سنگی کتابیں، ارنسٹ ہیمنگ وے ؔ، اور خاتون افسانہ نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قصہ دراصل یہ ہے کہ ہمیں ایک عدد کالم لکھنا تھا ایک کتاب ”سنگی کتابیں، کاغذی پیراہن“ پہ۔ یہ کتاب دراصل کنفیوشس کی تعلیمات کا ترجمہ ہے اور اسے ترجمے کے پیراہن میں ڈھالا ہے اپنے یونس خان ؔ بھائی نے۔ جی، جی وہی دھان پان سے نازک سے یونس بھائی، جن کو انڈیا کے معروف و معتبر ادیب مشرف عالم ذوقی ؔنے پاکستانی ارنسٹ ہیمنگ وے ؔ کہا ہے اور صحیح طور یہ نام دیا ہے۔ مگر ہمارا یہ ہیمنگ وے ؔ لحیم شحیم نہیں دھان پان سا ہے مگر اسی طرح پارا صفت ہے، پڑھتا ہے تو پڑھتا چلا جاتا ہے، کبھی پہاڑوں پہ جا چڑھتا ہے اور سفر نامہ لکھ ڈالتا ہے، کبھی فکشن اور کبھی نان فکشن کا کوہ ہمالیہ سر کر لیتا ہے، عجیب منتشر مزاج آدمی ہے۔

کالم کا محرک کچھ یہ بھی تھا کہ اس کتاب کے آنے کی خوشی دوہری تھی کیونکہ اس اعلی اور عمدہ ترجمے کے مقدمے کو لکھنے کی سعادت ہی فدوی کے نصیب میں نہیں آئی بلکہ اس کا عنوان بھی میرے ہی ذہن رَسا کی پیداوار تھا اور جب اس کو فخریہ شیئر کیا کہ اس حقیر پر تقصیر کے حصے میں بھی کچھ پڑھے لکھے لوگوں والا کام کریڈٹ پہ آجائے تو ذہن میں یہی تھا کہ اس کے بعد مترجم جانے اور ترجمہ جانے۔ مگر تحریر کے دوران ہی ایک ”سانحہ“ ہوگیا، ویسے یہ تو اکثر ہوتا ہی رہتا ہے سو اس روزمرہ کو سانحہ کہنا، جانے مناسب بھی ہے یا نہیں۔

خیر ہمارے ایک قاری یوں چہکے ”اَرے واہ میڈم آپ تو اچھی خاصی پڑھی لکھی خاتون ہیں۔ بہت متاثر ہوا میں۔ اتنا سنجیدہ کام! “ ہماری سٹی گم ہوتے ہوتے بچی۔ ہم منمنائے ”جی ہم افسانہ نگار ہیں“ وہ بڑی سنجیدگی سے بولے ”جی مجھے معلوم ہے، خاتون افسانہ نگار ہیں آپ“۔ ان کے لہجے کی سنگینی بتلا رہی تھی وہ جو اَن کہی تھی ”معلوم ہے، تم خواتین کے افسانہ نگاروں کی اوقات، وہی مہندی، چوڑی، جِنس اور چند گھسے پٹے موضوعات کی تکرار، شرم سے ڈوب مَرو، خود کو افسانہ نگار کہتے ہوئے، پڑھنے کی عادت و علت سے کوسوں دور۔”اور ہم تو شرم سے ڈوب کر مر گئے، بھلا ہو لڈن میاں کا کہ دوبارہ زندہ کردیا، یہ تحریر لکھنے کے واسطے۔

اب ان صاحب کو کیا کہتے؟ میاں صرف خواتین ہی نہیں ہمارا عمومی مصنف یا شاعر مرد ہو کہ عورت بلاتخصیص جنس پڑھنے کے مرض سے شفا پا چکا ہے۔ سو آپ صرف ادھر ہی نظر کرم نہ کیجیے بلکہ غیر جانبداری سے کوسئیے مگر مروت کے مارے کہہ نہ پائے۔ کچھ اور نہ سوجھا تو پوچھ ڈالا“ وہ آپ کے ایک شاعر دوست ہیں جن کی شہرت متشاعر کی ہے آپ جانتے تو ہوں گے وہ جن سے لکھواتے ہیں؟

” ہمارے قاری جلال میں آگئے“ اور وہ جو شاعرات کی کثرت متشاعرات کی ہے سب مرد شاعروں سے ہی لکھواتی ہیں ”۔ “ جی آپ نے درست فرمایا ”دل میں سوچا اگلا مضمون“ ارض وطن کے متشاعر و متشاعرات کا اصلی ماخذ ”ہونا چاہیے مگر ایسے جلالی قاری کے منہ مزید لگنا عزت خطرے میں ڈالنا تھا سو خاموشی اختیار کی۔

مزید گویا ہوئے“ ویسے کیا لکھتی ہیں آپ؟ کیا موضوعات ہیں آپ کے؟ ”ہم نے بس اتنا ہی جواب دیا“ جی آپ پڑھ لیجیے گر دل چاہیے ”وہ لاپرواہی سے بولے“ جی پڑھ بھی لیں گے مگر مصنفہ سے سوالات سے معلومات میں مزید اضافہ ہوتا ہے ”ہم نے ذرا تیکھے لہجے میں پوچھا“ جی خاتون مصنفہ سے بات کرنے سے کیا واقعی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے؟”

قاری صاحب ذرا سنبھل گئے، فرمایا“ جی، جی آپ واقعی ایک پڑھی لکھی قابل خاتون ہیں ”۔ پھر فرمانے لگے“ آپ کی کچھ تحاریر پڑھی ہیں، آپ رومانس وغیرہ نہیں لکھتیں؟ ”اَب ہم جی بھرکر بے مزہ ہو چکے تھے سو زبان پھسل گئی“ مردوں کی اوقات دیکھ دیکھ دل ہی نہیں مانتا ”۔ اب موصوف خاصے پڑھے لکھے تھے سو فورا ً رخصت لی۔ اب ہم یہ کہیں کہ موصوف ہمیں سوچ میں ڈال گئے تو مبالغہ ہوگا۔ یہ رویہ، یہ لفظوں کا ہیر پھیر، ایک معمول ہے۔

ہم تخلیق کار کو بھی صنفی عینک لگا کر دیکھتے ہیں اور گر کہانی، افسانے یا ناول کا کردار نسوانی ہو تو اس سے سوائے جنس کے کسی فہم و دانش کا کام لینا گویا گناہ کبیرہ ہو گیا یا اگر ایسے کسی کردار کو جنم دے ہی دیا جائے تو ہم جھٹ سے کسی آفاقی راز کے انکشاف کی بجائے تانیثی عینک اٹھاتے ہیں اور فٹ سے اسے وہاں جڑ کر اطمینان سے بیٹھ جاتے ہیں، اللہ اللہ خیر صلی۔ ایسے حالات میں ہمارے معصوم قاری کا یہ استعجاب قابل معافی بھی ہے۔

پہلے ہم غصے سے دانت کچکچایا کرتے تھے، اب لطف سے ہنس پڑتے ہیں، آپ ہماری ہنسی کو مذاق نہ سمجھیے اَب بے بسی کو کوئی معزز نام دینا بھی لکھاری کا فریضہ ہے کہ نہیں؟ چلیے بات وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے شروع کی تھی، ہم واقعی اتنے پڑھے لکھے نہیں جو یونس خان بھائی جیسے اتنے بڑے بڑے کارنامے اور معرکے سر انجام دیں، یہ تراجم جیسا ثقیل اور خشک کام انہی کو ساجھے اور پھر کنفیوشس کی فکر و فلسفہ کی تعلیم کو ایسے اردو قالب میں ڈھالنا کہ ترجمہ درجہ تخلیق پہ فائز ہوجائے۔

الامان ہمیں تو اس کی پروف ریڈنگ کرتے اور اس کا مقدمہ لکھتے ہی دانتوں پسینہ آگیا۔ مگر وہ کیا ہے ناکہ آپ اسے ہماری ذاتی نالائقی کے کھاتے میں ڈال دیجیے۔ پوری عورت جاتی، امت نسواں کو نالائق سمجھ لینا؟ کچھ زیادہ نہیں ہوگیا کیا؟ دیکھیے نہ گر عورت کنفیوشس کو جنم دے سکتی ہے تو کنفیوشس بھی تو ہوسکتی ہے نا، کیا خیال ہے؟ اس آٹھ مارچ پہ بے چاری ہما شما عام عورت کی کیا اوقات، ہم اپنے تخلیق کار کو ہی صنفی عینک کے بغیر جج کرنے کا سوال لے کر کچھ دیر سوچ لیں تو کیا حرج ہے؟

اس سوال کو آپ کے حوالے کرکے آخری بات دست بستہ عرض کیے دیتے ہیں کہ کتاب بہت عمدہ ہے اور سنگی کتابوں کا یہ کاغذی پیراہن ہمیں بہت بھایا ہے۔ آپ پیراہن پہ بھی تانیثی عینک لگانے کے مجاز ہیں کہ ایسا عنوان کسی عورت کو ہی سوجھ سکتا ہے اور سب سے آخری بات یہ کہ کتاب نے ہمارے علم میں تو بہت اضافہ کیا ہے آپ بھی پڑھنے کی کوشش کیجیے گا۔ یقین مانیے آپ کا وقت اور پیسے کا ضیاع قطعاً نہیں ہو گا۔ ویسے بھی ترجمے کے حوالے سے فکشن ہاؤس ایک بڑا نام ہے جس نے اسے چھاپہ ہے۔ وہ کسی ہما شما کو چھاپتے ہی نہیں ہیں اگر یونس خان بھائی کی کتاب میں وزن نہ ہوتا تو وہ اسے کبھی نہ چھاپتے، تو ہم کہے دیتے ہیں ”سنگی کتابیں، کاغذی پیراہن“ واقعی ایک اعلی درجے کا کام ہے پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *