میرا جسم، ”نامعلوم“ مرضی اور پیپلز مارچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے اس میرا جسم میری مرضی ورضی والے قصے کا ایک پہلو اور بھی ہے۔

عورت ہو کہ مرد، پَنوں پر جو چاہے لکھوا لیں، چاہیں تو دستور میں ایک شق بھی ڈلوا لیں، اپنے جسم پر اپنی مرضی کا اجازت نامہ کسی بھی ایوان سے مہر لگوا کر جیب میں رکھ لیں، یہاں آج تک ”جسموں“ پر اصل مرضی تو طاقت کی ہی چلی ہے۔ بندوق کی چلی ہے اور بندوقچی کی چلی ہے۔ روح گولی سے نہیں مرتی لیکن بستی تو جسم میں ہی ہے اس لیے بندوقوں سے اور بندوق والی سوچ سے یہاں روحیں تک کچلی جاتی رہی ہیں۔

جب ”بنجارہ“ کسی دھرتی زادے کا وجود لاد لے چلتا ہے تو پھر کوئی حکم نامہ اس جسم پر ”صاحب جسم“ کی مرضی کا حق اسے نہیں دلا سکتا۔ بے شک کتنا ہی کوئی دبنگ و دلیر ہونے کا دعویدار ہو، کتنے بڑے اور با اختیار کمیشن کا سربراہ ہو، لاپتہ ”جسموں“ کی تلاش میں ”سر تا پا“ جدوجہد کا مدعی ہو، ان جسموں کی واپسی صرف قسمت سے یا طاقت والے کی مرضی سے ہی ممکن ہو پاتی ہے۔

اس لیے بھلے عورت مارچ، مرد مارچ، بچہ مارچ، بچی مارچ، خواجہ سرا مارچ، سینیئرز مارچ، ایمپلائز مارچ، مزدور مارچ، یہ مارچ، وہ مارچ کرتے رہیں صورت حال میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں آئے گی۔ سیاسی جدوجہد کو صنف، آمدن، پیشے، علاقے، ثقافت، عمر، فرقے، مذہب وغیرہ وغیرہ کے خانوں میں بانٹنا بھی سرمایہ دار سامراج کا ایک ہتھکنڈہ ہے۔

اس سے معاشرے ”لا سیاسی“ (پتہ نہیں یہ ترجمہ درست ہے یا غلط، میں apolitical کہنا چاہتا ہوں ) ہو جاتے ہیں۔ اور انہیں پتہ بھی نہیں چلتا۔ مزاحمت کا شوق بھی پورا ہوتا رہتا ہے اور بنا بنایا، سجا سجایا کھیل بھی چلتا رہتا ہے۔ پریشر ککر کے اوپر سے کبھی صنف کے تو کبھی کلاس کے، کبھی ثقافت کے تو کبھی پیشے کے دستگیر سے ویٹ سرکایا جاتا ہے، سیٹی کی سی آواز سے بھاپ باہر نکلتی ہے اور ”پریشر ککر“ میں سکون ہو جاتا ہے۔

لہذا یہاں اگر واقعی ان ”لوگوں“ کی آزادیوں اور حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے جو لوگ عورتیں بھی ہیں اور مرد بھی، مزدور بھی ہیں اور معمر بھی، ملازمت پیشہ بھی ہیں اور دیہاڑی داڑ بھی، دیہاتی بھی ہیں اور شہری بھی تو پھر ”پیپلز مارچ“ کرنا پڑے گا۔

سیاسی جدوجہد ہی اصل اور حقیقی جدوجہد ہے، باقی ساری باتیں ضمنیاں ہیں۔ ریاست میں مقتدر کون ہے اور کون ہونا چاہیے، ان سوالوں کے جواب بہم پہنچائے بغیر باقی سب کچھ بس خاردار جھاڑی کی شاخ تراشی جیسی مشق ہی ہے۔ جھاڑ جھنکار پھر کچھ عرصے بعد چمن کو آ لے گا۔

بنیادی سوال کا جواب مانگیں۔ اصل حق مانگیں، یہ مارچوں والی ہلکی پھلکی موسیقی بس کرسی پر نیم دراز ہو کر نیم دلی سے ٹانگ ہلاتے رہنے کا سبب ہی بنے گی۔ ”پیپلز“ کے ”پولیٹیکل مارچ“ کے بغیر بھنگڑا نہیں ڈالا جا سکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *