عورت مارچ: ‘میرے جسم پر میری نہیں تو کیا آپ کی مرضی ہو گی؟’

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اتوار کو پاکستان کے مختلف شہروں میں ‘عورت مارچ’ کی شکل میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔ عورت مارچ کو لے کر گزشتہ کئی دنوں سے ٹی وی ٹاک شوز میں اور سوشل میڈیا پر گھمسان کا رن ہے۔

‘عورت مارچ’ کے ناقدین اس مارچ پر کئی سوالات اٹھاتے ہیں۔ مثلاً ایسے مارچ کا کیا فائدہ، کیا اس سے عورتوں کے حقوق حاصل کر لیے جائیں گے؟ کیا ریپ اور غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام، یا متاثرہ خواتین کو کوئی قانونی مدد مل سکے گی؟ کیا اس سے عام خواتین کی زندگیوں میں کوئی فرق پڑے گا؟ آئیے ان کے جوابات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

کیا عورت مارچ سے کوئی فرق پڑے گا؟

صحافی اور تجزیہ کار صباحت زکریا سوشل میڈیا پر ‘فیمنستانی’ کے نام سے ایک پیج چلاتی ہیں اور عورتوں کے مسائل پر آواز اٹھاتی ہیں۔ صباحت زکریا کے مطابق عورت مارچ سے شعور اور ذہنی بیداری پیدا ہو گی اور خواتین کے مسائل کی نشاندہی ہو سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے جو حالات ہیں، ان کے بارے میں ہم اپنی سوچ لوگوں تک ایسے مارچ سے ہی پہنچا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ مسائل ایسے ہیں جن سے ایک عورت ہر روز گزرتی ہے۔ مثلاً جنسی ہراسانی، گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ، کیریئر بنانے میں مسائل، یہ سب حقیقی مسئلے ہیں۔

صباحت زکریا کے بقول یہ درست ہے کہ ملک میں قوانین موجود ہیں۔ جنسی ہراسانی سے لے کر گھریلو تشدد تک کے تمام قوانین موجود ہیں۔ لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

“وائلنس سینٹر ملتان میں قائم ہوا۔ خیال تھا کہ یہ ہر ضلع میں بنے گا لیکن نہیں بنا۔ بلکہ جو پہلے تھا وہ بھی بیٹھ گیا۔”

ان کا کہنا تھا کہ قوانین موجود ہیں۔ لیکن یہ قوانین سماجی رویے نہیں بدل سکتے۔ قوانین کی اپنی جگہ ہیں اور سماج کی ذہنی بیداری اپنی جگہ ہے۔

صحافی و کالم نگار جویریہ صدیقی کہتی ہیں کہ خواتین کو مارچ کا حق حاصل ہے۔ البتہ انہوں نے گزشتہ برس ہونے والے عورت مارچ میں نمایاں ہونے والے پلے کارڈز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “وہ بہت عجیب و غریب تھے۔”

جویریہ صدیقی کے بقول ان پلے کارڈز کی زبان ذومعنی تھی اور ان پر ایسے الفاظ درج تھے جو ہم عموماً استعمال نہیں کرتے۔ انہوں نے ایک پلے کارڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “میرے نزدیک ٹانگیں کھول کر بیٹھنا ویمن امپاورمنٹ نہیں ہے۔”

جویریہ صدیقی کا کہنا تھا کہ “میں کھانا گرم نہیں کروں گی یا میں اپنے شوہر کی بات نہیں مانوں گی۔ خواتین کے یہ مطالبات نہیں ہیں۔”

ان کے بقول خواتین کو صحت و تعلیم کی بنیادی سہولیات اور سہل ماحول ملنا چاہیے تاکہ وہ آسانی سے کہیں بھی جا سکیں۔ وہ اپنے پروفیشنل کیریئر اور گھر کو ساتھ لے کر چلیں۔

“ہمیں برابر پے اسکیل چاہیے۔ ہمیں میٹرنٹی کی چھٹیاں چاہئیں۔ خواتین پر جو حملے ہوتے ہیں، جنسی زیادتی یا تیزاب پھینکنے واقعات کے حوالے سے انصاف چاہیے۔ یہ واضح ہونا چاہیے کہ ہمارے مطالبات کیا ہیں۔”

جویریہ صدیقی کے مطابق پوسٹرز کی زبان شائستہ اور مہذب ہونی چاہیے تاکہ ایسا نہ ہو کہ بات صرف ان پوسٹرز کی ہوتی رہے اور خواتین کے حقیقی مسائل پیچھے رہ جائیں۔

عورت مارچ اور متنازع پلے کارڈز

لاہور میں عورت مارچ کی رضاکار اور صحافی نایاب جان گوہر نے پلے کارڈز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ان پلے کارڈز کو سمجھیں تو یہ سارے اہم مسائل ہیں۔

“کھانا خود گرم کر لو، صدیوں سے جو عورتوں پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے یا جو گول روٹی نہ ڈالنے پر انہیں مارا جاتا ہے، یہ نعرہ ایسے مسائل کی جانب اشارہ کرتا ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی گھر توڑنے کی بات نہیں کی۔ ہم یہ کہتے ہں کہ گھر کے کام کی ذمہ داریاں بانٹنی چاہئیں۔ خصوصاً ایسے گھروں میں جہاں میاں اور بیوی دونوں جاب کر رہے ہوں۔ اگر دونوں سارا دن کام کر رہے ہیں تو دونوں کا فرض بنتا ہے کہ مل کر گھر کے کام کریں۔

اسی طرح صباحت زکریا نے کہا کہ یہ پلے کارڈز عورت کی زندگی اور اس کے تمام مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ان کے بقول ‘میں آوارہ میں بدچلن،’ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عورت کچھ بھی کر لے اس کے کردار پر داغ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

“میرا جسم میری مرضی اس کی جنسی زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔”

میرا جسم، میری مرضی

عورت مارچ میں بلند ہونے والے اس پوسٹر پر سب سے زیادہ تنقید ہو رہی ہے۔ ناقدین اس نعرے کو معاشرے کی مذہبی اور خاندانی اقدار کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کی خاتون رکن سمعیہ راحیل قاضی نے اس فقرے پر اپنا نقطہ نظر دیتے ہوئے کہا کہ اللہ نے ہر مرد اور عورت کو آزاد پیدا کیا ہے۔ اس پر ان کی مرضی ہونی چاہیے۔ ان کے بقول عورت کو اپنے پہننے اوڑھنے، رائے کے اظہار، پسند و ناپسند کا حق حاصل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ “لیکن اس مرضی کی کچھ حدود بھی ہیں۔ ہماری اپنے جسم پر تب تک مرضی ہے جب تک اللہ اور اس کے رسول کی اقدار چیلنج نہ ہوتی ہوں۔ لیکن جہاں وہ چیلنج ہوتی ہوں وہاں ہم اپنی مرضی نہیں کریں گے۔”

نایاب جان گوہر نے کہا کہ اس نعرے میں کہاں کہا گیا ہے کہ ہم نے کوئی حد عبور کرنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جن حقوق کی ہم بات کر رہے ہیں، وہ اللہ نے ہمیں ہمارے جسم پر دیے ہیں۔

“اگر ہم تشدد کے خلاف بات کریں، یا ازدواجی معاملات میں عورت کی رضامندی کی بات کریں یا اگر ہم یہ بات کریں کہ عورت کی مرضی ہو کہ بچہ کب پیدا کرنا ہے؟ یا جنسی ہراسانی کی بات کریں، تو ان میں سے کون سی بات مذہب کے خلاف ہے؟ کیا عورت کو اپنے جسم پر یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ گھر سے باہر نکل کر معاشرے کا حصہ بنے؟”

صباحت زکریا نے کہا کہ لوگوں نے اس نعرے کی اپنے اپنے طور پر تشریح کی ہے۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس نعرے میں جنسی طور پر با اختیار ہونے کی جو بات کی گئی ہے، وہ بہت ضروری ہے۔”

انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ میرے جسم پر میری مرضی نہیں ہو گی تو کیا میرا جسم ہو گا اور آپ کی مرضی ہو گی؟

کیا عورت مارچ مرد مخالف ہے؟

سمعیہ راحیل قاضی نے کہا کہ بعض قوتیں عورت اور مرد کو ایک دوسرے کے مقابل قرار دینا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ نے عورت اور مرد کے درمیان بہت سے رشتے بنائے ہیں اور یہی ہماری معاشرت کا حسن ہیں۔

جویریہ صدیقی نے کہا کہ عالمی یومِ خواتین کے اس دن کو مردوں سے نفرت کا دن نہیں بنانا چاہیے۔

اس بارے میں نایاب جان گوہر کا کہنا تھا کہ ‘فیمینزم’ کا مطلب ہے مردوں اور عورتوں کی برابری۔ “ہمیں اس نظام سے نفرت ہے جو مرد اور عورت کو لڑواتا ہے۔ جو مردوں کو خواتین سے بالاتر رکھتا ہے۔ اسی لیے تو ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ مرد اس مارچ میں آئیں۔”

انہوں نے کہا کہ ان کے منشور میں مردوں کے حقوق کی بھی بات کی گئی ہے اور بہت سے مرد اس مارچ میں ان کے حلیف ہیں۔

صباحت زکریا کا کہنا تھا کہ “کسی بھی مارچ میں اگر ظالم اور مظلوم کی بات ہو گی تو کسی نہ کسی کی طرف تو اس کا نشانہ ہو گا۔ جو فریق خود کو ظالم سمجھتا ہے وہ ایسے مارچ سے گھبرا کر یہ سمجھے گا کہ ان کی طرف اشارہ ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اس مارچ کا رخ پدرسرانہ نظام کے خلاف ہے۔ ان کے بقول مردوں اور پدرسرانہ نظام میں فرق ہے۔ اگر آپ پدرسرانہ نظام میں رہتے ہوئے اس کی بری اقدار پر عمل نہیں کر رہے تو پھر آپ کو اس پر برا محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ اپنا کھانا خود گرم کر رہے ہیں تو آپ کو اس نعرے سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔

عورت مارچ میں معاشرے پر صرف تنقید ہی کیوں؟

جویریہ صدیقی کا مؤقف تھا کہ عالمی یومِ خواتین پر ہمیں خواتین کی کامیابیوں کی خوشی منانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دن کے موقع پر جن عورتوں کو اعزازات ملے ہیں یا جنہوں نے پاکستان کا نام روشن کیا ہے، ان کی بات کرنی چاہیے۔

نایاب جان گوہر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن ایسے منایا جاتا ہے کہ خواتین نے کیسے ترقی کی؟ البتہ ان کا کہنا تھا کہ یہ دن مسائل پر سوچ بچار کرنے کے لیے بھی ہے۔

“دونوں چیزوں کو لے کر چلنا ہوتا ہے۔ جو کامیابیاں ہیں ان پر بھی بات ہونی چاہیے لیکن جو طویل لڑائی رہ گئی ہے، اس پر بھی بات ہونی چاہیے۔”

صباحت زکریا نے کہا کہ عورت مارچ میں جائیں تو وہاں ایک خوشی کا اور آزادی کا احساس ہوتا ہے۔ یہ احساس تحفظ ہوتا ہے کہ اتنی ہزاروں عورتوں کے درمیان آپ جو چاہیں کریں، کوئی آپ کو بری نظر سے نہیں دیکھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عورت مارچ انفرادی اور اجتماعی مسائل کو سامنے لایا ہے۔ یہ مسائل پہلے کبھی بیان نہیں ہوئے تھے اور یہ بہت ہی اہم مکالمہ ہے جسے جاری رہنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply