پہلے یہ تو طے کر لیا جائے کہ عورت انسان ہے بھی یا نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دو چار برس سے خواتین کے ایک گروہ نے حقوق پانے کے نام پر دن منانا شروع کر دیا ہے۔ پہلے تو ذی شعور لوگوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ انہیں جتنے حقوق درکار تھے وہ انہیں دیے جا چکے ہیں، مزید کی توقع مت رکھیں اور انہیں نظرانداز کر دیا۔ مگر وہ مارچ کرتی رہیں۔ پھر ان کا خوب مذاق اڑایا گیا کہ گھر میں بیٹھی عورت ملکہ ہوتی ہے اور گلی میں نکلنے والی بہت بری۔ مگر وہ مارچ کرتی رہیں۔ پھر انہیں خوب ڈرایا دھمکایا گیا کہ انہیں کسی قیمت پر مارچ نہیں کرنے دیا جائے گا، مگر وہ مارچ کرتی رہیں۔ اور اب مخالفین خود اس دن گھر بیٹھنے کی بجائے اپنی عورتیں گلی میں لا کر عورت مارچ کرنے لگے ہیں گو ان کے حقوق کا سیٹ مختلف ہے۔

اب یہ معاملہ تو طے ہوا ہے کہ دونوں گروہ اس بات پر متفق ہیں کہ عورتوں کو کسی قسم کے حقوق کی ضرورت ہے، مگر اس بات پر اتفاق نہیں ہو پا رہا ہے کہ وہ حقوق کیا ہوں گے جو انہیں دیے جائیں۔ اس لئے پہلے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کن حقوق کی بات کی جا رہی ہے۔

عورت کے حقوق کا تعین کرنے سے پہلے یہ تو طے کر لیا جائے کہ ہمارے معاشرے میں عورت انسان ہے بھی یا نہیں۔ مناسب ہو گا کہ اس سلسلے میں وطن عزیز کے نظریاتی محافظوں یعنی اسلامی نظریاتی کونسل، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور دفاع پاکستان کونسل سے رائے طلب کی جائے کہ کیا عورت کو انسان سمجھنا جائز بھی ہے؟ یعنی پہلے یہ بنیادی سوال تو طے کر لیا جائے کہ ہمارے معاشرے میں عورت کو انسانوں والے حقوق دینے ہیں یا ملکیتی جنس از قسم بھینس، بھیڑ اور بکری والے۔ اس کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ اسے کتنی آزادی دی جا سکتی ہے۔

برائے بحث اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ فیصلہ آ گیا کہ عورت بھی انسان ہے تو پھر اسے وہی سب حقوق اور آزادیاں دینے ہوں گے جو مرد خود کو دیتے ہیں۔ یعنی وہ تعلیم حاصل کر سکیں گی، ملازمت کر سکیں گی، اپنی مرضی سے اپنا جیون ساتھی چن سکیں گی، اور اپنی مرضی کا لباس پہن سکیں گی اور وہی دیگر کام کر سکیں گی جو مرد کرتے ہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ نا صرف ہماری قومی غیرت، تہذیب اور ثقافت کے خلاف ہے بلکہ بعید نہیں کہ 1973 کے دستور کے خلاف بھی ہو۔ دستور میں متعلقہ شق نہ ملے تو نظریہ ضرورت کو کام میں لا کر اہم ملکی و معاشرتی مفادات کو بچایا جا سکتا ہے۔

اگر عورتوں کے بارے میں یہ فیصلہ آئے کہ ہمارے معاشرے میں ان کا مقام انسان والا نہیں بلکہ بھیڑ، بھینس اور بکری والا ہے، تو پھر انہیں دی جانے والی آزادیوں کا سیٹ دوسرا ہو گا۔

پھر یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ انہیں اس کھونٹے سے کتنی دور تک جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے جس سے انہیں باندھا گیا ہو اور اس کے حساب سے رسی لمبی یا چھوٹی کی جا سکتی ہے۔ یہ فیصلہ بھی مردوں کو ہی کرنا پڑے گا کہ ان عورتوں نے اپنی زندگی کیسے گزارنی ہے، پڑھنے لکھنے کی تعلیم پانی ہے یا مختلف کرتب دکھانے کی، اور پھر ان کا مالک کون مرد ہو گا جس کے حوالے انہیں کیا جائے گا۔ اور وہ مالک چاہے تو اس ملکیتی عورت کی کھال اتار دے یا اسے الٹا لٹکا دے، یا کسی قصائی کے حوالے کر دے، یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے۔ بھیڑ بکری کے تو یہاں یہی حقوق ہوتے ہیں۔

سو بہتر ہے کہ مارچ اور جوابی مارچ کرنے سے پہلے اس بنیادی سوال کو طے کیا جائے کہ ہمارے معاشرے میں عورت انسان ہے بھی یا نہیں۔ اس کے بعد اس کے حقوق کو طے کر لیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1297 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply