گرم کھانے اور گمشدہ موزوں کی جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا جسم میری مرضی جیسے مشہور سلوگن کو ابھی زیادہ وقت نہیں ہوا تھا کہ عورت مارچ کے شرکا اس برس ٕ اپنے مزید سلوگنز کے ساتھ میدان میں آ گئے ہیں۔ ایک بار کشور ناہید نے کہا تھا کہ عورت کے آگے نہ بڑھنے کی اصل وجہ مرد کی گرم روٹی ہے۔ دیکھا جاے تو گرم روٹی کی عادت تو خود عورت نے ہی مرد کو ڈالی ہے۔ اب جب مرد کی عادتیں خراب ہو چکی ہیں تو عورت نے یہ نعرہ لگانا شروع کر دیا ہے کہ اپنا کام خود کرو۔ کھانا خود گرم کرو، موزے خود تلاش کرو، کپڑے خود دھونا سیکھو، وغیرہ وغیرہ۔

فرمائشوں کی فہرست خاصی طویل ہے۔ اب لگتا ہے کہ نکاح نامے میں بھی یہ شرط ہوگی کہ لڑکا گھرداری میں بھی ماہر ہو۔ میری ایک دوست مجھے اکثر بتاتی ہے کہ اس کے شوہر نامدار کو وقت بے وقت بھوک لگنے کی بیماری ہے۔ اگر ان کا آدھی رات کو بھی پراٹھا کھانے کو دل کرے گا تو وہ اسے اٹھائیں گے اور اسے پراٹھا بنانا پڑے گا۔ بقول اس کے اس کے شوہر میں کچھ عادتیں اتنی اچھی ہیں کہ اس نے اس بری عادت کو قبول کر لیا ہے۔ جس سے اب اسے کوفت نہیں ہوتی۔

عورت مارچ میں موجود خواتین کے چہروں میں میں نے اپنی دوست کا چہرہ بہت تلاش کیا کہ شاید وہ یہ بنیر اٹھاے کھڑی ہو کہ آدھی رات کو اپنا پراٹھا خود بناؤ۔ میرے ابو کی گمشدہ عینک اکثر میں ہی تلاش کرکے دیتی ہوں کیونکہ میں ان کی عادتوں اور خفیہ جگہوں سے بہت اچھی طرح واقف ہوں۔ میری ایک دوست شادی کے بعد بہت خوش تھی۔ وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس کے سسرال میں تمام مرد اپنے کپڑے خود استری کرتے ہیں اس لئے اب کم ازکم اسے اپنے شوہر کے کپڑے نہیں استری کرنے پڑیں گے۔

حیرت ہے کہ کوئی پلے کارڈ کپڑے استری کرنے کے حوالے سے کیوں نہیں تھا۔ اب مردوں کے کپڑے استری کرنا کون سا آسان کام ہے۔ ان بینرز کو دیکھ کر لگتا تھا کہ شاید عورتوں کے یہی مسائل ہیں۔ حالانکہ ہماری عورت تو جدید تعلیم، اپنی مرضی کے ووٹ ڈالنے اور جائیداد میں حصے سمیت کئی مسائل میں الجھی ہوئی ہے۔ جن کی بات کرنی بہت ضروری ہے۔ عورت اور مرد کا محبت کا رشتہ ہے اور محبت میں ہم گرم کھانے اور گمشدہ موزے کو تلاش کرنے سمیت کئی کام ہنستے ہنستے کر جاتے ہیں۔

ایسے کام بھی کرتے ہیں جو ہم نے کبھی نہیں کیے ہوتے مگر کسی کی محبت میں کر گزرتے ہیں۔ میں تو ایسے بہت سے مردوں کو جانتی ہوں جو کھانا خود بناتے ہیں۔ بچوں کے پیمپر تبدیل کرنے سمیت بہت سے گھریلو کام کرتے وقت ماتھے پر ایک شکن تک نہیں لاتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ یہ سب اپنے خاندان کے لئے کر رہے ہیں۔ یہی کوئی لگ بھگ ایک سال پہلے کی بات ہے مجھے لکھاریوں کے ایک وفد کے ساتھ کیلاش جانے کا موقع ملا۔ راستے میں دیر کے مقام پر ہم نے رات کا کھانا ایک پختون گھرانے کے ساتھ کھایا۔

اس خاندان کے بزرگ خواتین کے ساتھ مل کر کھانا لگا رہے تھے اور دیگر کاموں میں بھی ان کی مدد کر رہے تھے۔ مرد و عورت مل جل کر ہی گھر چلاتے ہیں۔ عورت اگر زیادہ کام کرلیتی ہے تو یہ بھی وہ محبت میں ہی کرتی ہے اور بدلے میں صرف محبت ہی تو مانگتی ہے۔ گرم کھانوں اور گمشدہ موزوں کی بحث سے باہر نکل کر خواتین کے حقیقی مسائل کو اجاگر کریں جو کہ وقت کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *