موسم بارہ بھی ہوتے ہیں اور 365 بھی


بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ وقت وقت کی بات ہوتی ہے ’جیسے وقت کی مختلف کیفیات بیان کی گئی ہیں ایسے ہی کچھ اصول اور فرو موسم پہ بھی لاگو ہوتے ہیں۔ ریل کی پٹڑی کی مانند دونوں ساتھ ساتھ پہلو بہ پہلو چلتے چلے جاتے ہیں۔ گئے وقتوں کی بات ہے ایک دوست سے بات چیت کے دوران موسم کا ذکر چھڑا تو موصوف نے اپنے جواب سے ایسی کیفیت پیدا کر دی کہ نہ تو غصے میں منہ سے تھوک اُڑے اور نہ ہی ہنسنے کی وجہ سے پیٹ میں بل پڑیں۔

وقت اور موسم بھی ایسے ہی لازم و ملزوم ہیں جیسے وقت اور حال ہیں۔ وقت اچھا چل رہا ہو تو آپ کے کتے کے مرنے پہ بھی لوگ افسوس کرنے آ جائیں گے اور اگر وقت برا چل رہا ہو تو یہی کتا اونٹ پہ بیٹھے شخص کو بھی کاٹ جاتا ہے۔ وقت کی رفتار اپنے اثرات چھوڑنا نہیں بھولتی اسی طرح موسم کا تغیروتبدل بھی ان مٹ نقوش چھوڑ جاتا ہے ’موافق موسم آنے پہ رنگِ حناء کھل تو سکتا ہے لیکن وہ پہلے والی چاشنی اور جاذبیت مگر نہیں رہتی۔

وقت اگر ایک دفعہ پُھررر سے اُڑ جائے تو اس کی واپسی اتنی ہی ناممکن ہوتی ہے جتنا تیر کا واپس کمان میں جانا ’موسم کی شادابی کے قصے بھی موسم کے ساتھ بتدریج بدلتے رہتے ہیں اور گاہے بگاہے ان میں انفرادی ذوق کی تسکین کی خاطر کئی طرح کی جدت پسندی شامل کر دی جاتی ہے۔ جو کہ کسی حد تک ضروری بھی ہے ورنہ تو موسم بھی بیرنگ خط کی طرح ہی لگے کہ نہ تو خوشی سے وصول کیا جا سکے اور نہ ہی ٹھکرایا جا سکے۔

موسم اپنے تصرف میں صرف وقت کا ہی مرہونِ منت نہیں ہوتا یہ زباں دانی اور زورمرّہ سے بھی مستفید ہوتا رہتا ہے۔ کبھی محبوب سے وصل کے لمحوں کو بہار کے موسم سے تشبیہ دی جاتی ہے تو کبھی ہجر میں آنکھوں کے آنسو برسات کے استعارے کا روپ لے لیتے ہیں۔ غرض یہ کہ حالات و واقعات اور ان کے بیان کرنے کا طریقہ بھی موسم کے تعین میں بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ رند کی مستی کے عالم کا اندازہ کون لگائے ’مجذوبی کیفیت کا حال کون جانے۔

معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان کے علاوہ بھی اگر کتب پڑھی جائیں تو وہاں 4 سے زائد موسموں کا ذکر ملتا ہے اور ان سب پر زیادہ تر اوپر بیان کی گئی توجیہہ صادق آتی ہے۔ اس لئے اگر کہیں 12 یا اس سے بھی زیادہ موسموں کا ذکر ملے تو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اندازہ لگائیے کہ 12 مختلف موسموں میں کیسی کیسی کیفیات سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا ہوگا اور جن کے ہاں کم موسموں کا رواج ہے وہ شاید اپنی حسیات میں بھی کمزور واقع ہوئے ہیں۔

ذکر چلا تھا دوست کے جواب کا تو موصوف دسمبر کی یخ بستہ ہواوَں میں بھی ہمیں گرمی کی نوید سنا رہے تھے اور ہر ممکنہ پہلو سے ان کے جواب کے بارے سوچا لیکن کچھ بن نہ پڑا۔ آخرکار حضرت نے خود ہی عقدہ کھولا کہ ’موسم تو اندر کا ہوتا ہے‘ ۔ تو سب تمہید اس جملے کے لئے تھی کہ جو موسم اندر من میں چل رہا ہو گا وہی باہر نظر آئے گا۔ جیسے کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کی سڑکوں پہ لال لال کی فریاد تھی ’ایسے ہی کسی کو 12 موسم بھی نظر آ سکتے ہیں۔ اور کوئی اپنے ذوق و شوق سے 365 موسم بھی دیکھ سکتا ہے۔

یہ سب تو اپنے اپنے من کی بات اور من کی مراد پہ منحصر ہے ’یہ تو من چلے کا سودا ہے‘ ۔ یہ دو لوگوں کا مختلف بھی ہو سکتا ہے اور خوش قسمتی سے یکساں بھی۔

Facebook Comments HS