عورت مارچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل عورت مارچ کے حوالے یہ بحث بہت عام ہے اور ہر طرف اسی پر بات ہو رہی ہے کہ ”میرا جسم میری مرضی“ دراصل اس نعرے کو غلط لیا جا رہا ہے اور آج کل اس پر ہر پلیٹ فارم پر بات ہو رہی ہے۔ اور جس طرح کے الفاظ سوشل میڈیا پر استعمال کیے جا رہے ہیں وہ نا قابلِ برداشت ہیں۔ جب ہم عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو اس نعرے کو تبدیل کر دینا بہتر ہو گا تاکہ اس نعرے کا جو مقصد تھا وہ واضح ہو سکے۔ جب ہم ایک عورت کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے ماں کا خوب صورت چہرہ نظروں کے سامنے آتا ہے۔

عورت کا سب سے خوبصورت روپ ماں ہے۔ جس کے قدموں تلے اللّٰہ تعالٰی نے جنت رکھی ہے۔ یہی ماں بیٹی یا بیٹا پیدا کرتی ہے۔ گو کہ یہ بھی اس کے اپنے ہاتھ میں نہیں جس پر اس کو اذیتیں دی جاتی ہیں کہ بیٹا پیدا کیوں نہیں کیا۔ یہ ایک الگ بحث ہے۔ ماں ہی وہ ہستی ہے جو اپنے بچوں کی پرورش و تربیت کرتی ہے اور وہ یہ کام اکیلے نہیں کرتی بلکہ اپنے شوہر کے ساتھ مل کر کرتی ہے جو اس کی ڈھال ہے۔ اس کا مان ہے ’جو اس کی چادر ہے‘ جو اس کو زمانے کی اونچ نیچ اور بری نظر سے بچاتا ہے۔

جیسے عورت کے بہت سارے خوبصورت روپ ہیں بالکل اسی طرح مرد کے بھی کئی خوبصورت روپ ہیں جن میں باپ اور بھائی سہرفہرست ہیں جو دنیا کے سب سے خوبصورت رشتے مانے جاتے ہیں جن کا ہونا عورت کو تحفظ دیتا ہے۔ مرد ہو یا عورت دونوں ایک دوسرے کے بغیر نا مکمل ہیں۔

بحیثیت عورت ہماری بہت ساری ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو کہ ایک عورت بخوبی نبھاتی ہے کیونکہ اللّٰہ نے عورت کو اتنا مضبوط بنایا ہے ’اتنی ہمت دی ہے‘ حوصلہ عطا کیا ہے کہ وہ اپنی تمام ذمہ داریاں بخوبی نبھاتی ہے۔

ایک عورت تربیت کرتی ہے ’گھر کو جنت بناتی ہے۔ زندگی میں خوبصورت رنگ بھرتی ہے‘ پھر یہ عورت گھریلو خاتون ہو یا ورکنگ اپنا ہر کردار بخوبی نبھاتی ہے اور یہ صلاحیتیں اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے عطا کردہ ہیں۔

عورت کو اسلام نے بہت اعلٰی مقام عطا کیا ہے۔ عزت و احترام تو ہر انسان کا بنیادی حق ہے پھر چاہے وہ عورت ہو یا مرد۔ ایک چھوٹے بچے کی بھی عزتِ نفس ہوتی ہے تو پھر ہمیں کسی کی تذلیل کرنے کا کوئی حق نہیں بنتا۔ میں کسی ایک کی طرف داری نہیں کرتی لیکن ہر بندے کی اپنی سوچ اور شخصیت ہے۔ ہمارا بولا ہر لفظ ’ہر عمل ہماری تربیت کی طرف انگلی اُٹھاتا ہے۔ اس تربیت کی طرف جس میں ماں کا لفظ سب سے پہلے آتا ہے۔

میں ”میرا جسم میری مرضی“ کے نعرے کے خلاف ہوں یہ نعرہ تبدیل ہونا چاہیے کیونکہ اس کو غلط پیرائے میں لیا جا رہا ہے اور بہت سارے ایسے اہم مسائل ہیں جن کی طرف توجہ مبذول کروائی جانی چاہیے۔ ریپ کیا جا رہا ہے جس میں چھوٹی کم سن بچیاں بھی شامل ہیں یہ ایک سنگین مسلئہ بن چکا ہے ہم اس بارے ہیں کیوں نہیں سوچتے ان لوگوں کی ذہنی غلاضت کے حل کا کیوں نہیں سوچتے تاکہ ہماری پھول جیسی بچیاں محفوظ ہو سکیں۔

جو عورت پر تشدد ہوتا ہے ’مار پیٹ ہوتی ہے اس پر بات ہونی چاہیے اس کا حل نکلنا چاہیے۔

ہراسمنٹ پر بات ہونی چاہیے بے شک ہراسمنٹ مردوں کے حوالے سے ہو یا عورتوں کے حوالے سے۔ خواتین کو کیسے ہراساں کیا جاتا ہے کالج ’یونیورسٹیوں میں یا دفتروں میں اس پر بات ہونی چاہیے اس کا سدِباب ہونا چاہیے تاکہ خواتین ذہنی سکون سے نوکری کر سکیں اور اپنے گھر کے اخراجات اُٹھا سکیں۔ ہمیں معاشرے کی بہتری کی طرف اقدامات کرنے چاہیے نہ کہ بگاڑ کی طرف۔ ہمیں ایسے اقدامات کرنے چاہیے جس سے معاشرے میں سکون‘ امن اور اطمینان کی فضا قائم ہو سکے۔

اس ضمن میں ہمیں اپنے سوشل میڈیا کو مثبت طریقے سے استعمال کرنا چاہیے تاکہ دنیا میں ہمارا ایک بہتر اور مثبت چہرہ نظر آئے۔ ہمیں ہر منج کو پھر چاہے وہ ٹی وی ہو ’فیس بک ہو یا کوئی بھی سوشل میڈیا مثبت استعمال کرنا چاہیے۔ مناسب لفظوں کا استعمال کریں۔ ہم اپنی نوجوان نسل کو کیا سکھا رہے ہیں ان کی کیا تربیت کر رہے ہیں ان کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں یہ سوچنا چاہیے ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا چاہیے۔

ہر بندے کو اپنی اپنی جگہ مثبت سوچنا چاہیے ’اصل مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اولین کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہمارے بولے گئے لفظوں سے کسی کو تکلیف نہ ہو۔ ہماری تربیت پر سوال نہ اُٹھے۔ عزت دیں اور عزت لیں۔ اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اک دوسرے کی عزت اچھالنے کی بجائے تحفظ فراہم کریں اور مل جل کر اصل مسائل کے حل کی طرف کام کریں۔ تاکہ ہمارا مستقبل‘ ہمارا معاشرہ ’ہمارے بچے اور ہمارا ملک ترقی کر سکے اور ہم سب با حفاظت‘ با عزت طریقے سے اپنی زندگی گزار سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *