حمیرہ بچل کی کہانی جس نے علم کی روشنی پھیلانے کا خواب دیکھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کامیابی حاصل کرنے کے لیے خواب دیکھنا اور ان کی خوبصورتی پر یقین رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر آنکھوں میں سپنوں کا رتجگا نہ ہو تو روشن صبح کی نوید بھلا کیونکہ ممکن ہو؟ حمیرہ بچل ایسی ہی ایک سچی اور غیر معمولی لڑکی کا نام ہے کہ جس نے غربت کی گود میں آنکھ کھولی مگر اپنے نا مساعد حالات کے باوجود بڑی جراتمندی سے علم کی روشنی پھیلانے کا نہ صرف سپنا دیکھا بلکہ اپنی انتھک محنت، ثابت قدمی اور صداقت کے بل بوتے پر خواب کو تعبیر بنتے بھی دیکھا اور دنیا پر یہ ثابت کردیا کہ ”اگر جذبہ سچا ہو تو کسی شے کا حصول ناممکن نہیں۔ “

حمیرہ سے میرا پہلا تعارف ایک بہت ہی متاثر کن دستاویزی فلم ”اے اسمال ڈریم“ کے حوالے سے ہوا۔ جس کو گلنار تبسم نے تیار کیا۔ چوبیس منٹ کی اس فلم کو دیکھ کر جہاں میرا دل امید وانبساط کے عالم سے سرشار ہوا وہاں کئی بار آنکھیں نم ناک بھی ہویئں، صدمہ سے نہیں بلکہ ایک کم عمر لڑکی کے جذبہ کی صداقت کے احترام میں۔

حمیرہ نے سات مارچ 1987، ٹھٹھہ، سندھ میں زینب بی بی اور محمد بچل کے گھر جنم لیا۔ اس کا باپ معمولی مزدور اور ماں جنگل میں درختوں کی لکڑیاں کاٹتی اور گھر میں سلائی کی مشین پر اجرت پر کپڑے سیتی۔ بلوچی روایت کے برعکس زینب بی بی نے اپنی بیٹیوں حمیرہ اور طاہرہ کی تعلیم کے خواب دیکھے۔ حمیرہ کا کہنا ہے کہ ”آج جو کچھ بھی ہوں اپنی ماں کی وجہ سے ہوں۔ “ گویا حمیرہ کا خواب اس کی ماں کے خوابوں کی کڑی ہے۔ جن کا کہنا تھا ”تعلیم عورت کا حق ہے یہ گناہ نہیں۔ تعلیم زندگی کو بہتر بناتی ہے اورمیاں کی محتاجی (معاشی دست نگری) سے بچاتی ہے“ اپنی سوچ پر یقین رکھتے ہوئے زینب بی بی نے پورے خاندان سے لڑائی مول لے کر بچیوں کو اسکول میں داخل کیا۔ دو سال تک ٹھٹھہ کے اسکول میں پڑھانے کے بعد بچل گھرانہ کراچی کی ایک غریب نواحی بستی مواچھ گوٹھ منتقل ہوگیا۔

گو کہنے کو صنعتی بندرگاہ کراچی ایک جدید شہر ہے لیکن اٹھارہ ملین کی آبادی میں سے چالیس فی صد کچی آبادیوں پہ مشتمل ہے جہاں بیماریوں، تنگ دستی اور جہالت کا بسیرا ہے۔ جہاں کے بچے اپنے گھروں کا چولہا گرم رکھنے کے لیے دیہاڑی پہ کام کرکے خود فیکٹریوں کا ایندھن بن جاتے ہیں۔ حمیرہ کی ماں نے اپنی محنت کو دوگنا کرکے بچیوں کو اسلامی پبلک اسکول بھیجنا شروع کردیاجو ایک پرائیوٹ ادارہ تھا۔ صبح سویرے حمیرہ کا اپنی بہن کے ساتھ اسکول جانا ایک سزا سے کم نہیں تھا کیونکہ محلے کے دوسرے بچے اسکول نہیں جاتے تھے۔

جلد ہی حمیرہ کو اندازہ ہوا کہ وہ کتنی خوش نصیب ہے اور باقی بچے کتنی محرومی کا شکار ہیں۔ ”جن گھروں میں دو وقت کھانانہیں بنتا وہ کس طرح بچوں کے لیے اسکول کی کتابیں خرید سکتے ہیں؟ “ ہمدرد، محنتی اور روشن دماغ نو دس سالہ حمیرہ نے سوچا اورفیصلہ کیا ”اگر محلے کے بچے اسکول نہیں جا سکتے تو ہم ان کو پڑھا سکتے ہیں۔ اس طرح اپنے گھر کی دیوار کو کا لے رنگ کا“ بلیک بورڈ ”بناکر اپنی پینسل اور بچی ہوئی کاپی کے اوراق کو استعمال کرتے ہوئے اس نے چٹائی بچھا کر اپنے گھر سے“ پہلی درسگاہُ ”کی ابتداکی۔

ہر روز اسکول سے آنے کے بعد وہ باہر کھیلنے والے بجوں کو علم کی دعوت دیتی اور جو کچھ بھی اسکول سے سیکھ کر آتی اس علم کو ان بچوں میں بہت سچائی کے ساتھ منتقل کرتی۔ اس کے ا ندر قدرتی طور پہ قائدانہ صلاحیتوں تھیں۔ اس نے اپنی دوسری ہم جماعت لڑکیوں کو اس ”تعلیمی مشن“ کی دعوت دی۔ جلد ہی اس کے گھر نے ایک چھوٹی سی درس گاہ کی شکل اختیار کرلی کہ جس کی اساتذہ گیارہ بارہ سال کی کمسن لڑکیاں تھیں۔

آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد اسکول میں سائنس کا مضمون نہ ہونے کی وجہ سے حمیرہ نے اپنے گھر سے تین کلو میٹرکے فاصلے پر بلدیہ ٹاؤن کے سرکاری اسکول ”انجام“ میں داخلہ لے لیا اور میٹرک میں اے گریڈ سے کامیابی حاصل کی۔ اس اسکول میں اسے پروکٹر منتخب کیا گیا جو بہت سود مند ثابت ہوا۔ اس نے جماعت کے باہر ایک ڈبہ رکھ دیا اور طالبات سے عاجزانہ درخواست کی کہ اگر پنسل چھوٹی ہوجائے یا شاپنگ اور ایریزونا پھینکنے کا ارادہ ہو تو اس کو ان ڈبوں میں بطور عطیہ ڈال دیا جائے۔

اس طرح یہ جمع شدہ اشیاء اپنی مدد آپ کے اصولوں پر چلنے والے تعلیمی ادارے کی معاونت کررہی تھیں کہ جہاں اب بچوں کی تعدادمیں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ تاہم اس کامیابی کے ساتھ ساتھ تعلیمی محاذ کے ان ”کمسن سپہ سالاروں“ کو ناکامیوں کا سامنا بھی کرناپڑتا۔ حمیرہ اور اس کے ساتھی گھر گھر جاتے لوگوں کو سمجھاتے تو انہیں ڈانٹ پڑتی۔ لوگ ہم پہ دروازے بند کر دیتے اور کہتے ”تم لوگوں نے پڑھا اچھا کیا مگر ہم اپنے بچے نہیں پڑھائیں گے“۔

یہ تو تھا باہر کا محاذ۔ حمیرہ کو گھر کے اندر خود اپنے باپ کی مخالفتوں کا سامنا تھا۔ جو بلوچی قبیلے کی روایات کا پر وردہ ہونے کے وجہ سے لڑکیوں کی تعلیم کا سخت مخالف تھا۔ ان کی علم کی مخالفت کاواقعہ حمیرہ کی زندگی کا یادگار واقعہ ہے۔ ہوا یوں کہ ان دنوں حمیرہ کے نویں کے امتحانات چل رہے تھے۔ حمیرہ کے باپ نے اس کی ماں سے تعلیم کی مخالفت میں نہ صرف زبانی لڑائی کی بلکہ اتنا مارا کہ ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ لیکن علم کی شیدائی زینب بی بی نے ہار نہ مانتے ہوئے حمیرہ کے ہاتھ میں کتابیں دے کر کہا۔ ”کتابیں لے کر بھاگ جاؤ۔ “ حمیرہ گھرسے باہر بھاگ گئی اور پھر امتحان دیا۔ وہ اعلیٰ نمبروں سے کامیاب ہوئی۔

اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ غریب بچوں میں ”مفت“ تعلیم دینے کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ بچوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے اب حمیرہ کے گھر کے بجائے ایک دو کمروں کی عمارت میں تعلیمی سلسلہ جاری تھا۔ جس کو ننھی اساتذہ اور کچھ دوسرے افراد کی مہربانیوں کی صورت مدد حاصل تھی۔ حتی کہ ایک دن خدا کی مہربانی سے غیر متوقع مدد آگئی اور یہ مدد تھی 2005 میں اے آرایم (ARM) یوتھ ویلفیر سوسائٹی کی۔ جو دراصل لیاری کے علاقے میں اسکول کے اجراء کی غرض سے جائزہ لینے آئی تھی۔ اس ٹیم کو کسی نے مواچھ گوٹھ کے اس اسکول کا ذکر کیا کہ جو حمیرہ اپنی دوستوں کی مدد سے چلا رہی تھی۔

جب اے آر ایم یوتھ ویلفیر کی تنظیم کے نمائندے اسکول پہنچے تو وہ حیرت میں ڈوب گئی کہ جہاں کم عمر اساتذہ تھے اور سب سے بڑی بچی استاد کی عمر پندرہ سال کی تھی۔ اور جو بلا معاوضہ سو سے زیادہ بچوں کو بہت اعلی معیار کی تعلیم دے رہی تھیں۔ یہ جذبہ، محنت اور تنظیم دیکھ کر اس ادارے نے فیصلہ کیا کہ روٹری کلب کے زیر تعاون اس اسکول کو باقاعدہ بڑی عمارت میں منتقل کیا جائے۔ اس طرح حمیرہ بچل کے گھر کی چٹائی سے شروع ہونے والا اسکول اب ڈریم ماڈل اسٹریٹ اسکول میں تبدیل ہواہے اور جہاں اب بارہ سو بچے زیر تعلیم ہیں۔ حمیرہ نے تعلیم کی خوشبو بکھرنے کا خواب بہت صدق دل سے کم عمری میں ریکھا تھا اور آج اس کی تعبیر دنیا پہ آشکارہ ہے۔ اس کا ادارہ تعلیم جنس، فرقہ اور مذہب کی تفریق کے بغیر اپنے تعلیمی مشن پر گامزن ہے۔

حیرت اور انبساط کی بات تو یہ ہے کہ روایتی بلوچوں کی بستی میں قائم اس اسکول میں ان گھرانوں کی لڑکیاں تعلیم حاصل کررہی ہیں کہ جن کے خیال میں تعلیم فحاشی اور جنسی بے راہروی کو جنم دیتی ہے اور لڑکیوں کے زندگی کا مقصد شادی کے بعدشوہر اور سسرال کی خدمت کرنا ہے۔

اسکول میں مندرجہ ذیل اہم پروگراموں پر کام ہورہا ہے۔

1۔ خواتین کا تعلیمی پروگرام ”ہوم اسکول لٹریسی پروگرام“۔ جس کے تحت بنیادی سے ہائی اسکول تک کی تعلیم پانچ سال کی مدت میں دی جاتی ہے تاکہ تعلیم کی تکمیل کے بعد نوکری کا حصول آسان ہو۔

2۔ چائلڈ لیبر نائٹ کلاسز۔ غریب علاقوں میں رہنے والے گھروں کے بچے اکثرگھر کے کفالت کے سبب تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ان بچوں کے لیے رات میں تعلیم بالغوں کی کلاسیں شروع کی گئی ہیں جہاں وہ اردو، انگریزی لکھنا، پڑھنا اوربنیادی حساب سیکھتے ہیں۔

3۔ کمپیوٹر لٹریسی۔ ٹیکنالوجی میں سرعت رفتاری سے ترقی یافتہ دنیا سے مقابلہ کرنے کے لیے کمپیوٹر سے آشنائی اور آئی ٹی کا پروگرام

ڈریم فاونڈیشن ٹرسٹ

اس ٹرسٹ کی بنیاد 2003 میں حمیرہ نے اپنی رضاکار ساتھی اساتزہ کی مدد سے قائم کی تاکہ اس ادارے کے تعلیمی منصوبوں کواپنی مدد آپ آپ اور عطیات کی مدد اے چلایا جائے۔ جن تنظیموں نے انہیں سراہا اور معاونت کی وہ روٹری کلب آف پاکستان، اورنگی چیرٹبل ٹرسٹ، شراکت گاہ اور ینگرو پاک وغیرہ ہیں۔

حمیرہ کے کام کا اعتراف شر مین عبید چنا ئے نے اپنی دستاویزی فلم ”دی ڈریم کیچر“ میں کیاہے۔ جس نے اس کی آواز کوعالمی سطح پہ عام کیا۔ اس کو ویمن آف دی ورلڈ آرگنایزیشن نے ”دنیا کی پانچ بہادر ترین خواتین میں شمار کیا۔ 2013 میں ویمن آف ایم پیکٹ کا ایوارڈ ملا۔ اس کے تعلیمی منصوبوں کو گلوکارہ میڈونا کا تعاون حاصل ہے جبکہ ہالی ووڈ ایکٹرس سلمی ہایک نے Humaira۔ The game Changer فلم بنائی ہے۔

حمیرہ نے مجھ سے ٹیلی فون پہ گفتگو میں کہا ”کوئی بھی بات ناممکن نہیں، بس آپ میں محنت کا جذبہ اور خدا پہ بھروسا ضروری ہے۔ “ وہ اپنی خود اعتمادی کا سرا اپنی والدہ کے بعد اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کے سر باندھتی ہیں۔ جہاں انہوں نے میٹرک کے بعدتحقیقی سروے کا کام کراچی کی مصروف مارکیٹ میں کیا۔

عورتوں کی تعلیم کی مخالفت کرنے ولے ورد حضرات کے متعلق حمیرہ کا کہنا ہے ”مردوں کو یہ خوف لا حق ہے کہ اگرعورت خود مختار ہو گئی تو ان کی وقعت ختم ہو جائے گی، وہ نہیں چاہتے کہ عورتیں میدان میں آئیں اور ان کے کاندھے سے کاندھا ملاکے چلیں۔ “ حمیرہ کی نظر میں تعلیم کی سماج میں ترویج اس کا اہم خواب ہے جو اس نے اپنی عظیم محنت کش ماں زینب بی بی سے ورثہ میں لیا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ خوبصورت سپنا ہم سب کی آنکھوں میں بھی بس جائے۔

آسمانوں پر نظر کر انجم و ماہ تاب دیکھ

صبح کی بنیاد رکھنی ہے تو پھر خواب دیکھ

(افتخار عارف)

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *