گزشتہ دو چار برس سے خواتین کے ایک گروہ نے حقوق پانے کے نام پر دن منانا شروع کر دیا ہے۔ پہلے تو ذی شعور لوگوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ انہیں جتنے حقوق درکار تھے وہ انہیں دیے جا چکے ہیں، مزید کی توقع مت رکھیں اور انہیں نظرانداز کر دیا۔ مگر وہ مارچ کرتی رہیں۔ پھر ان کا خوب مذاق اڑایا گیا کہ گھر میں بیٹھی عورت ملکہ ہوتی ہے اور گلی میں نکلنے والی بہت بری۔ مگر وہ مارچ کرتی رہیں۔ پھر انہیں خوب ڈرایا دھمکایا گیا کہ انہیں کسی قیمت پر مارچ نہیں کرنے دیا جائے گا، مگر وہ مارچ کرتی رہیں۔ اور اب مخالفین خود اس دن گھر بیٹھنے کی بجائے اپنی عورتیں گلی میں لا کر عورت مارچ کرنے لگے ہیں گو ان کے حقوق کا سیٹ مختلف ہے۔
اب یہ معاملہ تو طے ہوا ہے کہ دونوں گروہ اس بات پر متفق ہیں کہ عورتوں کو کسی قسم کے حقوق کی ضرورت ہے، مگر اس بات پر اتفاق نہیں ہو پا رہا ہے کہ وہ حقوق کیا ہوں گے جو انہیں دیے جائیں۔ اس لئے پہلے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کن حقوق کی بات کی جا رہی ہے۔ عورت کے حقوق کا تعین کرنے سے پہلے یہ تو طے کر لیا جائے کہ ہمارے معاشرے میں عورت انسان ہے بھی یا نہیں
Read more