عورت کی آزادی کا ایک خواب، دو خط اور تین نظمیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دعا عظیمی کا خط

مکرم اور معظم خالد سہیل صاحب!

یہ سچ ہے کہ عورت ہونا میرا کردہ جرم نہیں ہے مگر مجھے تمام عمر اس کی سزا ملتی ہے۔ کیوں؟

۔ مزے کی بات ہے کہ ساغر صدیقی ایک مرد تھا مگر وہ کہہ گیا کہ

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

میں موسم بہار کی پیدا وار ہوں جب فطرت اپنے عروج پہ ہوتی ہے بھلا مجھے کسی بات کا کوئی غم کیوں ہو گا؟ اور اگر ہو بھی تو

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

غالب بھی خوب فلسفی تھے۔

میرا دکھ یہ ہے کہ میں جس معاشرے میں سانس لیتی ہوں وہاں اکثریت ’رف‘ لوگوں کی ہے۔ یہ ’رف‘ لوگ کون ہیں؟ جو بات بے بات دوسروں پہ فتوے لگاتے ہیں اور ہر پل دوسروں کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ یہ عجیب لوگ ہیں۔ ۔

خلا تو بہت ہیں۔ پہلا دکھ تو شاید قبولیت ہی ہوتا ہے۔ پہلی قبولیت جب آپ پیدا ہوتے ہیں تو کیا تاثرات آتے ہیں

۔ کل جب خلیل الرحمن نے گالی دی ایک عورت کو جس انداز سے وہ گالی دی وہ میری روح کے جسم کو چھلنی کر گئی۔ کہتا ہے۔

’میں تھوکتا ہوں تمہارے جسم پر‘

کیا ہے تمہارا جسم ’

اس میں کیا رکھا ہے؟ ’

لڑکی یا عورت چیخ رہی تھی ہزیانی انداز سے۔ ’۔ میرا جسم میری مرضی‘

یہ ایک نعرہ ہے جو پچھلے مارچ میں یوم خواتین پر وجود میں آیا۔

۔ اگر اس کی مرضی ہوتی تو وہ اس جسم کا تحفہ قدرت کو لوٹا دیتی۔ اور اگر وہ نہ لوٹاتی تو شاید میں ضرور لوٹا دیتی آخر مجھے ایسے جسم کے ساتھ اس دنیا میں آنے کی کیا ضرورت تھی جس کی کسی کو چاہ نہیں۔

کون ہے جس کامنہ بوجھ سے کالا نہیں ہو جاتا لڑکی کے ہونے کی خبر سنائی جاتی ہے۔ کیا خوشی آدھی نہیں رہ جاتی آدھی انسان جو آئی آپ کے گھر کے آنگن میں۔

مگر پھر بھی فطرت لڑکیوں کے جنم کو جاری رکھتی ہے۔ جانے کیوں مدر نیچر مدر سے محبت کرتی ہے غنچوں سے بھی کانٹوں سے بھی۔

۔ کبھی کبھار میں سوچتی ہوں میں حساس ہوں مگر پھر مجھے لگتا ہے میں حساس تو ہوں احساس کرنے والا حساس ہی ہوتا ہے مجھے تکلیف ہوتی ہے ان تمام عورتوں کی جو اپنے جسم کا بوجھ اٹھانے کے ساتھ ساتھ خاندانوں کی عزتوں کا بوجھ اٹھائے پھرتی ہیں۔ اس کے علاوہ کبھی کبھار تن تنہا باپ کی وفات کے بعد پورے گھر کا بوجھ اٹھاتی ہیں اور کبھی بیوہ یا طلاق یافتہ ہو کے اپنے بچوں کا جوانمردی سے۔ کیا تب وہ صنف نازک نہیں رہتیں وراثت کے باوجود بے وارث وقت گزارتی ہیں۔

میں سمجھتی ہوں ہمیں جبر کی حد تک صبر سہنا سکھایا جاتا ہے کیونکہ خاندان کی بنیاد میں کسی ایک کا لہو تو ہو گا ورنہ شیرازہ بکھر جانے کا خوف ہے معاشرے کے ٹھیکیداروں کو۔

مجھے ہنسی آتی ہے ان کے ایک ہاتھ میں رب اور رسول کی تنبیہات ہیں اور دوسرے ہاتھ میں لٹھ ہے۔

سچ آدمی غصے میں بہت ہی برے لگتے ہیں۔ اس وقت ان کو رسول یاد نہیں آتا نہ رب نہ قولا حسنا نہ یہ کہ بری آواز گدھے کی ہے۔

زندگی میں اب کوئی دکھ بھی نہیں سب فضول باتیں ہیں جینے کے بہانے ہیں۔ زندگی جیسی بھی ہو بہار کے دنوں میں پیدا ہونے والے زیادہ دیر قنوطی نہیں رہ سکتے نہ ہی میں خبطی ہوں۔

میرے گرد کم افراد ہیں۔ خلوت ہے۔ آزادی ہے۔ فکر کی آزادی۔ جسم قید میں ہے تو میرا کیا نقصان بس یہ کہ معاشرے کو اس کا کم فائدہ ہے۔ معاشرہ میرا پسندیدہ موضوع ہے۔

میں سماجیات میں ماسٹرز جو ہوں اور میرا یہ دکھ ہے کہ میں نے اپنی جوانی میں اس کے لیے کام نہیں کیا۔ کیونکہ میں جس معاشرے میں رہتی رہی وہاں ملازمت کے لیے آنے اور جانے کے لیے اجازت کی ضرورت تھی اور میرے جیسی باغی کو اجازت نہیں ملی۔

میں کہاں باغی ہوں بس بغاوت خون کے زروں میں کہیں چمک مارتی ہے اور بجھ جاتی ہے۔ بس کل اس بندے نے جب اس عورت کو گالی دی تو وہ گالی سیدھی میری روح کے جسم میں اتری اور جسم کی جو روح ہوتی ہے وہ تو دوسروں کی مرضی کے مطابق جی جی کے کب کی مر چکی ہوتی ہے۔ اگر میرے اختیار میں ہوتا اور میری مرضی ہوتی تو میں اپنا جسم کسی مرد کے ساتھ تبدیل کر لیتی۔ کیا ہی آسانی ہوتی آنے جانے بات کرنے اور مزہ کرنے میں۔

مگر خیر اب مجھے مسمات ہی مرنا ہو گا۔ مجھے اس کا نوحہ نہیں کرنا اور میں سوچتی ہوں چیزوں کو جیسے کہ وہ ہوتی ہیں as it is accept کرنا ہی بہادری ہے اور میں بے شک ایک بہادر انسان ہوں جسے سروایو کرنا آتا ہے۔

ایک مثبت انرجی کسی پھول میں ہو عورت میں ہو آدمی میں ہو یا نظارے میں اس کا اشتراک ہوتے رہنا چاہیے۔ اور تبادلہ خیالات بھی۔

اپنے جیسے انسانوں سے بات چیت انسان کو انسان ہونے کا ثبوت دیتی ہے۔ ایسی گواہی ملتی رہنی چاہیے۔

یہ توانائی مجھے بند کمروں ’محبوس ذہنوں اور گھٹن ذدہ دماغوں سے بچا کے رکھتی ہے۔ آپ نے تو نفسیات کی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔ کچھ علاج اس سماج کا بھی اے چارہ گر ہے کہ نہیں۔

بہت سی دعا

اور بہت سا پیار۔

دعا عظیمی

۔ ۔

خالد سہیل کا جواب

۔ ۔

دعا عظیمی صاحبہ!

آپ کا نام ’دعا‘ سن کر مجھے اپنی ایک غزل کے دو اشعار یاد آئے

اس کے ہونٹوں کی عطا لگتا ہے

اس کا ہر لفظ دعا لگتا ہے

ڈوبنے والوں کا ایماں دیکھا

ان کو ہر تنکا خدا لگتا ہے

جب مجھے آپ کا فیس بک پر دکھی سا یہ مسیج ملا ’آج کل پاکستان کے سوشل میڈیا پر مرد اور عورت اور یومِ خواتین پر مارچ کی جو بحث چل رہی ہے وہ میرے لیے تناؤ کا باعث بنی ہوئی ہے اور میری ریشم جیسی خوبصورت سوچوں کو الجھا گئی ہے‘ اور میں نے مشورہ دیا کہ آپ اس حوالے سے مجھے اپنے خیالات ’احساسات اور نظریات لکھ کر بھیجیں تو مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ آپ ایک ایسا عمدہ ادبی محبت نامہ لکھیں گی جو مجھے جواب لکھنے کی تحریک دے گا۔

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ عورتوں کی آزادی کی تحریک کو ہم سب مل تقویت دینے کی بجائے میڈیا میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کافی تلخ کلامی ہو رہی ہے۔

میں نے عورتوں کی تحریک کے حوالے سے کئی برس پیشتر “مغربی عورت۔ ادب اور زندگی” کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جس میں مغرب میں عورت کی آزادی و خودمختاری کے حوالے سے سنجیدہ گفتگو کی گئی تھی۔ مغرب میں۔ میرا جسم میری مرضی۔ کا نعرہ اسقاط کے حق اور REPRODUCTIVE RIGHTSکے حوالے سے لگایا گیا تھا۔ اس حوالے سے میں نے کئی برس پیشتر ایک نظم لکھی تھی۔ جو حاضرِ خدمت ہے

یہ مرا جسم ہے یہ مری زندگی

اک قیامت ہی گویا بپا ہو گئی

گھر کی ہر بات سرگوشیوں میں ڈھلی

ہولے ہولے سبھی نے خبر یہ سنی

نوجوانی میں میں حاملہ ہو گئی

۔ ۔

دھیرے دھیرے ہر اک شخص مجھ کو بلاتا رہا

میری رنجیدہ حالت پہ وہ رحم کھاتا رہا

کوئی شادی کے فرسودہ نغمے سناتا رہا

کوئی اسقاط کے مجھ کو نسخے بتاتا رہا

کوئی بے باپ بچوں کے قصے سناتا رہا

کوئی مجھ کو گناہوں سے ہر دم ڈراتا رہا

۔ ۔

میں یہ سب کچھ خموشی سے سنتے رہی

چاہتی تھی مگر میں نہیں کہہ سکی

یہ مرا جسم ہے یہ مری زندگی

۔ ۔

میں جب زنانہ ہسپتال میں حاملہ عورتوں کے ساتھ بطورِ ڈاکٹر کام کرتا تھا ان دنوں میری کئی ایسی عورتوں سے ملاقات ہوئی جن پر ان کے شوہر جسمانی ذہنی اور جنسی تشدد کرتے تھے۔ بعض دفعہ اس تشدد سے ان کا اسقاط بھی ہو جاتا تھا۔ ایک ایسی ہی مریضہ کے علاج کے بعد میں نے مندرجہ ذیل نظم لکھی تھی۔

دو قتل

کل تک میں مسرور بہت تھی

میری آنکھیں روشن تھیں اور

میری کوکھ میں میرا بچہ

چلتا پھرتا باتیں کرتا

اپنی ماں کا دل بہلاتا

میرے خوابوں کا شہزادہ

میری ذات کا حصہ تھا وہ

لیکن آج میں خاموشی سے

کالے کپڑے پہنے سہمی

اپنی ذات پہ ماتم کرتی

چپکے چپکے آنسو بہاتی

اپنی کوکھ میں اپنے بچے

کی چھوٹی سی لاش اٹھائے

زندہ ہوں پر قبر بنی ہوں

اس نے ٹھوکر مار کے کل شب

میرے خواب اور میرے بچے

دونوں کو ہی قتل کیا ہے

۔ ۔

بہت سی بیویاں اپنے شوہر کے ظلم و ستم سے ایسے مقام پر پہنچ جاتی ہیں جہاں وہ محبت سے دلبرداشتہ ہو کر اپنی زندگی کا راستہ بدلنے پر مجبور ہو جاتی ہیں اور اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک بیوی کے جذبات سے متاثر ہو کر میں نے ایک نظم لکھی تھی۔ حاضر ہے

سوال

نہ جانے کتنے برسوں سے یہ دل کہتا رہا میرا

مرا شوہر مرا مالک مجازی تو خدا میرا

ترے ہر کام پر ہر بات پر میں ناز کرتی تھی

تری قربت میں جیتی تھی تری فرقت میں مرتی تھی

تو میری زندگی کے آسماں کا اک ستارا تھا

مری تنہائیوں کا درد و غم کا اک سہارا تھا

مگر پھر رفتہ رفتہ دل پہ کچھ مایوسیاں چھائیں

مرے انداز میری سوچ میں کچھ تبدیلیاں آئیں

مری ہر سوچ ہر اک فکر اب یہ مجھ سے کہتی ہے

تری عزت تری عظمت مری سب خودفریبی ہے

حقیقت وہ نہیں جس کو حقیقت میں سمجھتی تھی

سرابوں کو سمندر ہی نجانے کب سے کہتی تھی

مری بے عزتی کر کے توکتنا فخر کرتا ہے

مجھے بے عقل ناقص اور کیاکیا تو سمجھتا ہے

ترے افکار سے فرعونیت کی بو بھی آتی ہے

مری شرم و حیا اب خون کے آنسو بہاتی ہے

جومیرے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہے دیکھو

جو میرے دل کی باتیں ہیں تحمل سے ذرا سن لو

جو تیرے قلب کی گہرائیوں میں ہے بتا مجھ کو

اگر تو مرد ہے تو سچ سچ یہ بتا مجھ کو

تری بیوی ہوں محبوبہ ہوں یا نوکرانی ہوں

ترے بچوں کی آیا ہوں کہ تیرے دل کی رانی ہوں

ترے کل کا سہارا ہوں یا ماضی کی سزا ہوں میں

شریکِ زندگی ہوں یا کہ تیری داشتہ ہوں میں

۔ ۔

ڈیر دعا!

میں عورتوں کی آزادی اور خود مختاری کے سو فیصد حق میں ہوں۔ میں اس عہد کا خواب دیکھتا ہوں جب ساری دنیا میں عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق و مراعات حاصل ہوں گے اور وہ کسی ملک میں بھی دوسرے درجے کی شہری نہیں سمجھی جائیں گی۔ میں اس دور کا منتظر ہوں جب مرد اور عورت ایک دوسرے کے شریکِ حیات اور شریکِ سفر ہی نہیں آپس میں محبوب اور دوست بھی ہوں گے ’ایک دوسرے سے غصے نفرت اور تلخی کی بجائے محبت‘ پیار اور اپنائیت کی باتیں کریں گے اور مل کرمعاشرے کے ارتقا میں مثبت کردار ادا کریں گے۔

آپ کا ادبی دوست

خالد سہیل

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 305 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *