خواتین کے عالمی دن کے لیے میر احمد نوید کی نظم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طرز وصال

آ مری عقدہ کشاء
آ ملا دیں حد زنداں سے حدودِ صحرا
بانٹ لیں کار وفا
رسن و دار مرے
کوچہ و بازار ترے
صبح کا زہر مرا شام کے آزار ترے
دیکھ مقتل کی طرف سج بھی گئی بزم قتال
دیکھ ہلتی ہے زمیں دیکھ فضا ہو گئی لال
آ مرے سینے سے ٹوٹے ہوئے نیزے کو نکال
آ مری جان نہ کر ہونے نہ ہونے کا ملال
ایسے مقتل میں تو چلتی ہے یہ یہی طرز وصال
کھیچ آہستہ سے نیزے کو لہو بہنے دے
کب سے چپ تھا اسے افسانہ غم کہنے دے
اٹ چکا خاک تغیر سے خط کن فیکوں
اب تو آزاد ہے خوں
اور وہ دہر کا قاتل وہ شبیہ قابیل
چھپ گیا جا کے کمیں گاہ میں سر مائے کی
توڑ دے اس کے حصار
تیری چاہت میں چھپا ہے مری وحشت کا جلال
کھیچ لا اس کو کمیں گاہ سے باہر اور پھر
یہ ہی ٹوٹے ہوئے نیزے کی انی
کر کے سب ظلم شمار
اس کے سینے میں اتار
اس کے سینے میں اتار

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
میر احمد نوید کی دیگر تحریریں

Leave a Reply