میں رہیں اور اپنی زبان کو تہذیب آشنا نہیں کر سکتے تو مفادِ عامہ میں منہ بند رکھیں۔ آپ کے جملوں کی سڑاند اور تعفن سے ماحول مزید مہلک ہو رہا ہے۔

جو بازاری زبان اگلے روز ایک لائیو پروگرام میں اپ نے ماروی سرمد کے لئے برسرِعام استعمال کی اس سے جہاں آپ کی پہلے سے معلوم ذہنی ناآسودگی، دریدہ دہنی، بیہودہ گوئی، دشنام طرازی اور فکری بدحالی پر ایمان مزید پختہ ہوا، وہیں آپ کے افکار کی جڑیں ازمنہ وسطی بلکہ عہدِ عتیق میں دریافت کرنے میں بھی مدد ملی۔ فکری و تہذیبی ارتقاء سے محروم شخص کی زبان ایسی نہیں ہوگی تو کیا حافظ، رومی یا عمر خیام جیسی ہوگی۔ شاید ایسی ہی زبان اور رویے کے ردِعمل میں انسان نے تہذیب کی ضرورت محسوس کی ہوگی۔ خلیل الرحمٰن قمر صاحب، آپ ایسے ہی ہیں، ہم ایمان لائے، بے شک گفتار، افکار اور کردار کی آئینہ دار ہوتی ہے۔

خلیل الرحمٰن قمر صاحب! آپ کاملاً اپنی اصل کے ساتھ آشکار ہو گئے ہیں۔ ہم تو خیر پہلے بی آپ کے ارشاداتِ عالیہ کی روشنی میں حضور کا اصل چہرہ دیکھ چکے تھے لیکن اب تو آپ کا خبثِ باطن ان سادہ لوح لوگوں پر بھی منکشف ہو گیا ہے جنہیں آپ مسلسل مشرقی روایات اور عورت کی تقدیس کی اڑ میں جُل دے رہے تھے۔ ماروی سرمد سلام ہے آپ کو کہ آپ نے گٹر کا ڈھکن سرکا کر اس کے اندر ابلتی غلاظت سب کو دکھا دی۔

صاحب! آپ نے گالیاں ماروی سرمد کو نہیں ہر اس شخص کو دیں ہیں جو زیردست کو زبردست کے مساوی حقوق دلوانے کی بات کرتا ہے۔ آپ کی دشنام طرازی کا نشانہ ہر وہ شخص بنا ہے جو انسان کی بلا امتیاز جنس برابری کی بات کرتا ہے۔ آپ نے جس زبان سے میرا جسم میری مرضی کو عورت کے جسم کی توہین کہا۔ اسی زبان سے عورت کے جسم پر تاک تاک کر نشانے لگائے اور برسرِعام اس کے جسم کی توہین کی۔ اور منافقت لوہے کی ہوتی ہے کیا؟ آپ کے الفاظ کا چناؤ کتنے واضح انداز میں ظاہر کر گیا کہ مشرقی تہذیب اور عورت کی تقدیس کی من چاہی بلکہ من بھائی تشریح وہ پرفریب پردہ ہے جس کے پیچھے اپنے خاتمے کے امکانات سے خوف زدہ پدرسری ذہنیت عورت کی آزادی اور خودمختاری کی مخالفت کر رہی ہے۔ آپ نے ثابت کر دیا کہ معاملہ مشرقیت یا عورت کے تقدس کا نہیں بلکہ زبردست کے آئینِ کہنہ کی بقاء کا۔ ہے جو ہر لحظہ زیردست کے استحصال کے احکام جاری کر رہا ہے۔

محترم ڈراما باز معاف کیجئے گا ڈراما نگار صاحب! اب ہمیں یہ دھوکہ مت دیجئے گا کہ یہ سب کچھ آپ نے اشتعال دلانے پر کیا۔ نہیں سرکار ہم آپ کے فریب میں آنے والے نہیں۔ آپ کی بیہودہ گفتاری ہرگز فی البدیہہ نہ تھی۔ آپ مکمل تیاری کے ساتھ آئے تھے اور موقعے کی تلاش میں تھے کہ کب اپنی ریاضت کا مظاہرہ کریں۔ لیکن آپ نے تو اپنی مشق کے غرور میں موقعے کا بھی انتظار نہیں کیا اور گل و گلزار کی دہک کو آتش سمجھ کر بے خطر کود پڑے اور۔ سارے پھول مسل ڈالے۔

اس واقعے کو ایک شخص کا ذاتی فعل سمجھ کر درگزر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ واقعہ اس ذہنیت کا نمائندہ ہے جو سماج میں مکالمے کے بجائے مجادلے کا فروغ چاہتی ہے تاکہ حکم کثیر کی دلیل کا نہیں قلیل کی طاقت کا چلے۔ جس کثرت سے اس واقعے کے کلپ کو حوا کی بیٹی کے خودساختہ محافظوں نے اپنی فتح کی شہادت کے طور پر سوشل میڈیا پر شیئر کر کے حقیقی محافظ ہونے کا ثبوت دیا ہے، اس سے بھی بڑی ان محافظوں کی تعداد نے اس کلپ کو نہ صرف داد و تحسین سے نوازا ہے بلکہ مستقبل کے لے مفید تجاویز دے کر اس کارِ خیر میں خلیل الرحمٰن قمر سے اظہارِ یکجہتی کا اظہار بھی کیا ہے۔

یہ نظریاتی کشمکش ہے۔ یہ دو متضاد بیانیوں کا ٹکراؤ ہے۔ صف بندی ہو چکی۔ اب فقط فیصلہ ہونا ہے کہ سماج میں رواداری اور برداشت ہوگی یا ہٹ دھرمی اور دھونس دھاندلی۔ بلا امتیاز جنس حقوق ملیں گے یا پرانی روش ہی برقرار رہے گی۔ زیردست اور زبردست سے مساوی سلوک ہوگا یا امتیازی۔ انسان دوستی کے اجالے پھیلنے ہیں یا انسان دشمنی کی تاریکی مسلط رہنی ہے۔ احترامِ آدمیت خیمہ زن ہو گی یا انسانیت کی ذلت قہقہہ زن۔ روشن مستقبل اور صحت مند سماج کی بنیاد رکھنی ہے تو روشن خیالی اور انسان دوستی کی راہ پر چلنا ہوگا۔

عورت مارچ کی مشرقی روایات کی آڑ میں مخالفت کرنے والی ہی وہ ذہنیت ہے، جس کے خلاف یہ مارچ ہو رہا ہے۔ یہ ذہنیت عورت کی تقدیس کا نام لے کر اسی کے تقدس سے کھیل رہی ہے۔ یہ مارچ اس امر کا اعلان ہے کہ مشرقی اقدار کی اوٹ لے کر زیرستوں کا استحصال کرنے والی ذہنیت بے نقاب ہو چکی۔ ماروی سرمد، ہم شکر گزار ہیں کہ آپ نے گٹر کا ڈھکن سرکا کر اس کے اندر ابلتی غلاظت سب کو دکھا دی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *