کون ہے اُلو کی پٹھی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ تعالیٰ ہرچیز پرقادرہے اوراس نے اپنے کلام میں یہ وضاحت بھی کردی تاکہ کوئی کسی شک میں نہ رہے، اگرخدا چاہتا تو دنیاصرف مردوں سے ہی بھر دیتا، تخلیق آدم کے بعد صنف نازک کو پیدا نہ فرماتا مگر اس کی ذات نے عورت کو پیدا کیا اور مرد سے ہی پیدا کیا۔ جمہور مفسرین کی رائے کے مطابق حضرت حوا کی پیدائش حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے ہوئی اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت حواء کی پیدائش اللہ تعالی نے حضرت آدم کو بناتے وقت بچی ہوئی مٹی سے کی۔ بہرحال پسلی سے حضرت حوا کی پیدائش پر سبھی متفق ہیں۔

دنیا کی پہلی عورت اس کائنات کے پہلے مرد کے جسم سے پیدا کی گئی، معلوم کیا ہوا کہ عورت اور مرد الگ الگ مخلوق نہیں، ان دونوں کا ایک ہی خالق ہے، دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ گہرا رشتہ ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ جیسے ہم اپنے جسم کے کسی حصے کو کاٹ کر الگ نہیں کرسکتے، ہمارا جسم بے ڈھنگا ہو جائے گا اور ہمیں اس کی تکلیف بھی ناقابل برداشت ہو گی، ممکن ہے کہ اگر کسی خاص حصے کو کاٹ کر الگ کر دیں تو موت بھی واقع ہو جائے۔ عورت کا مرد کے ساتھ رشتہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، ضرورت صرف احساس کرنے کی ہے۔

ہمیں یہ احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ عورت اگر ماں ہے تو اس کامقام کیا ہے، اس عورت کو جو کسی کی ماں ہے، اسے اتنا عظیم رتبہ ملا ہے کہ اولاد کے لیے اس کے قدموں میں جنت رکھ دی ہے، یعنی اس کا احترام کرنے، خدمت کرنے اور اسے خوش رکھنے کے بدلے اگلے جہان جنت ملے گی، اس سے بڑا رتبہ کسی عورت کے لیے اور کیا ہو سکتا ہے؟ پھر اس کا دل دکھانے، اسے ناراض کرنے اور بڑھاپے میں اس کے آگے اُف تک نہ کرنے کاحکم دیا گیا ہے، یہ ایک مرد ہی ہے جسے ایک عورت کے بارے میں اس قدر محتاط رہنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح ایک مرد کی زندگی میں اس کی بیوی ہے، اس کی بہن ہے، اس کی بیٹی ہے، ان تمام عورتوں کو بھی اسلام نے عزت کامقام دیاہے، بے توقیر نہیں کیا، ان کے جسموں کی حفاظت، ان کی طرف بری نظریں نہ اٹھانے اور شرم و حیا کا درس دیا گیا ہے، یہ سارے مقام ایک مذہب ہی عورت کو دے رہا ہے۔

اسی طرح مرد کے معاملات ہیں تو مرد ایک باپ ہو، ایک بیٹا ہو یا ایک شوہر ہو عورت کا اس سے جو بھی رشتہ ہو اسے اس کی قدر کا درس دیا گیا ہے، نہ کہ ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیارکرنے کا کہا گیا۔ اگر ہم میاں بیوی کی بات کرتے ہیں دونوں کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے، ایک لباس انسانی جسم کے لیے کتنا ضروری ہے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں، ایک پل کے لیے فرض کرلیں کہ اگر انسان کے جسم پر لباس نہ ہو تو وہ مرد ہو یا پھر عورت بے توقیرہو جائیں گے، لہذا موسم کے اثرات سے بچنے کے ساتھ ساتھ لباس انسان کو عزت بھی دیتا ہے لہذا مرد و خواتین دونوں ہی ایک دوسرے کی عزت ہیں، ان دونوں کو ہی ایک دوسرے کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔

مذہب نے ہمیں کامیاب زندگی گزارنے کے تمام گر بتائے ہیں مگر مسئلہ صرف یہ ہے کہ لوگ مذہب سے بیزارہیں اوراپنے ذہن کے مطابق مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں اور پھر معاشرے میں بگاڑ کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

اب مجھے یہ بتائیں کہ دنیا کا کون سا مذہب ہو گا جو زنا بالجبر کی اجازت دیتا ہے؟ زنا بالجبر کی اجازت نہ کسی مذہب میں ہے، نہ کسی دنیا کے قانون میں ہے بلکہ یہ ثابت ہونے کی صورت میں سخت سزائیں دنیا کے قوانین میں بھی موجود ہیں اور مذہب تو ایسی سزائیں دیتا ہے کہ ایک بار کوئی یہ سزا ملتی دیکھ لے تو اگلی نسلوں کو بھی منع کر جائے کہ یہ جرم کرنے کا سوچنا بھی مت، پھرمسئلہ کہاں پیدا ہوا کہ ہم مذہب سے بیزار ہو گئے اور مسائل نے ہمیں گھیر لیا؟

یہ بھی مذہب سے ہی دوری ہے کہ جب یہ نعرہ وجود میں آیا ”میراجسم، میری مرضی“۔ ایک خاتون کہتی ہیں اور علی الاعلان کہتی ہیں کہ ہمارے جسم پر آپ کی مرضی نہیں چلے گی، ہم جتنے بچے چاہیں گی پیدا کریں گی، نہیں چاہیں گی تو نہیں پیدا کریں گی۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم چاہیں گی تو ہمارے شوہر ہمارے ساتھ تعلق بنائیں گے، نہیں چاہیں گی تو نہیں بنائیں گی۔ اس موقف پر میں کچھ نہیں کہوں گا، آپ خود فیصلہ کریں کہ محترمہ ہنستے بستے گھروں میں کس طرح باغیانہ سوچ کو ہوا دینے کی کوشش کررہی ہیں۔

کوئی زور زبردستی نہ قانون میں ہے، نہ مذہب میں ہے، ہم یہ بات کرلیتے ہیں کہ ایک عورت اگر شادی کے بعد اپنے شوہرکی جنسی خواہش پوری نہیں کرنا چاہتی تو بتایا جائے کہ پھر اس عورت کو شادی کرنے کی ہی کیا مجبوری ہے؟ قانون موجود ہے کہ کسی کی یہاں زبردستی شادی نہیں کی جاتی، مرد سے بھی تین بار پوچھا جاتا ہے اور عورت سے بھی اجازت لی جاتی ہے اگر وہ قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے، نہیں کہتی تو اسے رشتہ ازدواج سے منسلک نہیں کیا جا سکتا، حالانکہ دو خاندان اپنے بچوں کے رشتہ طے کرنے سے پہلے بھی اولاد سے ان کی رضا پوچھ لیتے ہیں تو ظاہر ہے کہ دونوں نے ذہنی طور پر ایک دوسرے کا جیون ساتھی بننا قبول کر لیا ہے، پھر بھی نکاح کے وقت نہ صرف زبانی پوچھا جاتاہے بلکہ فریقین، گواہوں کے دستخط، انگوٹھے لگوائے جاتے ہیں اور شادی سب کے سامنے کی جاتی ہے اورمذہب بھی یہی کہتا ہے کہ شادی چھپ کر نہ کرو، کھلے بندوں کرو تاکہ سارے معاشرے کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ مردو زن اپنی مرضی سے اب ایک دوسرے پرخود کو جائز قرار دے چکے ہیں۔ اس سارے مسئلے کے بعد اگر پھر بھی ایک عورت اٹھ کھڑی ہو اور کہے کہ میرا جسم میری مرضی ” تو پھر بتایا جائے کہ اس میں غلط کون ہے اور صحیح کون ہے؟

اب ہم آتے ہیں حالیہ عورت مارچ اور اس سے پہلے ایک ٹی وی شو پرماروی سرمد اور ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کی تلخ کلامی کی طرف۔ شو کے دوران ایک سوال پر خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ اگر عدالت نے ’میرا جسم میری مرضی‘ جیسے نعروں پر پابندی لگا دی ہے تو جب میں یہ جملہ بولتے سنتا ہوں تو میرا کلیجہ ہلتا ہے۔ ماروی سرمد نے مداخلت کی اور ’میرا جسم میری مرضی‘ کا نعرہ دہرا دیا، حالانکہ وہ یہ بات اپنی باری پر بھی کر سکتی تھیں کیوں کہ وہ بھی پروگرام کا باقاعدہ حصہ تھیں جس پر خلیل الرحمان قمر سیخ پا ہوگئے۔ پروگرام کا وہ کلپ ہمارے معاشرے کا ہر وہ شخص سن چکاہے جس کے ہاتھ میں موبائل ہے اورجن کے پاس نہیں وہ کسی دوست کے موبائل میں دیکھ چکے ہیں، جو رہ گئے وہ ٹی وی چینل پر بار بار ریٹنگ کے چکر میں چلائے جانے کے بعد مستفید ہو چکے ہیں۔

میں اوپر وضاحت کر چکا ہوں کہ مرد و خواتین کی اپنی اپنی عزت ہے اسے روندا نہیں جا سکتا، بات صرف ماروی سرمد کی ہے، نہ خلیل الرحمان کی ہے۔ دونوں نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق جو کہنا تھا کہہ دیا، اب ہم سب، پورا معاشرہ خواتین کے جسم کو کیوں موضوع بحث بنا رہا ہے، ہم خود ہی کیوں اپنی عزتوں کے جنازے نکال رہے ہیں؟

قرآن نے بھی واضح کہہ دیا، قانون میں کوئی ابہام نہیں، ظلم و جبر کی نہ اجازت ہے، نہ زور زبردستی کرنے والوں کو معاف کر دینے کا قانون ہے، ان قوانین پر عملدرآمد کے لیے معاشرے کے سنجیدہ حلقوں کو ضرور آواز بلند کرنی چاہیے مگر ”میراجسم، میری مرضی“ جیسے نعرے لگا کراپنی ماؤں، بہنوں، بیٹٰیوں کے سامنے قوم کو شرمندہ نہ کریں۔ معاشرے کی سبھی خواتین قابل صد احترام ہیں، انہیں سربازار بے توقیر نہ کریں، نہ ان کے جسموں پر تھوکنے اور غلیظ جملے کسنے کاجرم کریں۔

میڈیا کے ان ذمہ داروں کو بھی ”گھٹیا عورت، “ الو کی پٹھی ”“ بدتمیز عورت ”اور اس جیسے اخلاق سے گرے الفاظ کوآن ائیر کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ آن ائیر جاتے ہوئے بھی الفاظ کو روکنا اختیار میں ہوتا ہے، معاشرے کی بہتری نہیں کر سکتے تو اسے گالیاں مت سکھائیں کہ یہی گالیاں کل کوہمارے بچے ہی ہمیں نہ دیناشروع کردیں، جن بچوں کو سوال کرنے کی عادت ہے، وہ ٹی وی پرسن کر اپنے والدین سے پوچھ لیتے ہیں کہ ماما، پاپا، یہ کیا ہے؟ اس کا کیا مطلب ہے؟ فرض کریں میرا یا آپ کا بچہ ہم سے یہ سوال کرلے کہ ٹی وی پرایک نیا جملہ سنا ہے، سمجھ نہیں آ رہی“، پاپا ”یہ اُلو کی پٹھی کون ہے؟ کیا جواب دیں گے ہم؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *