میرا جسم میری مرضی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عزیزانِ ملت! مبارکباد قبول کیجئے۔ مملکت خداد اد پاکستان میں بسنے والوں کے لئے اس سے بڑی خوش کن خبر کیا ہوگی کہ ہم قدسیوں کے تمام مسائل حل ہوچکے ہیں۔ وطن عزیز میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو فوری طور پر بغیر کسی لیت و لعل کے محکمہ صحت کے ریکارڈ میں درج کر لیا جاتا ہے تاکہ بچے کی پرورش کے دوران اس کی صحت کو درپیش کسی بھی ممکنہ خطرے سے نبٹا جا سکے۔ ہسپتال میں ہونے والی ڈلیوری کے دوران ماں باپ سے کسی قسم کا معاوضہ نہیں لیا جاتا اور وہ خوش و خرم اپنی اولاد کو لے کر گھر روانہ ہوتے ہیں۔

اسی طرح اس بچے کے دنیا میں آتے ہی سرکاری ہرکارے اس کے ماں باپ کو خبر کرتے ہیں کہ ان کی اولاد کو محکمہ تعلیم میں رجسٹرڈ کر لیاگیا ہے اور سکول جانے کی عمر میں اس کے والدین کو تعلیمی اداروں کے دھکے نہیں کھانا پڑیں گے۔ پورا ایک مہینہ پہلے اس کے والدین کو ایک پارسل موصول ہوتا ہے جس میں بچے کی سکول یونیفارم اور کتابیں موجود ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ریاست والدین کو پابند کرتی ہے کہ مقررہ تاریخ کو اپنے بچے کو سکول میں پہنچایا جائے۔ اسی پارسل کے ساتھ خط میں یہ خبر بھی موجود ہوتی ہے کہ ان کے بچے کی سکول سطح تک کی تمام تر مالی ذمہ داریاں ریاست بخوشی پوری کرے گی۔

مبارک! اس بات کی بھی کہ سکول میں تعلیم مکمل کرنے والے بچوں کی اکثریت کو اعلیٰ تعلیم کے بے شمار مواقع میسر ہیں۔ ملک بھر میں جامعات کا جال پھیلا ہوا ہے۔ ان جامعات کو حکومت اس قدر فنڈز مہیا کرتی ہے کہ وہ اپنے کسی بھی ضرورت مند طالب علم کا پورا خرچ باآسانی برداشت کرتی ہیں۔

یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران ہی تمام طلبا و طالبات کو ان کے متعلقہ مضمون یا ڈسپلن کے مطابق عملی تجربے کی بھٹی سے بھی گزارا جاتا ہے۔ اس تجربے کی بنیاد پر قوم کا ہر فرد بلاتخصیص جنس اپنے شعبے میں مناسب یا اعلیٰ مہارت رکھتا ہے جسے پیشہ ورانہ زندگی میں اور نکھار نصیب ہوتا ہے۔ تعلیمی معیار اور پیشہ ورانہ مہارت میں ہمارے نوجوان اس قدر بھرپور صلاحیتوں کے مالک ہیں کہ دنیا بھر میں ان کی مانگ ہے۔ اس کے باوجود ہمارے نوجوان اپنے ملک سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ وہ بیرون ملک جانا پسند نہیں کرتے۔ حکومت اور نجی شعبہ نوجوانوں کے اس جذبے کو سراہتے ہیں۔ نوجوانوں کو ان کی قابلیت کے مطابق شاندار معاوضہ بھی ادا کیا جاتا ہے۔

برادران ملت! آ پ کو مبارک ہو کہ اس قوم کے کھیت کھلیان سونا اگل رہے ہیں۔ سڑکیں ایسی کشادہ اور ہموار کہ خواتین دوران سفر سوئٹر بُنتی نظر ا ٓتی ہیں۔ پولیس سٹیشنزکے قریب سے گزریں تو خوش گپیوں اور میوزک کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ظاہر ہے پولیس کو ایسی بے فکری تب ہی نصیب ہوتی ہے جب مجرم یا جرم کا وجود نہ ہو۔ ہمارا وطن صنعتی اور معاشی میدان میں بھی شاندار کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ لوڈشیڈنگ قصہ پارینہ بن چکی ہے اور ہم ہمسایہ ملکوں کو بجلی فروخت کر کے زر مبادلہ بھی کما رہے ہیں۔ بھارت ہماری ترقی سے شاکی ہے۔ اس نے مسئلہ کشمیر بھی کشمیریوں کی خواہشات کے عین مطابق حل کردیا ہے۔ مختصر یہ کہ قوم کے سارے دلدر دور ہوچکے ہیں بس ایک تھوڑا سا مسئلہ ہے جو سال میں ہفتے عشرے کے لئے پریشان کرتا ہے، اوروہ ہے ”عورت مارچ“۔

مارچ کا مہینہ قریب آتے ہی چند ماڈرن بیگمات اور نوجوان لڑکیاں نعرے مارتی سڑکوں پر نکل آتی ہیں۔ اس سے پہلے شہر کے درودیوار پر عورت مارچ سے متعلق اشتہار چسپاں کیے جاتے ہیں۔ لاحول ولا قوۃ، ایک اسلامی مملکت میں ایسے بے حیا پوسٹرز؟ وہ تو شکر ہے ملک میں ایسے نیک طینت نوجوان موجود ہیں جو اس بے حیائی کا قلع قمع کرنے کے لئے پہلے سے ہی تیارتھے۔ رات بھر میں بے حیائی کا یہ کھیل بند کردیا گیا اور شہر کے درودیوار پر خوبصورت نقش و نگار بکھیردیئے گئے۔ خدا غارت کرے ان عورتوں کو جو اس پر واویلا مچا رہی ہیں۔

علما ء کرام اور مفتیان عظام بھی یہ فرما چکے ہیں کہ عورت کو ہمارے دین سے زیادہ عزت و احترام اور حقوق نہ کوئی دے سکا ہے نہ دے سکے گا۔ تاریخ سے نکال نکال کر حوالے بھی دیے جارہے ہیں۔ لیکن خواتین کا یہ ٹولہ کسی طور قابومیں نہیں آرہا۔ انہیں قوم کے باریش بزرگوں کی بات کا بھی احترام نہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایسی خواتین بڑے بزرگوں کے سامنے بھی زبان چلاتی ہیں۔ کہتی ہیں کہ خواتین پر ظلم بند کیا جائے۔

اب آپ ہی کہئے کہ ایک دین دار معاشرے میں خواتین کے ساتھ ظلم یا جبر کیسے ممکن ہے؟ بس معدودے چند واقعات ہیں جن میں بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا یا گیایا پھر ان پر تیزاب پھینکا گیا۔ ریاست کارروائی کر رہی ہے، عدالتیں آزاد ہیں انشا اللہ قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ جہاں تک کم عمری میں شادی کی بات ہے تو دیکھیں لڑکی ہو یا لڑکا، سن بلوغت کو پہنچتے ہی ان کی شادی کر دینی چاہیے۔ کم عمری کی شادیاں معاشرے سے بے حیائی کے کلچر اورزنا جیسے قبیح جرم کے خاتمے کے لئے از حد ضروری ہیں۔

باقی رہی بات بچوں کی تو ہر ذی روح اپنا رزق اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔ دیکھئے چین بھی تو ہے، سوا ارب آبادی کا ملک ہے ان کو تو خوراک کا کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ بات آپ کی درست ہے کہ وہاں خواتین بھی مردوں کے ساتھ برابر کام کرتی ہیں۔ لیکن دیکھئے ہمارے اور ان کی معاشرتی اقدار میں فرق ہے۔ وہ لادین ہیں اور ہم ماشا اللہ، اللہ اوراس کے رسولﷺ پر پورا ایمان رکھتے ہیں۔ اب ان خواتین کو کون سمجھائے کہ دین پر چلنے میں ہی بہتری ہے۔

چین نے ترقی ضرور کی ہے لیکن ہم ایسی ترقی پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اس ترقی کی بنیاد بے حیائی اور عورت کو پردے سے نکال کر بازاروں او ر دفتروں کی زینت بنانے پر رکھی گئی ہے۔ اب یہی دیکھئے کہ یہ نعرہ کس قدر بے حیائی پر مشتمل ہے کہ ”میرا جسم میری مرضی“۔ لاحول ولا قوۃ، یہ جسم تو اللہ کا دیا ہوا ہے، اس پر آپ کی مرضی نہیں بلکہ اللہ کی مرضی چلے گی۔ یہ نعرہ تو چند بے حیا عورتوں کا منشور ہے جو قوم کی حیادار بہن بیٹیوں کو بھی اپنے رنگ میں رنگنا چاہتی ہیں۔

دو چار دن پہلے ماروی نامی ایک بی بی ٹی وی پر بیٹھ کر بار بار یہی کہے جارہی تھی۔ ایک ہی رٹ لگا رکھی تھی ”میر ا جسم میری مرضی“۔ لیکن ایک ڈرامے لکھنے والے صاحب خلیل قمر نے اس کی خوب کلاس لی۔ دیکھئے! ہم سرعام ٹی وی پر بیٹھ کر اس طرح کی لچر گفتگو کی اجازت نہیں دے سکتے۔ قوم کی اکثریت نے بھی اس خاتون کی مذمت کی ہے۔

میرا جسم میری مرضی (پس تحریر)

گزشتہ چند دنوں سے عورت مارچ کے بارے میں ملکی ذرائع ابلاغ پر جو گرما گرم بحث جاری ہے اس کو نیا رنگ اس وقت ملا جب قوم نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں سماجی کارکن کی شناخت رکھنے والی محترمہ ماروی سرمد اورمعروف مصنف محترم خلیل قمر کو ایک دوسرے پر دشنام کرتے دیکھا اور سنا۔ خیریت رہی کہ محترمہ ٹیلی فون پر بات کررہی تھیں ورنہ کچھ عجب نہ تھا کہ معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ جاتا۔

قارئین! وجہ تنازع وہی ہے، عورت مارچ۔ جس کے حامی بھی اس ملک میں کم نہیں اور مخالفین بھی موجود ہیں۔ لیکن اس پروگرام میں ایسامحسوس ہوتا تھا کہ وجہ تنازعہ عورت مارچ نہیں بلکہ ”میرا جسم میری مرضی“ ہے۔ ساری قوم اب لٹھ لئے دو گروہوں میں بٹی نظر آتی ہے۔ ایک گروہ ماروی سرمد کی ٹرولنگ کر رہا ہے دوسرا خلیل قمر کے تعاقب میں ہے۔ ایک گروہ تو ایسا بھی ہے جو ماروی سرمد کو بائیں بازو اور خلیل قمر کو دائیں بازو کا نمائندہ قرار دے رہا ہے۔ واللہ! اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی۔

باوجود کوشش کے خاکسار اس گروہ کو تلاش نہیں کرپایا جس کی نمائندہ ما روی سرمد ہیں۔ کچھ ایسا ہی حال خلیل قمر صاحب کا بھی ہے۔ ہاں مداحوں کا ایک حلقہ دونوں کے ہاں موجود ہے۔ سوشل میڈیا کی اس ساری مارا ماری میں عوام یہ بھول بیٹھے ہے کہ یہ معاملہ فکری رہنمائی کا متقاضی ہے نہ کہ مداری اور تماش بین کا کھیل۔

بصد احترام یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ دونوں شخصیات کی پہچان ایک دانش ور کی ہر گز نہیں۔ جو فرد بنیادی مجلسی آداب سے بھی ناواقف ہے اس سے فکری رہنمائی کیسے لی جاسکتی ہے؟ محترمہ ماروی سرمد کا نام یوٹیوب پر لکھ دیکھئے، آپ کو مایوسی نہیں ہوگی۔ ساتھ بیٹھے مہمان یا مخالف کانقطہ نظر تحمل سے سننا ان کا مزا ج ہی نہیں۔ جب آپ ہر ٹی وی ٹاک شو میں بیٹھ کر بات کو بیچ میں ٹوکیں گی، بار بار ٹوکیں گی، اپنی کہی بات کو حتمی قرار دیں گی تو دوسرے انسان کا زچ ہوجانا فطری امر ہے۔

”نئی نسل کی زوردار چٹکی سے جو تکلیف ہورہی ہے ہمیں اس سے بڑا سکون مل رہا ہے“، یہ کیا انداز فکر ہے؟ گفتگو کا یہ کون سا سلیقہ ہے؟ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ماروی سرمد صاحبہ کا ہدف خواتین کے حقوق نہیں کچھ اور ہے۔ معذرت کے ساتھ! ٹاک شوز کا مقصد معاشرے میں مکالمے کے کلچر کو فروغ دینا ہے لیکن یہ سستی ریٹنگ کے حصول کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ کوئی ایک ٹاک شو بتا دیجئے کہ جس میں گفتگو کا کوئی نتیجہ برآمد ہوا ہو؟ جس سے معاشرے میں مکالمے کے فروغ کا کلچر پیدا ہوتا ہوا نظر آئے۔ جس کا مقصد معاشرے میں برداشت کو فروغ دینا ہو؟ ظلم تو یہ ہے کہ اس ملک میں وہ اینکر آج بھی مقبول ہیں جو سرمایہ داروں کا پلانٹڈ پروگرام کرتے رنگے ہاتھوں دھر لئے گئے تھے۔

دوسری طرف خلیل قمر صاحب نے جو کیا، چار حرفی لفظ مذمت اس کے لئے کافی نہیں۔ وہ اس معاشرے میں ایک عام انسان سے ہٹ کر پہچان رکھتے ہیں۔ آپ کی بات میں کتنا ہی وزن کیوں نہ ہو آپ کو گالی کی اجاز ت ہرگز نہیں دی جاسکتی۔ بات ٹوکنے کے معاملے پر احتجاج کے اور بھی سو طریقے ہیں۔ سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ پروگرام کے پروڈیوسر یا اینکر عائشہ احتشام نے بدمزگی کے آغازمیں ہی دونوں کے مائیک کیوں نہ بند کیے؟ پروگرام میں ایک وقفہ بھی تو لیا جاسکتا تھا۔

اسی معاملے پر ایک اور ٹی وی شو میں اینکر منصور علی خان کو خلیل قمر کے ساتھ بحث میں الجھے دیکھا۔ یہ کہاں کی صحافت ہے؟ صحافی کا کام صرف سوال کرنا ہے۔ مخاطب اس کا جو بھی جواب دے، آپ معترض نہیں ہو سکتے۔ وہ جواب دینے سے انکار بھی کرے تو اس کے حق کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ کسی سے الجھ جانا، اس کی رائے کا ابطال کرنا، اسے اخلاقی قدریں سکھانے بیٹھ جانا، اونچے اور تیز لہجے میں اپنے ہی مہمان کی بات کاٹنا ہر گز صحافت نہیں۔ کسی بھی صحافی کی ذمہ داریوں میں یہ شامل نہیں کہ وہ خلیل قمر کو ماروی سرمد سے معذرت کا سبق دے۔ نہ ہی کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ خلیل قمر سے یہ پوچھے کہ ”کیا آپ اسے قتل کردیں گے“۔

ماروی سرمد ہوں یا خلیل قمر، ماشا اللہ دونوں نے بدتہذیبی کا شاندار مظاہرہ کیا ہے۔ رہی بات عورت مارچ کی، تو باوجود کوشش کے خاکسار یہ سمجھ نہیں پایا کہ عورت مارچ کے مخالفین کو اعتراض کس بات پر ہے؟ عورت مارچ میں شریک ہونے والی کم و بیش تمام خواتین آٹھ مارچ کے علاوہ بھی روزانہ گھروں سے باہر اپنے کام کاج میں مصروف ہوتی ہیں لیکن کوئی اعتراض نہیں۔ صرف آٹھ مارچ پر ہی اعتراض کیوں؟ ۔

عورت مارچ کا جائزہ لیا جائے تو یہ کسی منظم تنظیم کے زیر انتظام نہیں ہوتا۔ شرکا میں سول سوسائٹی اور مختلف این جی اوز کے مردوخواتین شریک ہوتے ہیں۔ مسئلہ سال گزشت میں منظر عام پر آنے والے ایک پوسٹر سے کہیں زیادہ گرم ہوگیاہے۔ ”میرا جسم میری مرضی“۔ ہزار معنی اپنے اندر سموئے اس سلوگن کی تشریح ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں کررہا ہے۔ بات بہت سادہ ہے۔ جب کوئی خاتون کہتی ہے کہ میرا جسم میری مرضی کا مطلب یہ ہے کہ خواتین پر جسمانی تشدد نہ ہو، وہ گھر سے باہر نکلیں تو اس کو اپنی جان و عصمت پر نظروں کے تیر نہ سہنے پڑیں، عورت کی شادی اس وقت تک نہ کی جائے جب تک اس کا جسم بچے پیدا کرنے اور ذہن شادی جیسے مقدس بندھن کو سمجھنے کے لئے تیار نہ ہو، خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی نہ ہو، خواتین اگر رشتے یا دوستی سے انکار کریں تو ان پر تیزاب نہ پھینکا جائے، خواتین کو غیرت کے نام پر قتل نہ کیا جائے، انہیں کاروکاری اور قرآن سے شادی کے نام پر مردوں کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے تو اس سے انکار کس کو ہے؟ کوئی ذی شعور اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ ہمارے معاشرے میں یہ خرابیاں موجود ہیں۔ ان برائیوں کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انہیں تسلیم نہ کیا جائے۔ مقام شکر ہے کہ وطن عزیز میں ان جرائم کے خلاف توانا آوازیں موجود ہیں۔

لیکن جب ایک خاتون یہ کہے کہ ”میرا جسم میری مرضی، میں چاہوں تو بچے پیدا کروں نہ چاہوں تو نہ کروں، میں چاہوں تو شوہر سے تعلق رکھوں نہ چاہوں تو نہ رکھوں“، تو معاف کیجئے گا اسے خواتین کی غالب اکثریت کی حمایت کبھی میسر نہیں آ سکے گی۔ خاکسار ہر گز یہ نہیں سمجھتا کہ اس ملک میں خواتین ان چاہے بچے پیدا نہیں کرتیں۔ دیکھنے کی بات مگر یہ ہے کہ بیٹے کی خواہش میں ان چاہے بچے پیدا کرنے والی خواتین کے شوہروں کو خودان کی والدہ، ساس اور خاندان کی دوسری خواتین کی طرف سے کتنے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کبھی کسی نے سوچا کہ صبح شام مرد جب یہ سنتا ہے کہ اللہ تجھے بیٹا بھی دے گا، خدا تجھے جڑواں بیٹے دے گا تو اس کی حالت کیا ہوتی ہے؟ ان لفظوں کا سیسہ اس کے کانوں میں انڈیلنے والی بھی خواتین ہی ہوتی ہیں۔ اگر آپ شوہر سے تعلقات نہیں رکھنا چاہتیں تو آپ کو کس نے مجبور کیا ہے کہ آپ اسے شوہر تسلیم ہی کریں؟ َبہت اچھی بات ہے کہ اسی سے شادی کریں جس سے تعلق رکھنا چاہتی ہیں۔

گویا یہ انداز ہی خرابی کی جڑ نظر آتا ہے۔ متحارب گروپوں میں کسی کو ہوش نہیں کہ وہ ٹھہر کر سانس لے اور ایک دوسرے کی بات کو تحمل کے ساتھ سن کر سمجھنے کی کوشش کرے۔ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں دونوں گروہ اس سلوگن کی حمایت یا مخالفت کو الوہی ذمہ داری سمجھ کر نبھانے کی کوشش میں ہیں۔ ایک اسے خواتین کا مقدم حق گردانتا ہے تو دوسرا بے حیائی کا منبع قرار دے رہا ہے۔ کوئی کہتا ہے اسے ”میر ی زندگی میری مرضی“ سے بدل دیجئے۔ فورا شور بلند ہوتا ہے یہ تو اس سے بھی بڑے فتنے کو آزاد کرنے کے مترادف ہے۔ رہی عوام تو اسے یہ فکر ہی نہیں کہ خود ان کے ساتھ اور ان کی آئندہ نسلوں کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ وہ بس تماشا دیکھنے میں مصروف ہیں۔

تھوڑا صبر کیجئے! یہ ابال صرف آٹھ مارچ کی شام تک کا ہے۔ آٹھ مارچ کی شام ٹی وی پر خبریں چلیں گی۔ اگلے دن اخباروں میں کچھ تصویریں شائع ہوں گی اور اس کے بعد پوری قوم عورت مارچ تو کیا عورت کو ہی بھول جائے گی۔ پھر کوئی نیا تماشا ہوگا، اس پر کالم لکھے جائیں گے، آپ پڑھیں گے اور گلشن کا کاروبار چلتا رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *